سرکاری ہسپتالوں پر وزیراعلیٰ پنجاب کی نظر

سرکاری ہسپتالوں پر وزیراعلیٰ پنجاب کی نظر
سرکاری ہسپتالوں پر وزیراعلیٰ پنجاب کی نظر

  

صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور وہ شخص انتہائی خوش نصیب ہے جو کبھی کسی بیماری کا شکار نہیں ہو۔ پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک انسان کو چھوٹی بڑی بیماریوں سے واسطہ پڑتا ہے، لیکن یہ بھی ایمان ہے کہ کوئی بیماری ایسی نہیں، جس کا علاج نہ ہو۔وسائل یافتہ اور اشرافیہ مریض تو مُلک کے بڑے سے بڑے جدید اور پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کرا سکتے ہیں یا مہنگے علاج کیلئے وہ بیرون مُلک دُنیا کے اعلیٰ ترین ہسپتالوں میں جانے کے متحمل ہو سکتے ہیں، لیکن عام مریضوں کو علاج معالجہ کے لئے سرکاری ہسپتالوں سے ہی رجوع کرنا پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقہ کے مریضوں کی بہت بڑی تعداد علاج کے لئے روزانہ سرکاری ہسپتالوں /مراکز صحت کارخ کرتی ہے، جنہیں طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے سرکاری سطح پر وسیع بنیادوں پر اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف عام آدمی کی بھلائی اور اسے زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے ہمہ وقت متفکر رہتے ہیں اور ان کی معمول کی مصروفیات میں زیادہ تر وقت غریب افراد کے مسائل حل کرنے کے لئے فلاحی و ترقیاتی پالیسیوں پر عمل درآمد کرانے میں گزرتا ہے تاکہ ایسے فلاحی منصوبوں کو آگے بڑھایا جا سکے جن کی بدولت وہ سکھ و چین کی زندگی گزار سکیں۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف عوامی بہبود و ترقی کے تمام محکموں کو جدت کے ساتھ مستحکم بنانے کے لئے انتھک جدوجہد میں مصروف عمل ہیں اس سلسلے میں ان کے ویژن پر عمل درآمد میں کافی حد تک کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں،لیکن بہت سی جگہوں پر ابھی بگاڑ باقی ہے جسے دور کرنے کے لئے سوچ بچار میں کمی نہیں،مگر بدقسمتی ہے کہ قومی خدمت کے لئے سرکاری اداروں کے رویوں کو مثبت رُخ کی طرف موڑنے میں دقت ہو رہی ہے، کیونکہ فرائض کی احسن انداز میں انجام دہی کے لئے نیک نیتی اور دیانت داری شرط اول ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے دیگر شعبوں کی ترقی و اصلاح کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت کے استحکام اور لوگوں کو علاج معالجہ کی وسیع وجدیدسہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ اس سلسلے میں شعبہ صحت میں حکومتی اقدامات کو مریضوں تک پہنچانے کے لئے مانیٹرنگ کے ہمہ جہت نظام پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب خود بھی مختلف سرکاری ہسپتالوں کے اچانک دورے کے لئے اصلاح احوال کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصور کے اچانک معائنے کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب نے بعض بدانتظامیوں اور غیر معیاری صفائی کا سخت نوٹس لیا اور تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت پنجاب کی طر ف سے سرکاری ہسپتالوں کو وسیع وسائل کی فراہمی کے باوجود مریضوں تک ان کے ثمرات نہ پہنچنا ستم ظریفی ہے ۔انہوں نے محکمہ صحت کے بعض افسران کی سخت سرزنش بھی کی اور یہ غصہ ایک فطری عمل تھا، کیونکہ شعبہ صحت پر گہری توجہ اور بڑی محنت کے باوجود اگر محکمہ کے افسران اعلیٰ نظم ونسق اور سروس ڈلیوری میں کوتاہی کریں تو بڑا دُکھ ہوتا ہے ۔وزیراعلیٰ کے اس دورے کے بعد حکومت پنجاب کی طرف سے ایک بار پھر صوبہ کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے سربراہوں کو حکمنامہ جاری کر دیا گیا ہے کہ جس میں اولین ہدایت یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں وطبی مراکز کا ظاہری منظر اور نقوش سے عمارت صاف ستھری، خوبصورت، لان سرسبز اور خوشنما‘ ویٹنگ ایریاز باسہولت اورلوگوں کی رہنمائی کیلئے سائن بورڈ آویزاں ہونے چاہیں۔

