فٹبال سٹیڈیم میں نماز عید الاضحی کا اہتمام تھا، داخل ہوتے ہی نمازی کو پلاسٹک کا لفافہ تھما دیا جاتا تاکہ جوتے اُس میں ڈال کر اپنی نگرانی میں رکھیں 

فٹبال سٹیڈیم میں نماز عید الاضحی کا اہتمام تھا، داخل ہوتے ہی نمازی کو پلاسٹک ...
فٹبال سٹیڈیم میں نماز عید الاضحی کا اہتمام تھا، داخل ہوتے ہی نمازی کو پلاسٹک کا لفافہ تھما دیا جاتا تاکہ جوتے اُس میں ڈال کر اپنی نگرانی میں رکھیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
قسط:31
22-8-2018
”عید الاضحی“ 
جامع مسجد ”مسّی ساگا“ کے زیر اہتمام فٹ بال سٹیڈیم میں نماز کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اچھا انتظام تھا۔ داخل ہوتے ہی ایک نمازی کو ایک عدد پلاسٹک کا لفافہ تھما دیا جاتا تاکہ وہ اپنے جوتے اُس میں ڈال کر اپنی نگرانی میں رکھیں۔ اندر ایک کافی بڑا ہال ہے۔ نیچے Turf سی بچھی ہوئی ہے۔ اِس سٹیڈیم کی چھت آہنی ہے۔ وہاں دو تین جگہ بڑے پوسٹر لگائے گئے تھے جن پر درج تھا۔
We urgently need to pay off Qarze-Hasna - $435,000/-. Please donate genersouly @ 20 Dollars per person.
سب سے پہلے انتظامیہ نے اپنی سالانہ کارگزاری کی رپورٹ پڑھ کر سنائی۔ پھر نماز عید الاضحی 10 بجے ادا کی گئی۔ یاد رہے یہاں پر نماز کی جماعت کم از کم 2 دفعہ بلکہ بعض جگہ 4دفعہ بھی جماعت ہوتی ہے۔ نماز عید الاضحی کے لیے ایک کثیر تعداد مرد اور عوتوں کی دُور دراز سے یہاں پہنچی۔ 
عید الاضحی کی شام صلاح الدین کے ہاں دعوت 
شام کو مغرب کے وقت بیٹے احمد ندیم اینڈ فیملی کے ساتھ ہم میاں بیوی Brampton قصبہ میں واقع صلاح الدین کے درِ دولت پر حاضر ہوئے۔ مغرب کی نماز وہاں با جماعت لوگوں نے ادا کی۔ دوسرے مہمانوں میں اعجاز صاحب اُس کا بیٹا Sammi Ejaz جو کونسلر کے الیکشن میں حصّہ لے رہا ہے، منصب صاحب، محمد شہزاد چوہدری وغیرہ وہاں بمعہ فیملیز کے آگئے۔
بڑی ہی گرما گرم بحث جاری و ساری رہی۔ زیادہ تر اعجاز صاحب ہدفِ تنقید رہے۔ لیکن کیا مجال جو اعجاز صاحب اپنے پیروں پر پانی پڑنے دیں۔ ہر سوال کا جواب ترکی بہ ترکی دیتے رہے۔ پھر کھانا لگ گیا۔ کھانا بڑا لذیذ تھا۔ 
کھانے میں کھیر، چاٹ، پلاؤ، مٹن کڑاہی، چکن کڑاہی، سلاد، سیخ کباب، رائتہ، مٹھائی اور بہت کچھ بعد میں چائے کا دَور چلا۔ پھر عشاء کی نماز با جماعت ادا کی اور میزبان سے رخصت لی اور سب اپنے اپنے گھروں کو چل دئیے۔ 
24-8-2018 
Islamic Centre of Canada Toronto (ICNA)
یہ مسجد عربی بولنے والے ملکوں کے زیر انتظام ہے۔ اِس کی اور شاخیں امریکہ میں بھی ہیں۔ اور یہ سب Islamic Centre of North America کے نام سے موسوم ہیں۔ چونکہ پارکنگ کے لیے وسیع جگہ مخصوص نہ تھی لہٰذا گاڑیوں کو اِدھر اُدھر سڑکوں پر پارک کیا جاتا ہے۔ ہم نے بھی گاڑی دُور سٹریٹ میں جا پارک کی۔ جہاں پہلے سے 2 گاڑیاں پارک کی ہوئی تھیں۔ 
مسجد کے اندر گئے تو جناب تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ وہ تو قسمت نے یاوری کی اور چند قدم پر ایک بھولی بسری کرسی نظر پڑ گئی۔ اُس کو اُٹھا کر کوریڈور میں جوتیوں کے پہلوں میں دراز کر کے نماز نیت لی اور بس چند ساعتوں میں نماز سے فارغ…… اپنا جوتا تلاش کیا اور گھر کی راہ لی۔ تو جناب جب نماز پڑھنے کے بعد گاڑی کے پاس پہنچے تو ”ٹکٹ“ چسپاں تھا۔ 35 ڈالر کا ٹیکہ لگ گیا کہ گاڑی نو پارکنگ ایریا میں پارک کی گئی ہے۔
اِن لوگوں نے عید الاضحی ایک دن پہلے منائی کہ سعودی عرب میں اس دن عید تھی۔ یہ لوگ چاند دیکھ کر عید نہیں مناتے۔ سعودی عرب کی پیروی کرتے ہوئے اِسی دن عید مناتے ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -