پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ

پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ

  

پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے پولنگ کل(31اکتوبر) ہو رہی ہے۔ دونوں صوبوں میں یہ انتخاب تین مرحلوں میں مکمل ہوں گے، الیکشن کمیشن نے پولنگ کے دن کے لئے ہر قسم کے انتظامات مکمل کر لئے ہیں، پنجاب کے بلدیاتی الیکشن پولیس کی نگرانی میں ہوں گے، الیکشن کمیشن نے فوج کی تعیناتی کے متعلق اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے تاہم اگر کہیں ضرورت پڑی تو فوج کو طلب کیا جا سکے گا، ووٹ ڈالنے کے لئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ دکھانا ضروری ہو گا، شناخت کے لئے کوئی دوسری دستاویز قابلِ قبول نہیں ہو گی، جس ووٹر کے پاس اصل شناختی کارڈ نہیں ہو گا وہ ووٹ نہیں ڈال سکے گا۔ پولنگ کا وقت بڑھا کر10گھنٹے کر دیا گیا ہے۔ صبح ساڑھے سات بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک ووٹ ڈالے جا سکیں گے۔ پنجاب میں ہر ووٹر کو دو، جبکہ سندھ میں تین بیلٹ پیپر جاری کئے جائیں گے، الیکشن پنجاب کے12اضلاع اور سندھ کے آٹھ اضلاع میں ہو رہے ہیں۔پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا یہ پہلا مرحلہ بڑے ہفت خواں طے کرنے کے بعد آیا ہے، جو بلدیاتی ادارے جنرل پرویز مشرف کے دور میں قائم ہوئے تھے ان کی مدت 2009ء میں ختم ہو گئی تھی، اصولاً تو بلدیاتی انتخابات کا تسلسل اُسی طرح قائم رہنا چاہئے تھا جس طرح عام انتخابات کا ہوتا ہے، وقتِ مقررہ پر انتخاب ہوتے رہتے تو2009ء کے بعد2013ء میں دوسرے انتخابات بھی ہو چکے ہوتے، لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں اِس سلسلے کو دراز تر کرتی رہیں اور حیلوں بہانوں سے انتخابات جس ممکن حد تک ملتوی کئے جا سکتے تھے اس حد تک کئے جاتے رہے، یہاں تک کہ معاملہ عدالتوں کے روبرو جا پہنچا جہاں مقدمات کی سماعت کے بعد بھی حکومتوں نے اپنے اپنے انداز میں یا انتظامی مشکلات کی بنیاد پر انتخابات کرانے سے معذوری ظاہر کی، آئینی ضرورت پوری کرنے کے لئے اب بھی یہ انتخابات سپریم کورٹ کے حکم پر ہی ہو رہے ہیں، گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر معاملہ حکومتی صوابدید کا ہوتا تو وہ شاید اب بھی انتخابات کے بغیر ہی گزارا کرتی رہتیں۔

بلدیاتی ادارے جمہوریت کی بنیادی نرسری ہے، اِن اداروں سے تربیت پا کر سیاسی کارکن آگے بڑھتے ہیں اور پھر صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے الیکشن میں حصہ لیتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جو بلدیاتی انتخابات ہوئے اُن میں منتخب ہونے والے بہت سے سیاسی رہنما بعد میں قومی سیاست میں نمایاں ہوئے، حتیٰ کہ وزیراعظم کے عہدے تک پہنچے۔ بلدیاتی انتخابات باقاعدگی کے ساتھ ہوتے رہتے تو نہ صرف یہ ادارے مضبوط و مستحکم ہوتے اور لوگوں کے شہری مسائل اُن کے قریبی علاقوں میں ہی حل ہو جاتے، بلکہ اس عرصے کے دوران نئی قیادت کو اُبھرنے کے مواقع بھی میسر آتے، بہرحال اب انتخابات ہو رہے ہیں تو امید کرنی چاہئے کہ مقررہ مدت کے دوران اگلے انتخابات کی باری بھی آئے گی، اور اب جو لوگ منتخب ہو کر اِن اداروں میں پہنچیں گے وہ اپنے ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر اپنے حلقہ انتخاب کے مسائل حل کرنے میں زیادہ دلچسپی لیں گے، بلدیاتی اداروں کے ارکان اگر چاہیں تو وہ ترقیاتی کاموں ، سڑکوں، گلیوں، سیوریج کی تعمیر بہت بہتر انداز میں کرا سکتے ہیں۔ یہ رقوم جو ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوتی ہیں بنیای طور پر عوام کی اپنی رقوم ہیں اور اُنہی کے ٹیکسوں کے ذریعے جمع ہوتی ہیں۔ یہ تمام رقوم اگر دیانتداری سے خرچ ہوں، تعمیراتی کام تعمیر کے مقررہ معیار کے مطابق ہوں، فنڈز کی خورد بُرد نہ ہو، تو بہت تھوڑے وقت میں نچلی سطح پر گلیوں محلوں کی حالت سنور سکتی ہے اور صفائی ستھرائی کی حالت بھی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ناقص تعمیراتی کام کی وجہ سے سڑکیں بار بار نہ ٹوٹیں تو نئی نئی سڑکیں بنتی رہیں اور بار بار پرانی سڑکوں کی مرمت پر فنڈز نہ لگانے پڑیں۔

یہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر منعقد ہو رہے ہیں اور بڑی تعداد میں سیاسی جماعتیں ان میں حصہ لے رہی ہیں، آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد بھی یہ انتخابات لڑ رہی ہے، انتخابی مہم اگرچہ مجموعی طور پر بہتر رہی اور امیدواروں نے اپنی سرگرمیوں کو پُرامن طور پر آگے بڑھایا اور ووٹروں سے رابطے کے لئے جلسے اور کارنر میٹنگیں وغیرہ کیں تاہم یہ افسوسناک امر بھی سامنے آیا کہ لاہور اور فیصل آباد سمیت بعض جگہوں پر تشدد اور فائرنگ کے واقعات بھی ہوئے، جن کے نتیجے میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ورکر یا اُن کے انتخابی امیدوار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، یہ امر بہت ہی افسوسناک ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کی پیدا کردہ کشیدگی کے نتیجے میں انسانی جان جیسی انمول اور قیمتی متاع ضائع ہو جائے، الیکشن کی مہم میں جذبات کا پارہ اس حد تک نہیں چڑھنا چاہئے کہ اس کے نتیجے میں اشتعال پیدا ہو اور پھر اس کشیدہ ماحول کی وجہ سے جانی نقصان ہو، اِن انتخابات کے نتیجے میں جو کچھ بھی حاصل ہو جائے، دیکھا جائے تو وہ انسانی جان کا نعم البدل تو بہرحال نہیں ہے، اس مہم کے دوران جو لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اُن کے والدین عزیز و اقارب اور دوست احباب کے لئے ایک مستقل کرب کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے، خصوصاً بعض ایسے لوگ دُنیا سے چلے گئے جو اپنے والدین اور بچوں کا واحد سہارا تھے۔

اس ساری ابتر سیاسی صورت حال کا تقاضا ہے کہ سیاسی کارکن ہر حال میں پُرامن رہیں اور کسی صورت میں مشتعل نہ ہوں، نہ کسی دوسرے کے لئے اشتعال انگیزی کا باعث بنیں، سیاسی ورکروں کا تعلق جس جماعت سے بھی ہو اُن کا فرض ہے کہ وہ اپنی بات تحمل و اطمینان سے کریں اور خود میں دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ اور برداشت پیدا کریں، باہم الزام تراشی سے گریز کریں، تعمیری اور مثبت بات کریں جو منتخب ہو جائے اُس کی فتح اور اپنی شکست کو کھلے دل سے تسلیم کریں،اگر کسی حلقے میں چار چھ امیدوار کھڑے ہیں، اُن کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے یا وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں اُن کا فرض ہے کہ وہ تہذیب کے دائرے میں رہ کر بات کریں، خواہ مخواہ مخالفین کی پگڑیاں نہ اُچھالتے پھریں ان امیدواروں میں سے کامیاب تو بہرحال ایک ہی ہو گا، جیتنے والے کو بھی عالی ظرف ہونا چاہئے اور مخالفین کی زندگیاں اجیرن کرنے کی روش اختیار نہیں کرنی چاہئے، بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ تو کل مکمل ہو جائے گا، اگلے دو مراحل کی تکمیل کے بعد ادارے وجود میں آ جائیں گے اور اپنا کام شروع کر دیں گے،اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ ادارے اپنے فرائض کس طرح ادا کرتے ہیں اور منتخب ہو کر ان اداروں میں عوام کی نمائندگی کرنے والے اُن کا حق نیابت کس طرح ادا کرتے ہیں، جو ارکان خدمت کو شعار بنائیں گے وہ ووٹروں کی نظر میں معتبر ہوں گے اور آئندہ بھی اُن کے منتخب ہونے کے امکانات ہوں گے، جو حقِ نمائندگی ادا نہ کر سکے اُن کے دوبارہ منتخب ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے، ہماری دُعا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا یہ پہلا مرحلہ اور اگلے دونوں مراحل بخیرو خوبی مکمل ہوں۔ پولنگ والے دن امن و امان رہے اور لوگ کسی خوف کے بغیر ووٹ ڈالیں جمہوریت اسی طرح آگے بڑھ سکتی ہے۔

مزید :

اداریہ -