کمانڈو کا بیان اور رانا ثناء اللہ کی اخلاقی حیثیت!

کمانڈو کا بیان اور رانا ثناء اللہ کی اخلاقی حیثیت!
کمانڈو کا بیان اور رانا ثناء اللہ کی اخلاقی حیثیت!

  

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی، والا مسئلہ ہے، انتخابات کا سیزن ہو تو سب معاملات پیچھے چلے جاتے ہیں اور بات ان انتخابات ہی کے حوالے سے ہونے لگتی ہے۔ آج کل بلدیاتی انتخابات کا غلغلہ ہے۔ لاہور ان بارہ اضلاع میں شامل ہے جہاں پہلے مرحلے میں انتخابات ہونا ہیں، بلدیاتی انتخابات تو یوں بھی گلی محلے کے ہیں اور اب یونین کمیٹیوں / یونین کونسلوں میں وارڈ بھی بنائے گئے ہیں، چیئرمین اور وائس چیئرمین کا پینل ہے، اس کے لئے پوری یونین کمیٹی/ یونین کونسل حلقہ انتخاب ہے لیکن جنرل کونسلر کے لئے اس مین چار وارڈ بنائے گئے ہیں اور ہر وارڈ سے ایک کو منتخب ہونا ہے۔ چیئرمین، وائس چیئرمین کا بیلٹ پیپر ایک ہی ہے اور جو ووٹ دونوں میں سے کسی ایک کو کاسٹ ہو گا وہ دوسرے کے لئے بھی شمار ہو جائے گا، جبکہ جنرل کونسلر وارڈ کے لحاظ سے منتخب ہوگا، یوں یہ انتخاب تھوڑی سی پیچیدگی لئے ہے اور کونسلر کے لئے امیدوار حضرات کو رائے دہندہ کو سمجھانا پڑتا ہے۔

اب محفل یاراں میں بات تو مقامی انتخاب کی ہوتی ہے لیکن بڑھ کر صوبے اور ملک کی سیاست تک چلی جاتی ہے۔ گزشتہ روز پارک میں جہاں مچھلی کی دعوت کا ذکر ہو رہا تھا وہاں محترم صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ بھی زیر بحث تھے اور مجموعی رائے یہ تھی کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لینا چاہیے اور پھر تفتیش کرنا چاہیے۔ یہ بات فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ملزم نوید کمانڈو کے اعترافی بیان کی روشنی میں کہی گئی اور کہا گیا کہ اب معلوم ہوگا کہ انصاف ہوتا ہے یا نہیں؟ قتل کی وارداتوں کے ایک ملزم نوید کمانڈو نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ اس نے بھولا گجر کو کلاشنکوک کا برسٹ مار کر موت کے گھاٹ اتارا، رانا ثناء اللہ صوبائی وزیر قانون ہیں، ان کے خلاف اتنا واضح الزام تو چودھری شیر علی کے الزامات کی روشنی میں گرفتاری کے لئے کافی ہے، عدالت نے اس ہدایت کے ساتھ تاریخ دے دی کہ کمانڈو کے بیان کی روشنی میں نئے سرے سے تفتیش کی جائے اور ایس پی درجہ کے پولیس افسر ہی کریں، یوں معاملہ تحقیق و تفتیش کے لئے واپس چلا گیا، عدالت میں ہونے والے اس بیان کی خبر کے بعد عوام کو ایک نیا شغل مل گیا۔ اب بات رانا ثناء اللہ کی ہوتی ہے۔ جنہوں نے الزامات سے انکار کیا ہے۔

محفل یاراں میں کہا جا رہا تھا، جمہوریت ہے تو اس کے کچھ آداب بھی ہوتے ہیں، اس سنگین الزام کے جواب میں ’’چل جھوٹا‘‘ کہہ دینا کافی نہیں، رانا ثناء اللہ کو فوری طور پر مستعفی ہو کر شامل تفتیش ہونا چاہیے کہ ان کے وزیر ہوتے ہوئے آزادانہ تفتیش تو نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی کہا گیا کہ ذوالفقار علی بھٹو بھی تو اعانت مجرمانہ کے الزام میں پھانسی لگائے گئے تھے ، اب واضح الزام لگا ہے تو رانا ثناء اللہ کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے کہ ایک شخص نے عدالت میں بیان دیا اور نتائج کے اعتبار سے بڑا سنگین معاملہ ہے، کمانڈو نے بہت ہی واضح طور پر قتل کی سازش کا انکشاف کیا ہے، اس کی روشنی میں ملزم رانا ثناء اللہ کو جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور از خود تفتیش کے لئے پیش ہونا چاہئے۔ محفل سیر صبح میں کہا جا جا رہا تھا کہ اگر اس مُلک کے منتخب وزیراعظم کو زیر دفعہ109 سزا ہو سکتی اور ان کو تختہ دار پر بھی لٹکایا جا سکتا ہے، تو رانا ثناء اللہ کے خلاف تفتیش کیوں نہ غیر جانبداری سے ہو، ان کو بھی گرفتار کیا جانا چاہئے کہ نوید کمانڈو نے واضح طور پر ان کا نام لے کر بتایا ہے کہ یہ سب جو کچھ بھی ہُوا ہے رانا ثناء اللہ کے کہنے پر ہُوا، اب جس شخص نے عدالت کے روبرو اعتراف کیا تو کیا اس کے بیان کو یونہی چھوڑ دیا جائے، صبح والے سبھی اس بات پر متفق تھے کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ ہونا چاہئے کہ بیان واضح ہے۔

جہاں تک رانا ثناء اللہ کا تعلق ہے تو ان کا جواب پہلے والا ہی ہے۔ کیوں مستعفی ہوں؟ ایک مجرم کے بیان پر ہی میرے خلاف محاذ آرائی ہوگی؟ انہوں نے اس بیان کو بھی جھوٹ ہی قرار دیا ہے۔رانا ثناء اللہ عرصہ سے الزامات کی زد میں ہیں ان کے خلاف طالبان کے ایک گروہ کی سرپرستی کا الزام بھی لگایا جاتا ہے، حتیٰ کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف مسلسل دہراتی چلی آ رہی ہیں اور اب ان کا مطالبہ بھی یہی ہے۔صبح کی اس محفل میں واضح اکثریت مسلم لیگ(ن) کے حامی حضرات کی ہے اور اس کے بعد تحریک انصاف والے اور ایک بٹ صاحب جیالے ہیں۔ یہ اتفاق ہے کہ آج سبھی یہ چاہتے تھے کہ رانا ثناء اللہ کو وزارت سے الگ کیا جائے کہ بیان ایک عدالت کے سامنے دیا گیا، اس کے بعد تو ان کو گرفتار کرنا چاہئے۔ ایک دِل جلے نے یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دی ، سہاگن وہ جسے پیا چاہے، رانا صاحب کو تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے وزارت سے الگ(برائے نام) کیا گیا تھا اور پھر اسی وزارت پر فائز ہیں۔ اگر غیر جانبداری اور اختیار کے بغیر تفتیش ہوئی تو ایک واضح بیان کو بھی جھٹلا دیا جائے گا، رانا ثناء کوئی ذوالفقار علی بھٹو سے بڑے نہیں، جن کو109(اعانت مجرمانہ) کے تحت تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اور ان کو ایسے بیانات سے پہلے ہی گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں تو کرتے رہیں گے ہو گا وہی جو پیا چاہے گا اور پیا تو رانا صاحب ہی کو چاہتے ہیں۔

مزید :

کالم -