سندھ میں گندم کے نرخ کے اثرات پنجاب پر بھی پڑنے لگے: ڈاکٹربلال صوفی

سندھ میں گندم کے نرخ کے اثرات پنجاب پر بھی پڑنے لگے: ڈاکٹربلال صوفی

  

لاہور(کامرس رپورٹر) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ’’گندم اور آٹا‘‘ کے چےئرمین ڈاکٹر بلال صوفی نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا کروایا گیا ہے کہ سندھ میں گندم کے نرخ کم یعنی 1280 اور اور پنجاب میں 1300 روپے مقرر کئے گئے ہیں ۔اس فیصلہ کے منفی اثرات پنجاب میں پڑنا شروع ہو گئے ہیں جہاں تقریبا25دنوں میں 70,000 سے زائد گندم ایشو کی جا سکی ہے اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں سرکاری گندم کا اجراء ابھی تک نہیں ہو سکا ہے جبکہ راولپنڈی ، اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ تمام مرکزی پنجاب میں بھی ہنوز گندم اجراء نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے مارکیٹ کی گندم کی قیمت پر سرکاری گندم کو پڑی رہنے دینا اور آئندہ برس تک لے کر جانا نہ صرف خزانے پر اضافی بوجھ ہوگا بلکہ اسکے صوبہ پنجاب پر مالی اثرات بھی مرتب ہونگے۔

اور گذشتہ برس کی گندم بھی خراب ہورہی ہے اور جب یہ آئندہ برس میں جائے گی تو اسکی کوالٹی کا کوئی معیار نہیں ہوگا،ڈاکٹر بلال صوفی نے وزیر اعلی پنجاب اور محکمہ خوراک کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی پالیسی کو درست کریں اور گندم کو مارکیٹ اور اپنے حالات کے مطابق 1250 روپے میں جاری کریں یا پھر سندھ کے برابر نرخ کئے جائیں ۔

مزید :

کامرس -