ایک بار پھر زلزلہ

ایک بار پھر زلزلہ
 ایک بار پھر زلزلہ

  

اکتوبر کی 26تاریخ کو آنے والے زلزلے میں ایسا ہولناک نقصان تو نہیں ہوا جس کا تجربہ 2005ء میں آنے والے زلزلے کے دوران ہوا تھا۔ قدرتی آفات کو روکنا تو کسی کے بس کی بات نہیں ہے، لیکن اس کے بعد کی صورت حال کا مقابلہ کرنا ہی قدرتی آفات کا مقابلہ کہلاتا ہے۔ دس برس قبل آنے والے زلزلہ کے اثرات آج تک محسوس کئے جاتے ہیں کیوں کہ پاکستانی حکومتیں متاثرہ خاندانوں کے لئے وہ کچھ نہیں کر سکیں، جس کی عوام حکومتوں سے توقع رکھتے ہیں۔ کچھ بھی فرق محسوس نہیں ہوا۔ لے دے کے صرف ایک ادارہ رہ گیا ہے ،جو کسی توقف کے بغیر نکل کھڑا ہوتا ہے اور وہ فوج ہے۔ اس مرتبہ تو فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پیغام دیا کہ کسی حکم کا انتظار کئے بغیر مدد کو پہنچیں۔ وہ خود بھی متاثرہ علاقوں کے دورے کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے ۔ ٹھیک ہے کہ فوج کو ضرورت کے وقت قوم کی مدد کرنا چاہئے، لیکن دیگر دوسرے وہ تمام ادارے جو قدرتی آفات کے بعد کی صورت حال میں کام کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں ، وہ کیا کر رہے تھے؟ وفاقی حکومت کے اہلکار کہاں تھے ؟

گزشتہ زلزلہ کے بعد سے بھی پاکستان میں تعمیر کی جانے والی عمارتوں کے بارے میں احتیاط نہیں برتی جارہی ہے۔ 2005ء سے قبل بھی ہم معمولی طور پر زلزلہ کا تجربہ کر چکے ہیں ۔ وہ زلزلہ 2001ء میں بھارت کی ریاست گجرات میں آیا تھا ۔ ہمارے بھی کچھ علاقے معمولی ہی سہی، متاثر ضرور ہوئے تھے ۔ یہ تصور کرنے سے بھی کپکپاہٹ طاری ہو جاتی ہے کہ اگر 26 اکتوبر کا زلزلہ کراچی میں آیا ہوتا تو یہ اونچی اونچی عمارتیں پلک جھپکتے ہی ملبے کا ڈھیر بن جاتیں۔ ہمارے ادارے کیوں نہیں عمارتوں کی تعمیر کے معاملات میں سنجیدگی اختیار کرتے ہیں۔ کیا صرف پیسہ لے کر نقشہ پاس کردینا کافی ہوتا ۔ ایک تو تعمیرات ناقص ہوتی ہیں دوسرے کسی قسم کی کوئی احتیاط نہیں برتی جاتی ۔ آزاد کشمیر میں کثیر اموات عمارتوں کی وجہ سے ہوئی تھیں ۔ بجلی اور کیبل کے تاروں کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ یہ کس بات کی نشان دہی کرتی ہے۔ اعلیٰ حکام، افسران اور اہلکار ، سب ہی غفلت کا شکار ہیں۔ انہیں علم ہے کہ کچھ ہوجانے کی صورت میں بھی ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی کیوں کہ قوم تو تباہی کا سامنا کر رہی ہوگی اور یہ لوگ ، اگر انہیں مہلت ملی تو فائلیں غائب کرنے میں مصروف ہوں گے۔ کوئی کچھ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں گردان ڈالے رہتے ہیں۔ امدادی کاموں کا بھی کوئی طریقہ کار اب تک طے نہیں ہو سکا ہے کہ زلزلہ ہو یا سیلاب، اس صورت میں کسے کیا کرنا چاہئے۔

ادارے ہوں یا افراد ، سب ہی کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہنگامی صورت حال میں انہیں کیا کرنا چاہئے ۔ زخمیوں کو ہسپتال کیسے پہنچایا جاتا ہے۔ زخمیوں کی ابتدائی مرہم پٹی کرنا کیوں ضروری ہوتا ہے۔ ہسپتال میں کیا ضرورتیں ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے تو خون کی فراہمی کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ لوگوں کو قطار در قطار کھڑا ہونا ہے، لیکن یہاں تو ہر شخص تماش بینی میں مگن رہتا ہے۔ رضاکاروں کی ضرورت تو اسی وقت پڑتی ہے ۔ شہری دفاع کے محکمہ کو اسی وقت تو سرگرم ہونا ہوتا ہے۔ کتنا مضحکہ خیر لگتا ہے جب یہ کہا جائے کہ ہسپتالوں میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تمام سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں کو ہر وقت ہنگامی صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے تیار کیوں نہیں رہنا چاہئے۔ کیا ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے لوگو ں پر یہ فرض عائد نہیں ہوتا کہ وہ کسی بھی صورت حال میں اسپتال کی طرف بھاگ کھڑے ہوا کر یں ۔ کسی اعلان یا کسی طلبی کے منتظر کیوں رہیں۔ مٹاثرین کے کھانے پینے کا ابتدائی انتظام رضاکارنہ طور پر کیو ں نہیں کیا جاسکتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ ان تمام اداروں کو متحرک کیوں نہیں کیا جاتا ہے۔ اس میں قباحت یا رکاوٹ کیا ہے۔

تعمیر نو اور متاثرین کی بحالی کا کام تو دوسرے مرحلے میں شروع ہوتا ہے۔ پاکستان میں تو 2005ء کے زلزلہ متاثرین کی بحالی کا کام نہیں ہوسکا ہے۔ سرکاری عمارتوں میں سے کم ہی دوبارہ تعمیر کرائی جا سکی ہیں۔ دُنیا ہے کہ کسی بھی آفت کے بعد ہماری مدد کے لئے دوڑ پڑتی ہے، لیکن ہم ہیں کہ دُنیا کی دی گئی اس امداد کا با مقصد تصرف نہیں کر پاتے۔ ہم دُنیا کے تجربات سے سبق بھی لینا نہیں چاہتے ہیں۔ 2010ء اور 2011ء کے سیلابوں میں ہمیں دُنیا نے کیا کچھ نہیں فراہم کیا تھا۔ حکومت کوئی فہرست جاری کرے گی کہ کس نے کیا دیا تھا ۔ 2005ء کے زلزلہ میں کس ملک نے ہماری کس طرح اور کس چیز سے مدد کی تھی۔ حکومت عوام کو بتانا چاہے گی۔ حکومت یہ بتانے کے لئے تیا رہے کہ ان آفات کے بعد عوام کی کس کس طرح کیا کیا مدد کی گئی۔ اس تماش گاہ میں یہ صرف موجودہ زلزلے تک محدود نہیں ہے۔ اس سے قبل چترال و دیگر علاقوں میں جو سیلاب آ یا اس کے بعد بھی ایسی ہی صورت حال اور سست روی دیکھنے کو ملی تھی۔ دہشت گردی کی کارروائی ہو، نقصانات ہوں، سڑک یا ریل گاڑی کا بڑا حادثہ ہو یا کچھ اور ہو ، آخر ہمارے حکمرانوں اور حکام کا رویہ ہمیں کہاں لے جائے گا۔

مزید :

کالم -