شعبہ ایمرجنسی ہمہ وقت تمام ترطبی سہولتوں سے آراستہ،فری ادویات کی فراہمی یقینی اور ادویات کی فہرست نمایاں جگہ پر آویزاں کرنے، چالو حالت میں ایمبولینس کی موجودگی،ایکسرے، الٹرا ساؤنڈ،ای سی جی، سی ٹی سکین،ایم آر آئی،لیبارٹری اور ڈینٹل یونٹ کو فنکشنل رکھنے،میڈیکل آفیسرز اور ماہرین ڈاکٹرز کی دستیابی‘ بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے سٹاف کی حاضری، بیڈ شیٹس، کمبلوں اور دیگر سٹور آئٹمز کی خاطر خواہ تعداد میں موجودگی اور ویکسین کی حفاظت کے لئے کار آمد کولڈ چین کے علاوہ بلا تعطل بجلی کی سپلائی، واٹر سپلائی وسیوریج سسٹم اور دیگر یوٹیلٹی سروسز درست اور تمام فرنیچر، دروازے، کھڑکیاں، شیشے اور دیگر فٹنگز درست حالت ہونے سمیت باتھ رومز ‘ وارڈز اور دیگر شعبوں میں صفائی کی صورت حال کو اعلیٰ معیار کے مطابق بنایا جائے،کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کسی بھی وقت کسی بھی سرکاری ہسپتال کا اچانک معائنہ کر سکتے ہیں۔ حکومت پنجاب نے ان ہدایات پر عمل کرنے اور اعلیٰ نظم و نسق کو یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ افسران کو بھی فیلڈ میں بھیج دیا ہے، جبکہ ڈی سی اوز کو بھی انسپکشن کی ڈیوٹیز تفویض کی گئی ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ہاسپٹل واچ پروگرام کے تحت سرکاری ہسپتالوں کو اچانک چیک کرنے کے لئے کمشنرز/ ڈی سی اوز کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جو خصوصی طور پر ایمرجنسی کے شعبوں میں جاکر مریضوں اوران کے لواحقین سے ہسپتال کی کارکردگی کے بارے میں باتصویر دریافت کرتے ہیں اور وہاں ادویات،سٹاف،ایمبولنس ودیگر طبی سہولتوں کی موجودگی کے بارے میں رپورٹس موبائل فون کے اینڈرائیڈ ایپلیکیشن سسٹم کے ذریعے حکومت پنجاب کو بھجوا رہے ہیں تاکہ سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کو عوامی توقعات کے مطابق بنایا جا سکے۔

علاوہ ازیں رورل ہیلتھ سنٹرز اور بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لئے محکمہ صحت کے افسران کو متحرک رکھنے کے ساتھ ریٹائرڈ فوجیوں پر مشتمل بھرتی کئے گئے مانیٹرنگ سٹاف کی طرف سے بھی ملازمین کی حاضری،ادویات کی دستیابی، طبی مشینری کے چالوحالت میں ہونے اور عمومی انتظامی صورت حال کے بارے میں رپورٹس حکومت پنجاب کو ارسال کی جا رہی ہے، جو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ذریعے مرتب کی جاتی ہیں۔ ان اقدامات کی بدولت دیہی عوام کوان کے گھروں کے قریب طبی سہولیات فراہم کرنے میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے کیونکہ مانیٹرنگ سٹاف کی طرف سے کسی بھی سنٹر پر مخصوص ادویات میں سے کسی دوائی کی عدم دستیابی، عملہ کی غیر حاضری یا کسی دیگر بدانتظامی کے بارے میں رپورٹ کا فوری نوٹس لیا جاتا ہے اور متعلقہ افسران کو جواب دہ ہونا پڑتا ہے ۔اس دوہرے بلکہ تہرے مانیٹرنگ سسٹم کے بعد حکومت پنجاب مانیٹرنگ کا ایک مزید مضبوط اور مربوط نظام لانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ سرکاری ہسپتالوں کا مکمل طور پر قبلہ درست ہو سکے ۔عوام کو علاج معالجہ کی آسان اور بہتر سہولیات فراہم کرنے کے یہ اقدامات وزیراعلی پنجاب کی گہری دلچسپی و سنجیدگی ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ہر حالت میں ایسے خرابیوں کو دور کرنے کا پختہ عزم کئے ہوئے ہے،جو صحت کے شعبہ میں حکومتی اقدامات تک آسان رسائی کی راہ میں حائل ہیں۔ان کی یہ خواہش اور کوشش ہے کہ کسی غریب مریض کی اس وجہ سے جان نہ چلی جائے کہ اسے دوائی نہیں ملی یا علاج کی سہولت حاصل نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے ایمرجنسی شعبوں میں میڈیکل سروسز کو مزید مستعد اور جامع بنایا گیا ہے، جس کے تحت مریض کی ضرورت کی مہنگی سے مہنگی دوائی اسے مفت میسر آ رہی ہے۔ خدانخوانستہ کوئی کسی حادثے کا زخمی ہو یا کسی شخص کی اچانک طبیعت خراب ہو تو اسے سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں پہنچنے پر تمام تر طبی سہولیات مفت فراہم کی جارہی ہیں ۔ موجودہ حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈز کو ہنگامی مریضوں کو سنبھالنے کے بے حد قابل بنا دیا ہے اور ایمرجنسی میڈیکل سروسز پر عوامی اعتماد کایہ معیار ہے کہ اگر کسی وسائل یافتہ فرد کو بھی حادثہ پیش آجائے یا اچانک بیماری کا حملہ تو وہ بھی پہلے سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی سے ہی رجوع کرتا ہے، کیونکہ ایسی میڈیکل سروسز کسی بڑے سے بڑے پرائیویٹ ہسپتال میں موجود نہیں ۔ارشاد ربانی ہے کہ ’’جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویہ اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی‘‘اﷲ تعالی کے اس حکم پر عمل پیرا ہو کر ہمیں دکھی انسانیت کی خدمت میں آگے بڑھ کر فرائض انجام دینے چاہئیں ۔عام مریضوں کو علاج معالجہ کی خاطر خواہ سہولیات فراہم کرنے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب وسیع اقدامات کر رہے ہیں جو کہ حکومت کی ذمہ داری کے علاوہ ایک نیک عمل بھی ہے لہٰذا محکمہ صحت کے ملازمین اس عظیم انسانی خدمت کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت سنوارنے کا ذریعہ تصور کریں۔

مزید :

کالم -