کسانوں کا زرعی قرضہ حکومت ادا کرے گی ، زلزلہ متاثرین کی دوبارہ آباد کاری میں مدد فراہم کرینگے ؛ وزیر اعظم

کسانوں کا زرعی قرضہ حکومت ادا کرے گی ، زلزلہ متاثرین کی دوبارہ آباد کاری میں ...

  

 داسو(آن لائن) وزیر اعظم نواز شریف نے داسو کے کسانوں کے زرعی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 4 کروڑ روپے گرانٹ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امداد انسانی جانوں کا نعم البدل نہیں ،غمزدہ متاثرین کے دکھ بانٹنے کیلئے حاضر ہوا ہوں،حکومت متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی ،داسو کے بے گھر افراد کو دوبارہ اپنے گھروں میں آباد کریں گے،متاثرین زلزلہ کی بحالی کیلئے صوبائی حکومت کی بھر پورتعاون کررہے ہیں،داسو ڈیم کی زمین کا مسئلہ جلد حل کرادوں گا،یہاں کا علاقہ بہت خوبصورت ہے لیکن تعلیم کی کمی ہے ،وفاقی حکومت سکول ،کالجز ،ہسپتال اور انفراسٹرکچر کے ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھائے گی،مقامی لوگوں کوروز گار دینے کیلئے پاور منصوبوں میں بھرتی کیا جائیگا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ روزداسو میں زلزلہ متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ داسو میں حالیہ زلزلہ سے 8 افراد جاں بحق ہوئے ہیں ،بے گھر ہونے والے افراد کا حال احوال پوچھنے کیلئے ذاتی طور پر حاضر ہوا ہوں اور امدادی پیکیج دینے آیا ہوں،وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ متاثرین کی تصدیق اور امداد کی تقسیم میں شفافیت کے لیے3 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ،امدادی رقوم کی فراہمی کا عمل پیر سے جمعرات تک مکمل کیا جائیگا ، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت داسو میں زرعی قرضوں میں جکڑے کسانوں کیلئے 4 کروڑ گرانٹ فراہم کرے گی تا کہ کسان زرعی قرضوں کی ادائیگی کر سکیں،انہوں نے کہا کہ تعلیم کی کمی دیکھنے میں آئی ہے ،تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور سہولیات فراہم کرنا حکومت کا فرض ہے، داسو میں نئے سکول ،کالجز اور ہسپتال تعمیر کئے جائیں گے ،مقامی لوگ اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کو بھی تعلیم حاصل کروائیں،وزیر اعظم نے کہا کہ داسو ڈیم زمین کا مسئلہ چند روز خود حل کرلوں گا اور جلد از جلد خریدنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے،وزیر اعظم نے کہا کہ قراقرم ہائی وے کی توسیع کا کام جاری ہے اور یہ ہائی وے علاقے کو چائنہ کے بارڈر سے ملاتی ہے ،خیبر پختونخوا میں بھاشا ،بونجی ،داسو ڈیم سمیت تمام منصوبے جلد شروع کئے جائیں گے اور تمام پاور پراجیکٹ میں مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جائیگا تا کہ یہاں بے روز گاری کا خاتمہ ہو اور عوام کی مشکلات میں کم ہوں،ان منصوبوں سے نہ صرف پاکستان میں ترقی ہوگی بلکہ یہاں کی عوام خوشحال ہوگی ،صوبے میں ترقی ہوگی ،سڑکیں بنیں گی ،روز گار کے مواقع ملیں گے اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گی،وزیر اعظم نے کہا کہ سپرٹ ویلی کو کاغان ویلی سے ملانے کیلئے وفاقی حکومت خصوصی فنڈز جاری کرے گی اور صوبائی حکومت سے درخواست کریں گے وہ بھی اپنا حصہ ڈالیں۔زلزلہ سے جاں بحق افراد کو فی کس 6 لاکھ اور زخمیوں کو فی کس ایک لاکھ روپے امدادی دی جائے گی ،اعضاء سے محروم افراد کو فی کس 2 لاکھ جبکہ مکمل تباہ ہونے والے گھروں کی تعمیر کیلئے فی گھرانہ2 لاکھ دیئے جائیں گے ،وزیر اعظم نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی بحالی کیلئے تمام اقدامات کی نگرانی خود کروں گا ،زلزلہ متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے ،وزیر اعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان اور فاٹا کے علاقوں میں زلزلہ سے متاثرہافراد کی بحالی کیلئے وفاقی حکومت خود امداد فراہم کرے گی، متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی، زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور مالی نقصان پر پوری قوم افسردہ ہے تاہم اللہ کا شکر ہے کہ زلزلے کی شدت 2005 کے زلزلے سے زیادہ ہونے کے باوجود نسبتاً کم نقصان ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں جب کہ زلزلے کے زخمیوں اور تباہ ہونے والے مکانات کے مالکان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی ، یہ سانحہ کسی مخصوص علاقے یا صوبے کا نہیں بلکہ یہ ایک قومی سانحہ میں ہے ،صوبائی حکومتوں اور وفاق کو مل کر چلنا ہو گا عوام کی حفاظت وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے ،وزیرعلیٰ پرویز خٹک سے بھر پور تعاون کریں گے،وزیر اعظم نوازشریف کہا ہے کہ مقامی ایم این اے اور ایم پی ایز متاثرین زلزلہ کی بحالی کیلئے صوبائی حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے اور بحالی کے عمل میں پیش پیش ہوں،دریں اثناء وزیراعظم نواز شریف داسو پہنچے تو انتظامیہ کی جانب سے انہیں زلزلے سے ہونے والے نقصانات اورامدادی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔وزیراعظم نے ڈی سی او داسو سے زلزلے کے وقت ان کی مصروفیت کا بھی پوچھ ڈالا جس پر ڈی سی او نے موبائل فون بند اور راستوں میں پھنسنے کا جواز پیش کیا۔انتظامیہ کے افسران نے گول مول جواب دینا چاہا تو وزیراعظم مزید برہم ہوگئے اورکہاکہ بھاگ دو ڑ کے کوئی کرین منگوا لیتے ، جیپ دریا میں گر گئی آپ نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ متاثرہ علاقوں میں امداد کا نہ پہنچنا انتہائی دکھ کی بات ہے۔ بریفنگ میں موجود وزیراعلی پرویز خٹک نے بھی اعلی افسران کو ڈانٹ پلانے میں دیر نہ کی۔اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پہاڑوں پر نقصان کا جائزہ لینے کے لیے ہیلی کاپٹرز بھیجے جائیں۔

