گزشتہ حکومت میں عراق کے کتنے پیسے چوری ہوئے؟ جان کر آپ کی سٹی گم ہوجائے گی

گزشتہ حکومت میں عراق کے کتنے پیسے چوری ہوئے؟ جان کر آپ کی سٹی گم ہوجائے گی
گزشتہ حکومت میں عراق کے کتنے پیسے چوری ہوئے؟ جان کر آپ کی سٹی گم ہوجائے گی

  

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور اس کے اتحادیوں نے 9/11 کے بعد عراق پر حملہ کرکے اسے تباہ و برباد کردیا لیکن بعدازاں عراق کے اپنے حکمرانوںنے بھی اس کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نیوز سائٹ ڈیلی صباح کے مطابق عراقی کمیشن آف انٹیگریٹی کے نمائندہ عادل نوری نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدر نوری المالکی کے دور میں تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی اور عراق کی بحالی کے لئے ملنے والے فنڈز میں سے 500 ارب ڈالر (تقریباً 50ہزار ارب پاکستانی روپے) چوری ہوگئے۔

مزید جانئے: خلائی جہاز کا ملبہ 13 نومبر کو سری لنکا کے قریب گرے گا، فضاء میں تباہی کی تیاریاں

عراقی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 8سال کے دوران جتنی بڑی چوری عراقی خزانے سے ہوئی ہے وہ شائد تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن ہے۔ بڑے پیمانے پر ہونے والی کرپشن کے خلاف کی جانے والی تحقیقات میں سابق وزیر دفاع ہاظم شالان، سابقہ وزیر تجارت عبدالفتح سوڈانی اور سابقہ وزیر بجلی ایحام السمارے پر بھاری مالی خوردبرد کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

سابقہ حکومت کے دیگر 53 اہم شخصیات کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ تقریباً 600 افراد کے خلاف پہلے ہی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں جبکہ سابق وزیر اعظم نوری المالکی کے خلاف تاحال ٹھوس شواہد دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ابھی ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکی۔

مزید :

بین الاقوامی -