ایک بچہ جو بغیر دماغ کے زندہ ہے، معجزاتی واقعے نے ڈاکٹر کو بھی چکرا کر رکھ دیا

ایک بچہ جو بغیر دماغ کے زندہ ہے، معجزاتی واقعے نے ڈاکٹر کو بھی چکرا کر رکھ دیا
ایک بچہ جو بغیر دماغ کے زندہ ہے، معجزاتی واقعے نے ڈاکٹر کو بھی چکرا کر رکھ دیا

  

ایڈنبرا (نیوز ڈیسک) کسی بھی ماں کے لئے اپنے بچے کے منہ سے پہلا لفظ سننا اس کی زندگی کے خوبصورت ترین لمحوں میں سے ایک ہوتا ہے لیکن سکالٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایما مرے کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی تو اس نے سوچا کہ اس کے لئے یہ لمحہ کبھی نہیں آئے گا۔ اب جبکہ یہ بچہ دو سال کا ہوچکا ہے اور اسنے پہلی دفعہ ماں پکارا ہے تو ایما کی زندگی میں تو گویا ایک معجزہ ہوگیا ہے۔

مزید جانئے: خوبصورت لڑکی کے خوفناک ارادے، ایک تصویر جس نے بڑے اسلامی ملک میں پولیس کی دوڑیں لگوادیں، بڑا خطرہ!

2013ءمیں جب اس کے ہاں ایرن کی پیدائش ہوئی تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچہ ’ہولوفروسن سیفلی‘ نامی بیماری کا شکار ہے یعنی اس کے سر میں دماغ تقریباً موجود ہی نہ تھا اور ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہ زیادہ سے زیادہ کچھ گھنٹے ہی زندہ رہ پائے گا۔ یہ خبر ملنے پر ایما کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا اور اسے اپنی دنیا اجڑتی محسوس ہوئی۔ دوسری جانب قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ ننھا ایرن نہ صرف کچھ گھنٹے زندہ رہا بلکہ کچھ دن بھی گزرگئے، اس کی سانسیں چلتی رہیں، اور اب وہ دو سال کا ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر بھی اس بات پر حیران ہیں کہ ایک بچہ جس کا دماغ تقریباً موجود نہیں ہے وہ کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔ اب اس بچے نے اپنی ماں کو پہلی دفعہ پکارا بھی ہے جس پر ایما خوشی سے بے حال ہے جبکہ ڈاکٹر سخت حیرانی کے شکار ہیں۔ سکاٹ لینڈ کے نامور ڈاکٹروں نے اس بچے کے معائنے کے بعد اسے قدرت کا حیرت انگیز کرشمہ قرار دیا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -