کیا شام کی خانہ جنگی کا حل قریب ہے؟ (2)

کیا شام کی خانہ جنگی کا حل قریب ہے؟ (2)
کیا شام کی خانہ جنگی کا حل قریب ہے؟ (2)

  

آپ کو یہ پڑھ کر شائد تعجب ہو کہ اسی ’’ضدی‘‘ بشارالاسد نے خانہ جنگی شروع ہونے سے بھی پہلے اپنے ملک کے مختلف سیاسی اور مذہبی دھڑوں کو مذاکرات کی دعوت دے دی( خانہ جنگی مارچ 2011ء میں شروع ہوئی تھی) صدر اسد نے شائد صدام حسین اور معمر قذافی کا انجام دیکھ لیا تھا اور ان کا اپنا خاندان بھی چونکہ گزشتہ 45برس سے اقتدار پر قابض تھا، اس لئے انہوں نے اپنے اردگرد کے حالات کا معروضی جائزہ لیتے ہوئے اپوزیشن کو دعوت دی کہ آئیے،بات چیت کے ذریعے تنازعات کا حل نکالیں۔ لیکن اپوزیشن کے وہ مذہبی اور نسلی گروپ جو اول روز سے علادیوں کے خلاف تھے، انہوں نے صدر سے ایسی آئینی اصلاحات کا مطالبہ کر دیا جنہوں نے بشارالاسد کے اندر مائل بہ نرمی صدر کو پھر سے مبدّل بہ سخت ضدی بنا دیا۔ انہوں نے اپوزیشن کے ان مطالبات کو ماننے سے انکار کرنے کے بعد ان سب گروپوں کو نشانے پر رکھ لیا۔۔۔ اور اس طرح شام کی یہ چار سالہ خانہ جنگی شروع ہو گئی۔

باغیوں کو جن بیرونی عناصر کی امداد حاصل تھی وہ عراق اور کردستان کے وہ سُنی تھے جو ایک عرصے سے اندر ہی اندر عراق اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے سنی عرب ممالک کی شکست کے بعد، پیچ و تاب کھا رہے تھے۔ ایران نے بشارالاسد کی حمائت میں لبنان کو بھی سرگرمِ عمل کر دیا اور خود بھی اپنی اسلحی اور مالی تجوریوں کے منہ کھول دیئے۔۔۔ یوں صدر اسد کا تختہ الٹنے کے امکانات دن بدن معدوم ہوتے چلے گئے۔

اس صورت حال کو دیکھ کر سعودی عرب اور خطے کے دوسرے سنی عرب ممالک جن کے پاس ایران سے زیادہ بڑی اور بھری اسلحی/ مالی تجوریاں تھیں، وہ آگے آئے اور اپنے تیل کے مغربی خریداروں کو مجبور کیا کہ وہ شام کا بھی وہی انجام کر دیں جو انہوں نے عراق اور لیبیا کا کیا تھا۔ چنانچہ داعش کی ان کامیابیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آہستہ آہستہ اسد کی حکومت کے گرد گھیرا تنگ کرتی گئیں اور اگست 2015ء کے آتے آتے شام کا صرف 20،22فیصد حصہ اس کے کنٹرول میں رہ گیا۔(نقشہ دیکھئے)

اور پھر جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں وضاحت کی ، ایران نے اسد کو بچانے کے لئے پوٹن کو آواز دی۔ تب تک روسی فضائیہ کی شام میں آمد کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ بعض تبصرہ نگاروں کا اب بھی یہی کہنا ہے کہ پوٹن نے اسد کی مدد کرکے ایک ایسی سٹرٹیجک غلطی کی ہے، جس میں تیسری جوہری جنگ کے سارے جراثیم موجود ہیں۔

اگر قارئین 20ویں صدی کی عالمی اور علاقائی جنگوں میں مغربی اتحادیوں کے کردار کا جائزہ لیں تو ان پر یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ جہاں اتحادیوں کو اپنی شکست کے آثار نظر آئے، انہوں نے گھٹنے ٹیکنے میں تامل نہ کیا۔ لیکن جہاں حریف ذرا سا بھی کمزور دکھائی دیا، اس پر اتنی تیزی اور اتنی خونخواری سے چڑھ دوڑے کہ ماضی کی جنگوں کی بربریت کی ساری مثالیں ان کے سامنے ماند پڑ گئیں۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے پہلے کے ایک دو برسوں میں اتحادیوں نے جرمنی کے بڑے بڑے شہروں پر جو بے تحاشا بمباری کی اور پھر اگست 1945ء میں جاپان پر جو ایٹم بم گرائے ان کی ہلاکت انگیزی کے سامنے منگولوں کی بربریت اور تیمور و نادر کی سفاکی پرِ کاہ نظر آتی ہے۔

