انٹرویو کیلئے دوست سے سوٹ لیا، تنگ پتلون کی وجہ سے دُکھی چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے کمرے میں داخل ہوا اور بڑے اعتماد سے”گڈ مارننگ“ کہا

انٹرویو کیلئے دوست سے سوٹ لیا، تنگ پتلون کی وجہ سے دُکھی چہرے پر مصنوعی ...
انٹرویو کیلئے دوست سے سوٹ لیا، تنگ پتلون کی وجہ سے دُکھی چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے کمرے میں داخل ہوا اور بڑے اعتماد سے”گڈ مارننگ“ کہا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:111
 اب مسئلہ یہ تھا کہ میرے پاس ڈھنگ کے کپڑے ہی نہیں تھے جب کہ سب کہہ رہے تھے کہ وہاں سوٹ پہن کر جاؤ گے تو انٹرویو پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ابا جان کا سوٹ تھا تو صحیح،لیکن ماشاء اللہ ان کا قد کاٹھ اتنا بڑا تھا کہ ان کے سوٹ میں میرے ساتھ میرے دونوں بھائی بھی گھس جاتے تو تب بھی جگہ بچی رہتی۔
آخر میرے جگری یار اور ہم جماعت اشرف مرزا نے پیش کش کی کہ اس کے پاس ایک سوٹ پڑا ہے میں اس کو استری کروا کر پہن لوں۔ خیال بُرا نہیں تھا لیکن میرا یہ دوست بچپن سے ہی تھوڑا سا کمزور رہ گیا تھا، قد میں بھی وہ مجھ سے کچھ چھوٹاتھا،اس لیے اس کا کوٹ تو کسی حد تک پہن لیا، اس کے بٹن بند نہیں ہو رہے تھے اس لیے کھلے چھوڑ دئیے، ٹخنوں تک پہنچتی پتلون کو بھی ہم دونوں نے ہمت اور جرأت کر کے کسی نہ کسی طرح کھینچ تان کر چڑھا ہی لیا اور بند بھی کر لیا حالانکہ میرا سانس رک رہا تھا لیکن مجبوری تھی ایک دو گھنٹوں کی بات تھی یہ وقت بھی بہرحال گزر ہی جانا تھا۔ ٹائی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا، ابا جان سے بندھوا لی تھی۔ 
انٹرویو کے لیے گیا تو وہاں میرے جیسے بے شمارمستقبل کے کرنل اور جنرل سوکھے منہ اور پھٹی آنکھوں کے ساتھ اِدھر اُدھر بھاگے پھر رہے تھے۔ کچھ تجربہ کار لوگ تھے جو پہلے بھی ان رہ گزاروں سے آبلہ پاء نکلے تھے، وہ قہقہے لگارہے تھے اور یہ بتا کر کہ وہاں کیا پوچھا جائے گا، ہمارے علم میں اضافہ کر رہے تھے۔کچھ انگلش میڈیم کے لڑکے بھی آئے تھے،وہ فر فر انگریزی بولتے تھے اور جو جی میں آتا تھا کہتے تھے اور بڑا خوب کہتے تھے۔جبکہ ہم جیسے لوگ پہلے اردو میں سوچتے پھر جب تک اس کا انگریزی ترجمہ کرتے توبڑی دیر ہو چکی ہوتی تھی اور بات کہیں کی کہیں نکل جاتی۔
فوج والے بڑے چالاک تھے، جیسے ہی ایک امیدوار کا انٹرویو ختم ہوتا تو وہ اس کو دوسرے دروازے سے ایک اور ہال میں جا کر بیٹھنے کا کہتے تاکہ وہ باہر نکل کر پرچہ آؤٹ نہ کر دے۔ اس طرح جو پیچھے رہ جاتے ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوتا تھا سوائے اس کے کہ وہ چپ چاپ بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کریں اور مسلسل دعائیں مانگیں۔
بالآخر فوجی وردی میں ملبوس ایک حوالدار نے میرا نام پکارا اور میں اپنی تنگ پتلون کی وجہ سے دُکھی چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے ایک قد رے تاریک کمرے میں داخل ہوا اور بڑے اعتماد سے”گڈ مارننگ“ کہا۔ حالانکہ بعد میں پتہ لگا کہ مارننگ تو 12 بجے ہی ختم ہو گئی تھی اور اب تو اچھی خاصی سہ پہر شروع ہونے والی تھی۔ لیکن جیسا کسی نے بتایا تھا میں نے ہو بہوویسا ہی کیا تھا۔ جب ذرا صحیح طرح نظر آنا شروع ہوا تو ارد گرد کا تفصیلی جائزہ لیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ انٹرویو کرنے والوں میں ایک انگریز بھی بریگیڈیر کی وردی پہنے بیٹھا نیلی نیلی آنکھوں سے مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ بعد میں ابا جان نے بتایا کہ ابھی تک پاک فوج میں کچھ ایسے بھی گورے آفیسر ہیں جنہوں نے پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ بھی انھی میں سے ایک تھا۔انھوں نے اسکا نام بھی بتایا تھا جو اب یاد نہیں رہا۔
ابتدائی سوال و جواب اور میری شناخت کی تصدیق کرنے کے بعداسی گورے بریگیڈیرنے پوچھا کہ ”ٹم آرمی میں کائے کوجانا مانگٹا ہے؟“ میں نے رٹا رٹایا جواب دے دیا کہ ”میں اپنے وطن کی خدمت کرنا چاہتا ہوں“- گورا بولا ”ویل! ٹم کسی اور طرح بھی اپنا وٹن کا کھدمت کر سکٹاہے آرمی میں کیوں جانے کو مانگٹا؟“ اس اچانک حملے کا جواب مجھے یاد نہیں کروایا گیا تھا، آئیں بائیں شائیں شروع کی تو ایک سفید مونچھوں والے آفیسر نے پوچھا، ”تمہارے والد آرمی میں ہیں نا“، ان کی یونٹ اور عہدہ پوچھا۔ میں نے بڑے فخر سے بتایا اور ساتھ ہی انھوں نے مجھے باہر جانے کا اشارہ کیا۔بس یہی کل انٹرویو تھا میرا، پاس ہونے کے امکانات بہت کم تھے۔ شکوہ اس بات کا بھی تھا کہ جو میں یاد کر کے گیا تھا وہ تو انھوں نے پوچھا ہی نہیں تھا، ان کو شاید جلدی تھی، کیونکہ دوپہر کے کھانے اور قیلولے کا وقت بھی نکلا جا رہا تھا جو فوجی آفیسر کبھی نہیں نکلنے دیتے۔
میں دوسرے انٹرویو شدہ امیدواروں کے ساتھ بیٹھ گیا اور درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔ میں کچھ نروس سا تھا، جب کہ زیادہ تر لوگ بہت مطمئن تھے اور کچھ تو نامناسب لطیفے سنا کر نہ صرف یہ کہ خود پھیکا پھیکا ہنستے بلکہ ہمارے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتے۔ تاہم مجموعی طور پر وہاں بڑا گمبھیر سا ماحول بنا ہوا تھا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -