’’ چھوٹی سی دنیا‘‘

’’ چھوٹی سی دنیا‘‘

  

بہت شور مچا تھا جب نندی پور پاور پلانٹ نہیں چلا تھا اور اب چلا ہے تو اس پر کوئی بات ہی نہیں کر رہا ،اطلاعات کے مطابق ایک ہفتے پہلے دو ٹربائنیں آزمائشی طور پرچلائی گئی تھیں اور سوادوسو میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی تھی ، خیال تھا کہ مکمل بحالی میں ایک مہینہ لگ جائے گا مگر ایک ہفتے بعد ہی اس سے ساڑھے چار سو میگاواٹ کے قریب بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کی جانے لگی ہے۔ اس نندی پورنامی پاور پلانٹ نے بجلی سے کہیں زیادہ سیاست پیدا کی ہے، پہلے یہ سیاست مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے درمیان تھی ، کوشش تو تحریک انصاف نے بھی اس میں داخل ہونے کی مگر پھر اس پر شہباز شریف اور خواجہ آصف نے ایک دوسرے کے ساتھ سینگ پھنسا لئے، ایک وقت یہ آیا ،کہا جاتا تھا کہ وفاقی وزارت بجلی و پانی خواجہ آصف نہیں بلکہ شہباز شریف چلا رہے ہیں۔ پھر یہ سیاست میڈیا اور شہباز شریف کے درمیان شروع ہوگئی۔ اسی موقعے پر خواجہ آصف نے بھی آن دی ریکارڈ اپنا غصہ نکالا اور شہباز شریف پر طنز کیا کہ سڑکیں اور پُل بنانے اور پاور پراجیکٹ بنانے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ خواجہ آصف کی فرسٹریشن کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ، دواہم وزارتیں ہوں اور دونوں ہی میں آپ محض تماشائی ہوں، ہاں، اس ساری گرما گرمی کا فائدہ یہ ہوا کہ نندی پور چل پڑا اور اب شدید تنقید پر شرمندہ شرمندہ پھرنے والے مسلم لیگی دوست اصرار کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں جو ساڑھے تین سو ڈیم بنانے کا اعلان کیا گیا تھا،ان کا بھی سراغ لگایا جائے۔

نندی پور کے ساتھ ہی قائداعظم سولر پارک کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ تنقید یہ تھی کہ قائداعظم سولر پارک کو سو میگا واٹ کا منصوبہ بتایا گیا تھا مگر وہاں تو دن بھر میں اوسطاً ساڑھے اٹھارہ میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، اب کہاں سو میگاواٹ اور کہاں اٹھارہ میگاواٹ، سوال یہ تھاکہ باقی بیاسی میگاواٹ کیوں پیدا نہیں ہورہی اور یہ بھی کہ کیا اتنا پیسہ صرف اٹھارہ میگاواٹ کے لئے لگایا گیا تھا۔ حکومت پنجاب کی ہدایت پر نجم عادل شاہ ہم صحافیوں کے ساتھ ایک ہوٹل میں موجود تھے ، وہ غیررسمی گپ شپ میں مجھے پی ٹی وی کی ایک بہت پرانی ڈرامہ سیریل’ چھوٹی سی دنیا ‘یاد کروا رہے تھے۔ اس سیریل کا مرکزی کردار مراد علی بیرون ملک کئی سال رہنے کے بعد سندھ کے ایک چھوٹے گاؤں میں واپس آتا ہے جہاں اس کا انگریزی بولنے کا مقابلہ اجڈدیہاتی جانو جرمن سے ہوجاتا ہے۔ مراد علی اس مقابلے میں اپنی بیوی، دوستوں اور رشتے داروں کا نام لیتے ہوئے باقاعدہ اپنے گاوں کی منظر کشی انگریزی زبان میں کرتا ہے جبکہ جانو جرمن اس کے مقابلے میں صرف اے بی سی کو الٹا سیدھا اور انگریزی میں ہی ون، ٹو ، تھری پڑھتا ہے۔ گاوں والے اس مقابلے کے منصف ہوتے ہیں۔ وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ مراد علی نے اپنی بیوی سمیت دیگر لوگوں کے نام ہی اردو میں نہیں لئے بلکہ بازار جیسے اردو کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں جبکہ جانو جرمن نے خالص انگریزی بولی ہے لہذا وہ جانوجرمن کو فاتح قرار دے دیتے ہیں۔ نجم عادل شاہ شکوہ کر رہے تھے کہ پاور پراجیکٹس کی سائنس اتنی سادہ نہیں کہ ہر شخص اس پر بات کرتا پھرے۔اب سولر پلانٹ اسی وقت بجلی پیدا کرے گا جب سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہوگا، یہ صبح سات بجے بجلی کی پیداوار شروع کرے گا جو گیارہ بجے اپنے عروج پر پہنچ جائے گی اور اسی طرح تین سے چاربجے کے بعد پیداوار کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ سولر پلانٹ کسی طور بھی رات کو بجلی پیدا نہیں کر سکتا لہذا جب آپ اس کی پیداوار کو چوبیس گھنٹوں پر مساوی تقسیم کریں گے تو وہ یقینی طور پر سو میگاواٹ نہیں ہوسکتی مگر کیا یہ اہم بات نہیں کہ سولر پلانٹ میں ایندھن کا کوئی خرچ نہیں۔ رفتہ رفتہ یہ اپنی قیمت پوری کردے گا اور پھر یہ بجلی مفت ہوگی، دوسری طرف ہائیڈل پراجیکٹ بھی پورا سال اپنی پوری صلاحیت کے مطابق پیداوار نہیں دیتا۔ وہاں یہ بھی بتایا گیا کہ ملتان اور ا سکے قریب کے علاقوں میں وولٹیج اتنے کم ہوتے تھے کہ میٹر تک نہیں چلتے تھے مگر اس سولر پلانٹ کے لگنے کے بعداس علاقے میں بجلی کی کمی کی شکایت کم ہو گئی ہے۔

