پولیس میں خواتین کا کوٹہ محض کاغذی کارروائی ، مجموعی تعداد ایک فیصد سے کم

پولیس میں خواتین کا کوٹہ محض کاغذی کارروائی ، مجموعی تعداد ایک فیصد سے کم

  

لاہور(ملک خیام رفیق)خواتین کا کوٹہ کہاں گیا۔پولیس میں خواتین کی تعداد 10کی بجائے ایک فیصد نکلی۔ملک بھر میں صرف ایک خاتون کو تھانے کا ایس ایچ او تعینات کیا گیا۔ملک کی نصف آبادی کو بری طرح نظر انداز کرتے ہوئے پولیس میں ملازمت کے مواقع انتہائی کم دئے جاتے ہیں۔ ملک میں خواتین پولیس افسران کی تعداد صرف 3ہزار کے قریب ہے جو کہ کل پولیس فورس کی 0.94فیصد ہے۔بلوچستان میں خواتین پولیس ملازمین (0.74%) جبکہ پنجاب اور سندھ میں خواتین افسران کی تعداد بالترتیب (1.2%) اور (0.61%) ہے۔ خیبر پختونخوا میں خواتین پولیس افسران کی تعداد صرف 438 ہے۔اسی طرح اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں بھی صورت حال تسلی بخش نہیں ۔ وفاقی دارالحکومت میں پولیس فورس میں خواتین افسران اندراج کی شرح اور گلگت بلتستان بالترتیب 1.55 فیصد اور 3.01 فیصد ہے ۔تمام صوبائی اور وفاقی پولیس محکموں کے صرف فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میں تقریبا 150 خواتین ہیں۔ جو کہ کل طاقت کا 9.68 فیصد ہے۔ خواتین کے لئے 10فیصدنشستیں مخصوص کی گئیں ہیں جبکہ پنجاب میں خواتین کا کو ٹہ 15%ہے۔ملک میں پولیس کی مجموعی نفری 3لاکھ کے لگ بھگ ہے۔جبکہ خواتین کی پولیس میں تعداد تقریبا 3ہزار ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارکراچی کے تھانہ کلفٹن میں کسی خاتون کومردوں کے تھانے میں ایس ایچ او تعینات کیا گیاہے ۔ایس ایچ او کلفٹن غزالہ پروین سید 1994میں سندھ پولیس میں اے ایس آئی کی حیثیت سے بھرتی ہوئی تھیں۔ انہوں نے شہداد پور میں پولیس کی تربیت حاصل کی اور 2003ء سے ایس ایچ او ویمن پولیس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ ایس ایچ او غزالہ متعدد جرائم پیشہ افراد کو گرفتار بھی کر چکی ہیں اور ان کی تعیناتی کے بعد جرائم میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔پولیس ذارئع کے مطابق ایس ایچ او کو پولیس مقابلے کر نے پڑتے ہیں اس کے علاوہ جلسے جلوسوں پر بھی ڈیوٹی کر نی پڑتی ہے،ریڈ کرنے ہو تے ہیں اور لڑائی جھگڑے کی جگہ پر حالات کنٹرول کرنے کے لیے عوام پر تشدد کرنے کے علاوہ شخصیت سے بھی قانون توڑنے والوں کو خوف زدہ رکھنا ہو تا ہے جو کہ خاتون کے لیے مشکل ہو تا ہے اس لیے عام تھانوں میں خواتین کو ایس ایچ اولگانے سے گریز کیا جا تا ہے۔

مزید :

علاقائی -