افغانستان ،عراق اور لیبیا پر امریکی اور ناٹو افواج نے جو مظالم ڈھائے ان کی داستانیں ابھی کھل کر سامنے نہیں آ سکیں۔ وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کی باگ ڈور مغرب کے ہاتھوں میں ہے اس لئے ان تینوں اسلامی ممالک کو جس طرح تاراج کیا گیا اور ان کی آبادیوں پر جو ستم توڑے گئے وہ کم از کم ان مغربی سفاکوں اور ظالموں کو تو یاد تھے ۔اس لئے انہوں نے جب شام میں روسی فضائیہ کی حالیہ بھرپور مہم کے نتائج کو دیکھا اور جب داعش (ISIS) باغیوں کے ٹھکانوں پر رشین لڑاکا اور بمبار طیاروں کی پری سیژن(Precision) گولہ باری کا مشاہدہ کیا تو ان کو اپنی وہ بربریت یاد آ گئی جو ان کی ائر فورسز نے برس ہا برس تک کمزور مسلم ممالک پر روا رکھی تھی اور جس کو ان کے میڈیا نے کسی زیادہ واضح انداز سے دنیا کو نہیں دکھایا تھا۔۔۔ چنانچہ دیکھ لیجئے اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پینترا بدلنے میں دیر نہیں لگائی۔ جب دیکھا کہ ان کے دن اب پورے ہونے کو آ رہے ہیں تو پوری شکست کی جگہ آدھی شکست کو قبول کر لیا۔۔۔ آج شروع ہونے والی یہ وی آنا کانفرنس اسی آدھی شکست کا اظہار ہے!

مغرب کے یہ نام نہاد مہذب معاشرے جب کھیل بگڑتا دیکھتے ہیں تو پتھر سے موم بن جانے میں دیر نہیں لگاتے۔ ٹونی بلیئر کی معافی ( حرام زدگی) پر ذرا غور کریں کہ موصوف 2007ء تک برطانیہ کے وزیراعظم رہے۔۔۔ عراقی جنگ میں ان کے کردار کا جائزہ لیں تو آپ پر منکشف ہوگا کہ ان مہذب اقوام کی ڈکشنری میں لفظ ’’تہذیب‘‘ کا کیا مفہوم ہے!۔۔۔ ستمبر 2015ء میں شام میں رشین فورسز کی آمد اور ان کی داعش کے خلاف فضائی بمباری کا چڑھتا سورج دیکھ کر ان کے پاس دھوپ کو چھاؤں بنا کر پیش کرنے کا جب کوئی امکان موجود نہ رہا تو جمی کارٹر کو آواز دی گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ سابق امریکی صدر ایک طویل مدت سے امریکی انتظامیہ کو جو مشورے دے رہے تھے، ان پر اس وقت تک کوئی کان نہ دھرا گیا جب تک روس شامی دنگل میں نہ کودا۔۔۔۔ جمی کارٹر کی درج ذیل تحریر چشم کشا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

’’کارٹر سنٹر 1980ء کے عشرے ہی سے شام کے تنازعے کے بارے میں واشنگٹن کے ناخداؤں کو مسلسل اپنی Inputدیتا رہا اور یہ سفارشیں کرتا رہا کہ اس مسئلے کا ایک سیاسی حل جلد سے جلد تلاش کرنا ضروری ہے۔ ہمارے پے بہ پے لیکن خفیہ احتجاجات جاری رہے لیکن امریکہ کی پوزیشن یہی رہی کہ شام کے مسئلے کے حل کا اول مرحلہ صدر اسد کو عہدۂ صدارت سے برطرف کرنا ہے۔ جو لوگ اسد کو جانتے تھے ان کو معلوم تھا کہ یہ مطالبہ کبھی تسلیم نہیں کیا جائے گا لیکن گزشتہ چار برسوں سے امریکی انتظامیہ نے یہی رٹ لگائے رکھی کہ پہلے اسد کو معزول کیا جائے اور اس کے بعد کوئی اور بات کی جائے۔۔۔ لیکن افسوس یہ امریکہ کی پیشگی شرط عبث اور ناقابلِ عمل تھی۔ پھر امریکہ نے یہ کیا کہ اقوام متحدہ کے ایک سابق سیکرٹری جنرل، مسٹر کوفی عنان اور الجیریا کے ایک سابق وزیر خارجہ لخدر براہیمی کو لانچ کیا کہ صدر اسد کو سمجھائیں۔ لیکن انہوں نے بھی امریکہ، روس اور دوسری اقوام کے ناقابلِ عمل مطالبات کے سامنے ہار مان لی۔ پھر یہ ہوا کہ مئی 2015ء کو ایک اور گلوبل گروپ نے ماسکو کا دورہ کیا۔ اس گروپ کا نام (The Elders) تھا اور اس میں، میں خود بھی شامل تھا۔ ہم نے ماسکو میں جن لوگوں سے مذاکرات کئے ان میں امریکی سفیر، روس کے سابق صدر گوربا چوف، سابق وزیراعظم پرائما کوف، موجودہ روسی وزیر خارجہ سر گئی لاروف، ماسکو میں کارنیگی سنٹر کے عہدیدار اور کئی دوسرے تھنک ٹینک شامل تھے۔ روسیوں نے اپنے اور اسد حکومت کے مابین دیرینہ تعلقات کا تذکرہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ خود روس کو داعش سے کتنا بڑا خطرہ لاحق ہے کیونکہ روس کی 14فیصد آبادی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ دریں اثناء میں نے صدر پوٹن سے بھی کئی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ شام کے مندوبین سے بھی ان کی دو ملاقاتیں حالیہ ایام میں ہو چکی ہیں۔ لیکن برف پگھلنے کی صورت نظر نہیں آتی۔ پوٹن نے یہ بھی بتایا کہ اب آخری حل یہی رہ گیا ہے کہ امریکہ، روس، ترکی، ایران اور سعودی عرب کے نمائندے مل کر بیٹھ جائیں اور اس مسئلے کا ایک ایسا جامع حال نکالیں جو سب کے لئے قابلِ قبول ہو۔۔۔ اس میں داعش کا کوئی وفد شامل نہیں ہوگا۔۔۔ ایران اور روس بشارالاسد کو سپورٹ کریں گے جبکہ باقی تین ملک (امریکہ، ترکی اور سعودی عرب) شام کے حریف گروپوں کو۔۔۔ میں نے پوٹن کی منظوری کے بعد یہ تجویز واشنگٹن کو ریلے کردی۔‘‘