اسلام آباد(اے این این) وزیر اعظم نواز شریف سے ایرانی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری کی ملاقات،ایرانی صدر کا پیغام بھی پہنچایا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف سے ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری ریئر ایڈمرل علی شمخانی نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ملاقات کی۔ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں علاقائی صورتحال اور گیس پائپ لائن سمیت دونوں ملکوں کے باہمی منصوبوں پر بھی بات چیت کی گئی۔ذرائع کے مطابق ایران کے سیکرٹری نے نواز شریف کو ایران کے صدر حسن روحانی کا پیغام بھی پہنچایا جس میں ایران کی طرف سے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔اس موقع پر نواز شریف نے پاکستان کی گوادر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ایک دوسری کی حریف ہونے کا تاثر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی چاہ بہار اورپاکستان کی گوادر پورٹس کی مثال بہنوں جیسی ہے، یہ آنے والے دونوں میں ایک دوسرے کی مدد کریں گی۔ وزیر اعظم نواز شریف کاکہناتھاکہ پاکستان اور ایران کی تاریخ اور ثقافت ملتی جلتی ہے، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں، آپریشن ضرب غضب کے بہت اچھے نتائج حاصل کیے ہیں۔علی شامخانی نے کہاکہ دہشت گردی دونوں ملکوں کی مشترکہ دشمن ہے، پرامن افغانستان پاک ایران تعلقات کی پہلی ترجیح ہے

مزید :

صفحہ اول -