نندی پورچل پڑا،وہاں کرپشن کا فیصلہ نیب کر دے گا،نندی پور کا دریا عبور کرنے کے بعد اب نواز لیگ کو ایل این جی کے دریا کا سامنا ہے۔ یہ بھی تو عمران خان نے ہی کہیں سے سننے کے بعد کہا تھا کہ ایل این جی کی امپورٹ کا سکینڈل پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہو گا۔ اب اس کے جواب میں مختلف وزارتوں نے ابہام، الزامات اور اعتراضات کا جواب دینے کے لئے وضاحتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ان پاور پراجیکٹس کے حق میں بات ہو یا مخالفت میں، دونوں فریقوں کو فائدہ یہ ہے کہ تمام لوگ اپنے اپنے خود ساختہ حقائق بیان کرتے ہیں اور مخالفین کے الزامات کو رد کردیتے ہیں۔ ہم سب چھوٹی سی دنیا سیریل کے گاوں کے لوگوں کی طرح ہیں۔ ہمیں صرف بولا جانے والا سنائی دیتا ہے،اس کے سمجھ آنے اور اس کے سچ ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ہمارے سامنے سب اپنی اپنی بولی بولتے ہیں اور ہم اپنی اپنی فہم اور اس سے کہیں زیادہ اپنی اپنی ہمدردیوں کی بنیاد پر ایک کے سچے اوردوسرے کے جھوٹے ہونے کا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔مجھے توصرف اس بات کی سمجھ آتی ہے کہ لوڈ شیڈنگ ہور ہی ہے یا نہیں۔ اگر لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے تومیری نظر میں حکمران فراڈ اور اس کے دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں لیکن اگر لوڈ شیڈنگ میں کمی واقع ہوئی ہے، سردیوں کے موسم میں بھی اس اگر اس امر کے امکانات موجود ہیں کہ ملتان، لاہور، گجرات اور راولپنڈی جیسے شہروں میں سی این جی بلا تعطل اورسستے داموں ملتی رہے گی تو پھر ایل این جی کی ڈیل درست ہے اور حکمران کامیاب ہیں۔ہماری چھوٹی چھوٹی دنیائیں، ہمارے چھوٹے چھوٹے دماغوں اور ہمارے محدود محدود علموں میں پھنسی ہوئی ہیں۔ جو نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ دھڑا دھڑ پاور پراجیکٹس کا افتتاح ہو رہا ہے، جب ان کی صلاحیت کی جمع تفریق کی جائے تو یقین ہوجاتا ہے کہ ان میں سے آدھے منصوبے بھی چل پڑے تواگلے انتخابات سے پہلے لوڈ شیڈنگ کاخاتمہ ہو جائے گامگر سوال یہ ہے کہ حکمران سارے منصوبے 2017اور2018 تک کے بنا رہے ہیں، شائد ہی کوئی ایسا منصوبہ ہو جو اگلے پانچ، سات ، دس یا پندرہ برسوں تک محیط ہو ۔ کسی سیانے نے پوچھا، سیاستدان اور سٹیٹسمین میں کیا فرق ہوتا ہے، جواب ملا، سیاستدان کے سامنے اگلے انتخابات ہوتے ہیں جبکہ سٹیٹسمین کے سامنے قوم اور اس کا مستقبل ہوتا ہے۔ لگ یہی رہا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی چھوٹی سی دنیا اگلے انتخابات تک محدود ہے۔ چلیں، لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے،چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور مکمل ہوجائے، ہماری صنعتیں چلنے لگیں، بے روزگاری ختم ہونے لگے، جمہوریت کے سفر کے پہلے مرحلے میں یہ بھی کم بڑی کامیابیاں نہیں ہوں گی۔ ہمیں آمروں کے ہاتھ کی چھڑیوں اور جیب کی گھڑیوں جیسے مفاد پرستوں کے بعد سیاستدان مل جائیں تو یہی کافی ہے، امید ہے امن ، ترقی، خوشحالی اورجمہوریت کا سفر جاری رہا تو ہوسکتا ہے کچھ سیاستدان، سٹیٹس مین کے درجے پر پروموٹ ہوجائیں، تجربہ بھی توآتے آتے ہی آتا ہے۔جلدی کاہے کی ہے، کنویں کی چھوٹی سی دنیا میں رہنے والے ایک مینڈک کا سمندر کی دنیا کے خواب دیکھتے دیکھتے پیٹ ہی پھٹ گیا تھا۔

مزید :

کالم -