سیکولر بھارت ہار گیا

سیکولر بھارت ہار گیا
سیکولر بھارت ہار گیا

  

بھارت تیزی سے ہندوازم کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کو اس طرف دھکیلنے میں بی جے پی، شوسینا اور آر ایس ایس کے علاوہ دیگر انتہا پسند تنظیموں کا ہاتھ ہے جو سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت بھارت کو ان افکار سے دور لے جانا چاہتے ہیں جس کی بنیاد گاندھی اور پنڈت نہرو کے علاوہ ان کے دیگر ساتھیوں نے رکھی تھی۔سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کی کتاب کا افتتاح 12 اکتوبر کو ممبئی میں ہونا تھا اس کا انتظام سدھیندر کللرنی نے کیا تھا۔ شو سینا نے نہرو سینٹر میں ہونے والے اس پروگرام کو گڑ بڑ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ حالانکہ مہاراشڑکی سرکار نے کہا تھا کہ وہ پروگرام کی مکمل حفاظت کا بندوبست کرے گی۔ یہی بات مہاراشڑ سرکار نے غلام علی کے غزل پروگرام کے لیے کہی تھی لیکن اس پروگرام کو بھی ڈر کے مارے انتظامیہ نے روک دیا اور سرکار کچھ نہیں کر سکی۔ حالانکہ چیف منسٹر کی کرسی بی جے پی کا آدمی بیٹھا ہوا ہے۔ لیکن ممبئی پر راج تو شو سینا کا ہے۔ شو سینا نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ چناؤ میں ہار گئی لیکن داداگیری میں جیت گئی۔ پچھلے ہفتے پاکستانی خاندان کو رات فٹ پاتھ پر گزارنی پڑی۔ کیونکہ ویزہ ہونے کے باوجود پورے شہر میں کوئی ہوٹل ان کو ٹھہرانے کے لیے تیار نہ ہوا۔ راجستھان (جودھ پور) عنایت علی کی فیملی اپنے رشتہ داروں کے ہاں چالیس دن کے ویزے پر بھارت گئی تھی۔ وہ حاجی علی کی درگاہ سے فیض حاصل کرنے اور اپنے چودہ سالہ بیٹے کی خواہش پوری کرنے کے لیے ممبئی گئے تھے۔ مگر تلخ یادیں لے کر واپس آئے۔ بھنڈی بازار، محمد علی روڈ اور ممبئی سنٹرل کے کم و بیش چالیس ہوٹلوں نے پاکستانی ہونے کے باعث کمرہ دینے سے انکار کر دیا۔

پاکستان اور بھارت کے مختلف حلقوں کو یہ خوش فہمی تھی کہ بھارت ایک سیکولر ریاست ہے جہاں ہر شخص کو اپنے عقیدے کے تحت زندگی بسر کرنے کے تمام مواقع حاصل ہیں۔ لیکن انہیں اس حقیقت کا ادراک ہی نہیں تھا کہ بھارت کبھی بھی سیکولر ریاست تھا اور نہ کبھی بن پائے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت ذات پات میں بٹا ہوا ایک ایسا ملک ہے جہاں اعتدال پسندی کا تصور محال ہے۔کانگریس نے پنڈت نہرو کی قیادت میں سیکولر ازم کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام رہے تھے وہ سترہ سال بھارت کے منتخب وزیر اعظم رہے۔ اس دوران بھارت کی اقلیت خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ پر تشدد سلوک کیا گیا۔ جس میں نیچی ذات کے ’’دلت‘‘ بھی شامل ہیں۔ لیاقت علی خان اور نہرو کے مابین اقلیتوں کے تحفظ کے سلسلے میں جو تاریخی معاہدہ ہوا تھا اس کی وجہ بھی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے قتل و غارت گری کے واقعات تھے۔

2002ء میں گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی سے قبل بابری مسجد گرانے والے انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں کئی ہزار مسلمان مرد، عورتیں اور بچے قتل ہوئے۔ ان کے املاک کو لوٹا گیا اور آج بھی اجود ھیا میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد محرومی کی زندگی گزار رہی ہے۔بھارت کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب سچر نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے علاوہ تمام اقلیتیں خوف کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ یہاں تک کہ معاشی طور پر مسلمان دلتوں یعنی نچلی ذات کے ہندوؤں سے بھی زیادہ بدتر زندگی گزر رہے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ تصور کرنا کہ بھارت ایک سیکولر ریاست ہے۔ انتہائی بے بنیاد بات ہے اور اب بی جے پی کی حکومت کے دوران یہ حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ بھارت بڑی سرعت کے ساتھ ایک ہندوملک بنتا جا رہا ہے۔ جہاں مذہبی انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے جو اقلیتوں کے سلسلے میں خصوصاً مسلمانوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کے بڑھتے ہوئے واقعات جن میں پی سی بی کے چیئر مین شیر یار خان کی ممبئی میں بی سی بی کے چیئر مین سے ملاقات نہ ہوئی۔ پاکستانی فنکاروں کو بھارت میں پرفارم نہ کر نے دینا اور وسیم اکرم، شعیب اختر اور علیم ڈار کو دھمکی دینا کہ وہ بھارت چھوڑ دیں۔ واضح اشارہ ہے کہ بھارت میں مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔

بھارت میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے نامور ادیبوں کا مرکزی حکومت کے خلاف کھل کر میدان میں آجانا اور اپنے سرکاری اعزازات اور تمغے بطور احتجاج واپس کرنا معمولی واقعہ نہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھارتی حکومت نے معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔اس وقت بھارت حکمرانوں کا طرز عمل پہلی صدی عیسوی میں روم کے شہنشاہ نیرو کی یاد تازہ کر رہا ہے۔ اٹلی کے شہر روم کو 64 عیسوی میں زبردست آگ لگی اور پورا شہر چھ دن آگ کے شعلوں میں جلتا رہا۔ مگر بادشاہ سلامت اس آفت کی گھڑی میں بانسری بجاتا رہا۔پوری دنیا میں بھارت کی بدنامی ہوئی اور یہ تاثر گیا کہ سب سے بڑی جمہوریت ، سیکولر ازم اور عدم تشدد کے فلسفہ کے علمبردار ملک میں انسانی جان سے زیادہ جانور کی جان کو اہمیت دی جا رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ صدر پر ناپ مکھر جی کو مجبوراً ایک بیان جاری کرنا پڑا۔ جس میں انہوں نے اہل ملک کو خبردار کیا کہ ایسے واقعات سے ملک کی عالمی سطح پر بدنامی ہو رہی ہے۔ مگر سچ یہی ہے۔ مٹھی بھر انتہا پسند ہندوؤں نے سیکولر بھارت کے منہ پر کالک لگا دی۔

مزید :

کالم -