وزیراعظم محمد نواز شریف کی خدمت میں

وزیراعظم محمد نواز شریف کی خدمت میں
وزیراعظم محمد نواز شریف کی خدمت میں

  

ملک میں پرویز مشرف کی آمریت کے دوران جمہوریت کی بحالی اور شخصی ڈکٹیٹرشپ کے خاتمے کے لئے قربانیاں دینے والے نظریاتی اورمخلص لوگ آج سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ مشکل وقت میں کسی بھی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہنے والے کارکن پارٹی کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور نظریاتی لوگ سخت وقت میں بھی پارٹی قیادت کا ساتھ نہیں چھوڑتے، جبکہ مفاد پرست عناصر ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہتے ہیں ۔پاکستان میں نظریے اور اصولوں کی سیاست ختم ہو رہی ہے ۔ابن الوقتوں اور خود غرضی کی سیاست زور پکڑ رہی ہے، جس سے جمہوریت اور سیاسی جماعتیں مضبوط نہیں ہوں گی، بلکہ کمزور ہوجائیں گے اور ملک بھی ترقی نہیں کر سکے گا یہی سیاست ہمارے معاشرے کو سرطان کی طرح ختم کر رہی ہے ۔جب 14سال بعد ملک میں محمد نواز شریف وزیراعظم اور محمد شہباز شریف بھاری اکثریت سے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو نظریاتی اور قربانی دینے والے مخلص مسلم لیگیوں کا خیال تھا کہ اب انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا حکومت میں ہماری عزت ہو گی لیکن وزیراعظم محمد نواز شریف کی سوچ اب تبدیل ہو چکی ہے آج پرویز مشرف کے ساتھی اہم عہدوں پر براجمان اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔پارٹی ایک خاندان کی طرح ہوتی ہے اگر خاندان کے افراد کے ساتھ گھر کے سربراہ کا رویہ اچھا نہیں ہوتا تو وہ خاندان ٹوٹ جاتا ہے۔مسلم لیگی قیادت کا بھی پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں اور عہدیدار قیادت کے رویے کا رونا روتے نظر آرہے ہیں ۔

مجھے آج بھی ایک واقعہ یاد ہے کہ جب محمد شہباز شریف نے 2004ءمیں جلا وطنی کے بعد پہلی بار واپسی کا اعلان کیا صوبہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں سے محمد شہباز شریف کے استقبال کے لئے ایک بڑا جلوس اس وقت مسلم لیگ (ن)کے صوبائی صدر صاحبزادہ پیر صابر شاہ کی قیادت میں روانہ ہو گیا ۔راولپنڈی مندرہ کے مقام پر جب قافلہ پہنچا قافلے کے لئے راستہ بند کردیاگیا پیر صابر شاہ کو کہا گیا کہ آگے جانے کی اجازت نہیں واپس ہو جائیں تو پیر صابر شاہ نے پولیس افسر کو کہا کہ آپ ہمیں اپنے لیڈر کے استقبال سے نہیں روک سکتے ۔پولیس افسر نے پستول نکال کر کہا کہ آپ یہیں ٹھہر جائیں مزید ایک قدم آگے نہ جائیں ورنہ گولی چلادیں گے پیر صابر شاہ نے ایس پی کو کہا کہ اگر تم میں ہمت ہے تو میرا سینہ حاضر ہے گولیاں چلائیں میں پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔اس موقع پر کارکن صابر شاہ کے گرد ڈھال بنا کر کھڑے ہو گئے اور مشرف انتظامیہ کو للکارنا شروع کر دیا ۔ملک میں محمد نواز شریف وزیراعظم اور محمد شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب ہیں، لیکن پیر صابر شاہ کو بھی نظر انداز کیاگیا ہے اور پیر صابر شاہ ان نظریاتی کارکنوں کو ہمیشہ صبر کی تلقین کرتے ہیں اور صبر کا دامن اپنے ہاتھ نہیں جانے دیتے ۔

