دومنٹ کی وارننگ

دومنٹ کی وارننگ
 دومنٹ کی وارننگ

  

پاکستان میں ہر دروازہ نوٹس لینے کی چابی سے کھلتا ہے۔ اگر یہ چابی گم جائے تو ہر دروازہ نہ صرف بند رہتا ہے، بلکہ آنے والوں کو اذیت ناک صورتِ حال سے بھی دوچار کر دیتا ہے۔ ملک میں خوفناک زلزلہ آیا تو سرکاری اداروں نے اپنے دروازے اس وقت تک نہ کھولے جب تک وزیراعظم یا وزرائے اعلیٰ نے صورت حال کا نوٹس نہیں لے لیا۔ صرف ایک فوج ہے جو اپنے خود کار نظام کے تحت کام کرتی ہے اور کوئی واقعہ ہو جائے تو بروقت اپنی ذمہ داری نبھاتی ہے۔ وہ وقت نجانے کب آئے گا جب سارے سول ادارے بھی اپنی ذمہ داریاں بروقت نبھانا شروع کریں گے۔ صوبے سے لے کر یونین کونسل کی سطح تک حکومتی نظام موجود تو ہے، لیکن کام نہیں کررہا۔ اس بار بھی زلزلے کے بعد اس نظام نے اس وقت تک کام شروع نہیں کیا، جب تک میڈیا نے دہائی نہیں دی یا وزیراعظم و وزرائے اعلیٰ متحرک نہیں ہوئے۔ اس قسم کے نظام سے ہم آفات کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ تو آفات کو مزید بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ ہم نے ادارے پر ادارے تو قائم کر دیئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نام سے ایک محکمہ 2009ء کے زلزلے کے بعد قائم کیا گیا تھا، اس وقت اس ادارے کے بارے میں بہت سے بلند بانگ دعوے کئے گئے تھے، لیکن اب جب دس سال بعد دوبارہ زلزلہ آیا ہے تو اس محکمے نے پھر انگڑائی لی ہے۔ بالاکوٹ کا نیا شہر بنانے کی ذمہ داری بھی اس کی تھی، مگر دس سال بعد بھی بالاکوٹ کے نئے شہر کی پہلی اینٹ بھی نہیں رکھی گئی۔

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے زلزلے کے بعد بھرپور امدادی سرگرمیوں کا کام فوراً شروع کر دیا۔۔۔ کیا ان کا شکریہ ادا کرنا بنتا ہے؟ کیا فوج کو ملک میں آنے والے زلزلوں یا آسمانی آفات کے وقت کسی شکریے یا تعریف کی خاطر کام کرنا چاہیے؟ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے فوج کی حوصلہ افزائی ضرور کی جانی چاہیے تھی، لیکن شکریے کا لفظ استعمال کرنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے فوج پاکستان کی نہیں ،بلکہ اس کے ساتھ پاکستان کا تعلق رسمی تکلفات پر مبنی ہے۔اداروں کو کام کرنا چاہئے، مگر کسی صلے یا شان کے لئے نہیں، بلکہ ملک و قوم کی خدمت کے لئے، جیسا کہ فوج کرتی ہے۔ اب تو امریکی جیالوجیکل سروے نے بھی اس امر کی نشاندہی کر دی ہے کہ پاکستان ان علاقوں میں شامل ہے، جہاں زلزلے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ جب 2005ء کا زلزلہ آیا تھا تو اس قسم کی پیش گوئیاں تب بھی کی گئی تھیں، لیکن کسی نے بھی ان پر کان نہیں دھرے۔

زلزلے کے بعد نقصانات سے نمٹنے کے لئے ایسا انفراسٹرکچر تیار کر لینا چاہیے تھا جو ایسے حالات میں کام آتا ہے، مگر افسوس اس ضمن میں کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ ریسکیو آپریشن کے لئے بھی فوج کو بلانا پڑتا ہے اور تعمیر و بحالی کے کام بھی فوج کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔ اگرسب کام فوج نے ہی کرنے ہیں تو این ڈی ایم اے جیسے ادارے بنانے اور ان پر کروڑوں روپیہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی طرف سے متاثرین کی امداد کا جو پیکیج سامنے آیا ہے، وہ خلاف حقائق ہے۔ 2لاکھ روپے سے ایک کمرہ نہیں بنتا، یہاں سینکڑوں مکانات زمین بوس ہو گئے ہیں، ضرورت اس امر کی تھی کہ این ڈی ایم اے جیسے اداروں کو یہ ٹاسک دیا جاتا کہ وہ نقصانات کا تخمنیہ لگائیں اور جس کا جتنا نقصان ہوا ہے، اس کے مطابق اس کے لئے زرِ تلافی تجویز کریں۔ ایسا تو ہوا نہیں، اب سب کچھ تقسیم کرنے والوں کی صوابدید پر ہے ،وہ معمولی نقصان والے کو بھی 2 لاکھ دیں گے اور جن کا زیادہ نقصان ہوا ہے ،انہیں بھی، جو نا انصافی ہے۔

