پاکستان میں ٹیکس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے: شیخ محمد ارشد

پاکستان میں ٹیکس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے: شیخ محمد ارشد

  

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان میں ٹیکس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہاں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد، سینئر نائب صدر الماس حیدر، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ، سابق اکنامک ایڈوائزر وزارت خزانہ ثاقب شیرانی، ڈاکٹر حاند مختار، فصیح ذکاء، ڈاکٹر اعجاز نبی، مصطفیٰ عمر اور لاہور چیمبر کے سابق صدر بشیر اے بخش سمیت دیگر ماہرین نے لاہور چیمبر میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لاہور چیمبر کے ایگزیکٹو کمیٹی اراکین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ گذشتہ کچھ سالوں سے پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار سست ہورہی ہے جبکہ جی ڈی پی گروتھ بھی تسلی بخش نہیں۔ معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کی اشد ضروت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی عمل میں سوسائٹی اور فیصلہ سازوں دونوں کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد نے کہا کہ معیشت کو درپیش زیادہ تر چیلنجز کا براہِ راست تعلق ٹیکسوں کے پیچیدہ نظام سے ہے لہذا حکومت ٹیکس سسٹم کو آسان اور کاروبار دوست بنائے اور مشاورتی عمل کو فروغ دے جیسا کہ یورپین یونین کے اراکین ممالک میں ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسیشن سسٹ میں خامیوں کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے، اگر ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر ٹیکس اصلاحات متعارف کرائی جائیں تو حکومت کے محاصل بڑھ سکتے ہیں۔

شیخ محمد ارشد نے کہا کہ لاہور چیمبر ٹیکس کلچر کی حمایت کرتا ہے لیکن ضروری ہے کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے دیگر شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 1960ء میں بہت سے ممالک پاکستان کو رول ماڈل کے طور پر اپنا رہے تھے لیکن اب صورتحال اس کے برعکس ہے اور وہ ممالک ہم سے کہیں آگے ہیں۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر الماس حیدر نے کہا کہ ٹیکس نظام کو آسان اور سادہ بناکر مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں آنے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔ ثاقب شیرانی نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے پاکستان کو مزید سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان شعبوں پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے جو ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

مزید :

کامرس -