اِسی طرح مسلم لیگ(ن)کے مرکزی سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے بھی اے آر ڈی کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے جمہوریت کی بحالی کے لئے آئینی جدوجہد میں حصہ لیا اور اپنی جائیدادبھی فروخت کی، لیکن سخت دباﺅ اور لالچ کے باوجود اپنے قائد محمد نواز شریف کا ساتھ دیا اور ثابت قدم رہے، لیکن آج پرویز مشرف کے قریبی ساتھی مشیر،وزیر بنائے گئے ہیں ۔جھگڑا صاحب کو وہ عزت نہیں دی گئی جو ان کا حق بنتا تھا۔وزیراعظم محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی خدمت میں عرض ہے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ پارٹی میں مخلص لوگوں کو ترجیح دیں ابن الوقتوں اور خوشامدی ٹولے کے خول سے باہر نکلیں ۔ملک بھر میں پارٹی کو منظم اور فعال بنانے کے لئے اقدامات اٹھائیں ۔وفاقی کابینہ میں رد و بدل کریں ،کارکردگی نہ دکھانے والے وزراءکو فارغ کریں ۔ میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر وزراءکا تقرر کریں ۔

 ملک کے قومی اداروں میں بھی میرٹ کو اولیت دی جائے۔ایماندار، دیانتدارافسران کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا جائے اور قومی اداروں کے سربراہان کی تقرریاں بھی میرٹ پر کی جائیں ۔اقرباءپروری کا خاتمہ کریں۔ذاتی پسند اور ناپسند،رشتہ داری کو خاطر میں نہ لائیں ۔گڈ گورننس پر توجہ دیں ۔ناراض ساتھیوں کو راضی کریں خواہ ان کے گھروں کو بھی جانا پڑے ۔مہنگائی ، بیروزگاری کے خاتمے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ عام آدمی گیس اور بجلی کے بل ادا کرنے سے قاصر ہے ۔اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا ہے ۔لاقانونیت بڑھ رہی ہے ۔ملک اور قوم کی بہتری کے لئے منصوبے شروع کئے جائیں ۔عوام کو ریلیف فراہم کریں ۔ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے بھی منصوبے شروع کئے جائیں ۔کرپشن کا خاتمہ بھی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔کرپشن کے خاتمے کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے اور ایسی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جس سے ملک میں امن قائم ہو سکے ۔وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور فاٹا کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے ۔

قبائلی عوام نے ہمیشہ ہی مسلم لیگ کا ساتھ دیا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ سے لے کر مسلم لیگ(ن)تک ہر بار قبائلیوں نے انتخابا ت سے لے کرہر مشکل میں مسلم لیگ کا ساتھ دیا اور حال ہی میں بھی بد امنی کے باوجود جنوبی وزیرستان اور باجوڑ ایجنسی سے مسلم لیگ(ن)کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا ۔حالانکہ ان علاقوں سے روایتی طور پر مذہبی رہنماءکامیاب ہوتے ہیں اور یہاں پر مسلم لیگ کے رہنماﺅں کو جلسوں کی اجازت بھی نہیں تھی، لیکن قائد اعظمؒ سے لے کر مسلم لیگ(ن)تک مسلم لیگ سے والہانہ محبت کی وجہ سے قبائلی عوام نے مسلم لیگ سے اپنی محبت کا اظہار کیا اس کے باوجود قبائلی عوام نواز شریف کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ انہیں ایف سی آر اور بد امنی سے نجات دلائیں گے اور ان کو جائز مقام دیں گے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف خود نوٹس لے کر قبائلی عوام کی نمائندگی کرنے والے مسلم لیگی رہنماﺅں اور کارکنوں کو جنہوں نے مسلم لیگ کی خاطر مصیبتیں اٹھائی ہیں ان کو ان کا صحیح مقام دیں ۔

مزید :

کالم -