آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کامرکزی ملزم اٹلی سے گرفتار کر لیا گیا

آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کامرکزی ملزم اٹلی سے گرفتار کر لیا گیا

  

اسلام آباد(آن لائن) آرمی پبلک سکول پشاور حملے کے مرکزی ملزم عثمان غنی کو انٹر پول کے ذریعے اٹلی سے گرفتار کرکے پاکستان منتقل کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کردیا گیا ۔ ملزم کو مزید تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔ گزشتہ سال سولہ دسمبر کو دہشتگردوں نے اے پی ایس پشاور میں حملہ کرکے 140 بچوں سمیت 150 سے زائد افراد کو شہید کردیا تھا ۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز آرمی پبلک سکول پشاور حملے میں ملوث مرکزی ملزم عثمان غنی کو ایف آئی اے کی درخواست پر انٹر پول نے اٹلی سے گرفتار کرکے اسلام آباد منتقل کیا ۔ اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ملزم کو نجی پرواز 231 کے ذریعے اٹلی سے پاکستان کے مقامی وقت رات تین بجے منتقل کیا گیا جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں حراست میں لے لیا سکیورٹی حکام کے مطابق اے پی ایس پشاور حملے کے بعد ملزم عثمان غنی کا نام ای سی ایل میں ڈالاگیا تھا جبکہ ملزم اس سے قبل ہی بیرون ملک فرار ہوچکا تھا جس کے بعد پاکستان نے اپنے دوست ممالک سے ملزم کی موجودگی کے حوالے سے رابطہ کیا اور ملزم کے حوالے سے تفصیلات ملی جس کے بعد ایف آئی اے نے انٹر پول سے ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے درخواست کی اور اٹلی پولیس اور انٹر پول کے ذریعے ملزم عثمان غنی کو گرفتار کیا گیا جبکہ اٹلی میں پاکستانی حکام بھی موجود رہے ملزم عثمان غنی کا تعلق صوابی سے ہے جو کہ ایک کالعدم تنظیم کا اہم رکن ہے اے پی ایس حملے کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیگر متعدد مقدمات میں بھی مطلوب تھا ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جہاں مزید اہم انکشافات کی توقع ہے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال سولہ دسمبر کے روز ایک درجن کے قریب دہشتگردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کیا اور ایک سو چالیس بچوں سمیت ایک سو پچاس سے زائد افراد کو شہید کردیا تھا جس کے بعد سکیورٹی اداروں نے حملے میں ملوث متعدد ملزمان کو گرفتار کیا جن سے دوران تفتیش اہم انکشافات سامنے آئے ہیں،ڈی ڈی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے فروری میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ اے پی ایس پر حملے میں ملوث 27 رکنی گروہ کے 9 ملزمان کو ہلاک جب کہ 12 کو گرفتار کیا جا چکا ہے

مزید :

صفحہ اول -