قصور ہمارے حکمرانوں کا نہیں، انہوں نے ہی نوٹس لینے کا حکمران کلچر متعارف کرایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم نوٹس کے بغیر ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اب ذرا آپ اس لمحے کے دو منٹوں کو یاد کیجئے جن میں زلزلہ جاری رہا۔ وہ کیا لمحے تھے، جب پوری قوم توبہ استغفار پڑھ رہی تھی۔ ہر کوئی اللہ تعالیٰ سے رحم کی اپیل کر رہا تھا اور سب اپنے گناہوں کی معافی مانگنے میں مصروف تھے ۔ ان دو منٹوں میں ہر شخص کو پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکتی محسوس ہو رہی تھی۔ سب اللہ تعالیٰ کی موجودگی کو دل سے مان چکے تھے اور یہ التجا کر رہے تھے کہ مولا اس بار زندہ رہنے کا موقع دے دے، پھر کبھی تیری حکم عدولی نہیں کریں گے، لیکن صاحبو ان دو منٹوں کے بعد جب زمین تھمی، سب کچھ اپنی جگہ پر آکر رک گیا، جھٹکے تھم گئے، اُن کی یاد رفتہ رفتہ بھولنے لگی تو ہم سب اپنی اپنی ڈگر پر چل نکلے۔ سب نے اپنا اپنا خنجر اُٹھایا، تہذیب، اخلاقیات، مذہب اور اپنے آئین کی چیر پھاڑ کرنے نکل کھڑے ہوئے۔۔۔پھر وہی رشوت کی گرم بازاری، وہی جھوٹ و مکر و فریب ،غرض سبھی کچھ واپس لوٹ آیا، اللہ تعالیٰ نے دو منٹ کے لئے نوٹس لیا تھا تو سب اپنی اپنی جگہ سیدھے ہو گئے تھے، لیکن جونہی وقت گزرا، سب نے پھر اپنے آپ کو اس کے فرمان کو اس کی پکڑ کو اور اس حقیقت کو بھلا دیا کہ وہ جب چاہے زمین کو میز پر پڑی ہوئی پلیٹ کی طرح ہلا سکتا ہے ۔

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن میرا دل یہ کہتا ہے کہ موجودہ زلزلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے ایک وارننگ تھی۔ سدھر جانے اور نا فرمانی سے باز آ جانے کی وارننگ۔ یہ وارننگ نہ ہوتی تو زلزلہ پورے ملک میں نہ آتا۔ زلزلہ عموماً چند شہروں یا علاقوں تک محدود ہوتا ہے، جیسا کہ افغانستان اور بھارت کے چند شہروں تک محدود رہا،لیکن ہمارے ہاں تو پورا ملک ہل گیا، کاغان سے لے کر کراچی اور کوئٹہ تک کوئی بھی شہر ایسا نہیں تھا جو زلزلے سے محفوظ رہا ہو۔ پوری قوم استغفار پڑھتی گھروں سے باہر نکل آئی تھی، گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم سب کو براہ راست وارننگ مل گئی ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اس وارننگ سے انکار نہیں کر سکتا۔ کیا ہم اب بھی اس کے نافرمان بندے بنے رہیں گے؟ کیا ہمارا معاشرہ اسی طرح غریب دشمنی، ظلم، مفاد پرستی، بدی و بدکاری کا منبع بنا رہے گا؟ کیا ہم اس وارننگ سے کوئی سبق حاصل نہیں کریں گے؟ یہ سب سوالات کم از کم مجھے تو ہر وقت اپنی لپیٹ میں لئے رکھتے ہیں۔

ہم پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہتے ہیں، کبھی اسے دنیا کا وہ پہلا ملک قرار دیتے ہیں، جو اسلام کے نام پر ایک نظریئے کے تحت حاصل کیا گیا۔ یہ سب دعوے، یہ سب باتیں اس وقت حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہیں، جب مظلوم انصاف کے لئے خود کو جلا لیتے ہیں، جب لڑکیوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور وہ انصاف لینے تھانے جائیں تو پولیس والوں کی درندگی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ کیسا اسلامی معاشرہ ہے کہ جہاں غریب کے لئے الگ اور امیر کے لئے الگ قانون ہے۔ جہاں کوئی امیر زادہ کسی کو سرعام بھی قتل کر دے تو سزا سے بچ جاتا ہے، جہاں حکومتی وزیروں پر یہ الزام لگتے ہیں کہ مجرموں نے اُن کے ایما پر مخالفین کو قتل کیا ہے۔ ہم اسلام کے وہ دعویدار ہیں جو اپنے نبیؐ کے فرمان بھلا بیٹھے ہیں۔ ہم اور تو کیا کرتے، معاشرے میں حصول انصاف کو بھی یقینی نہیں بنا سکے،حالانکہ ہمارے آخری نبیؐ نے سب سے زیادہ زور اسی بات پر دیا تھا۔ ان سب باتوں کی موجودگی میں اگر ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے زلزلے کی صورت میں ہمیں ایک وارننگ دی ہے تو یہ ہماری نہ صرف غفلت ہو گی، بلکہ ہٹ دھرمی بھی قرار پائے گی۔ ہمارے حکمرانوں کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ وہ اس قوم کو کب تک جھوٹے وعدوں ، جھوٹی تسلیوں اور کاغذی اقدامات کے ذریعے دھوکہ دیتے رہیں گے؟۔۔۔ کچھ خوفِ خدا تو انہیں بھی کرنا چاہئے۔ آج کے حکمران کس طرح چین کی نیند سوتے ہیں؟ کیا انہیں حضرت عمرؓ کی یہ بات یاد نہیں کہ میرے عہد میں اگر کوئی کتا بھی دریائے فرات کے کنارے بھوکا مر گیا تو مَیں اپنے رب کو کیا جواب دوں گا۔ ان کے عہد میں تو انسان بھوک اور ناانصافی سے مر رہے ہیں، یہ کیا جواب دیں گے؟

مزید :

کالم -