’’کارٹر سنٹر نے اپنے طور پر گزشتہ تین برس میں شام کے اس تنازعے کے سلسلے میں جو اعدادوشمار اکٹھے کئے ہیں اور طرفین کی مسلح تنظیموں کی جو لوکیشینیں اور سلاح بندیاں ہمارے پاس موجود ہیں، ان کو دیکھ کر قطعاً یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی ایک فریق بھی اس قابل ہے کہ وہ مسئلے کا کوئی فوجی حل نکال سکے گا۔‘‘

جمی کارٹر نے ان مذاکرات میں ایران کی طرف سے پیش کئے گئے درج ذیل چار نکات کا ذکر بھی اپنے کالم میں کیا:

1۔ تمام جنگی کارروائیاں روک دی جائیں۔

2۔دمشق میں ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے جس میں سارے فریقوں کی نمائندگی ہو۔

3۔شامی آئین میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں۔

4۔ملک میں عام انتخابات کرائے جائیں۔

فریقین نے جب یہ شرائط تسلیم کرلیں تو طے پایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ’’پرچم تلے‘‘ درج بالا چاروں تجاویز کو ایک کانفرنس میں پیش کیا جائے جس میں یہ پانچوں فریق (امریکہ، روس، ایران، ترکی، سعودی عرب) شامل ہوں۔ ان کے علاوہ دوسرے وہ ممالک بھی شرکت کریں جن کے مفادات کسی نہ کسی صورت اس مسئلے کے حل سے بالواسطہ یا بلاواسطہ وابستہ ہوں۔۔۔ اب یہ کانفرنس آج (30اکتوبر 2015ء کو ) وی آنا(آسٹریا) میں شروع ہورہی ہے۔۔۔ ہمیں اس کے اعلامیے کا انتظار کرنا ہوگا!

آخر میں، میں اپنے قارئین کی خدمت میں ایک بار پھر اپنی وہی گزارش پیش کرنا چاہوں گا کہ جنگ اور سیاست دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور جیسا کہ کلازوٹز نے کہا تھا: جنگ، سیاسی پالیسی ہی کی تکمیل کی ایک صورت ہے، مگر ایک مختلف انداز سے‘‘۔۔۔ پاکستان کی سویلین قیادت کو جنرل کلاسیوٹز کا یہ مقولہ ذہن نشین کرنے کے لئے اس کی اس معرکتہ الآرا کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے جس کا نام On War ہے۔۔۔ جنگ کو کیسے روکا جا سکتا ہے، جنگ کے امکانات کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے، سیاستدانوں اور فوجیوں کا انٹر ایکشن کس پیمانے کا ہو کہ ملک کی ہمہ جہت ترقی اور خوشحالی کا ضامن بن سکے، عسکری لغت میں کیموفلاج اور Deceptionکے کون کون سے روپ ہیں اور کس روپ کو کب بے نقاب کرنا اور کب زیرِ نقاب رکھنا ہے۔۔۔ ان سوالوں کے علاوہ درجنوں ایسے سوالات اور بھی ہیں جو صرف اور صرف جنگوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے حاصل ہو سکتے ہیں۔۔۔ ملٹری ہسٹری ایک ایسا آئینہ ہے جس میں نہ صرف زمانہ ء حال بلکہ زمانہ ء ماضی کے اہم نقوش بھی ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں اور ان کو دیکھ اور سمجھ کر مستقبل کی پلاننگ آسان تر ہو جاتی ہے!۔۔۔چنانچہ سٹوری کا مارل یہی ہے کہ سویلین قائدین اور بیورو کریٹس حضرات کو ملٹری ہسٹری کا مطالعہ کرنا چاہیے(ختم شد)

مزید :

کالم -