ڈالر کی پرواز کیوں بلند ہے ، کہیں اپٹما کا مطالبہ تونہیں مان لیا گیا ؟

ڈالر کی پرواز کیوں بلند ہے ، کہیں اپٹما کا مطالبہ تونہیں مان لیا گیا ؟

  

تجزیہ :قدرت اللہ چودھری

 آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)گزشتہ کچھ عرصے سے مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے کہ پاکستان اپنی کرنسی کی قیمت کم کرے کیونکہ پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں طلب کم ہورہی ہے اور نتیجے کے طور پر پاکستانی برآمدات میں کمی آئی ہے، حکومت نے اپٹما کا یہ مطالبہ تو نہیں مانا لیکن گزشتہ چند روز سے ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے، ڈالر بڑھتے بڑھتے 106روپے کا ہوگیا ہے جبکہ باقی دنیا میں ڈالر کی قیمت مستحکم ہے، پاکستان میں قیمت بڑھنے سے روپیہ مقابلتاً غیر مستحکم ہوتا نظر آتا ہے، اگرچہ اس وقت پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں تاہم ڈالر کی طلب بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے قدر میں اضافہ ناگزیر ہے، بعض کاروباری حلقے سوال اٹھارہے ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت نے بظاہر تو اپٹما کا مطالبہ منظور نہیں کیا اورکرنسی کی قیمت کم کرنے سے انکار کردیا ہے لیکن اب بالواسطہ طورپر اس مطالبے کو پذیرائی بخشی جارہی ہے، اب اگر حکومت روپے کی قدر کو مستحکم کرنے اور ڈالر کو دوبارہ نیچے لانے کے لئے اقدامات نہیں کرتی تو اس خیال کو بہرحال تقویت ملے گی کہ بالواسطہ طورپر اپٹما کا مطالبہ ہی مان لیا گیا ہے۔ خطے میں ایران ایک ایسا ملک ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے امریکی اور مغربی ملکوں کی پابندیوں کے اثرات کی زد میں تھا، اور اس کی معیشت مسلسل دباؤ میں تھی، ایران سعودی عرب کے بعد تیل پیدا اور برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ، پابندیوں کے دوران دنیا کے اکثر ممالک ایرانی تیل کی خریداری سے گھبراتے تھے مبادا امریکی پابندیاں ان کا بھی رخ کرلیں۔ لیکن بھارت نے ہوشیاری سے کام لے کراس عرصے میں ایران کے ساتھ تیل کی تجارت جاری رکھی کیونکہ یہ تیل اسے سستے داموں دستیاب تھا، مزید براں ایران کو بھی اپنا تیل فروخت کرنا تھا، چنانچہ تیل کی یہ تجارت دونوں ملکوں کوسیاسی طورپر بھی قریب تر لے آئی، قربت کی ایک وجہ گوادر بندرگاہ اور پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ بھی تھا، موخرالذکر پر تو بھارت نے کھلے عام اعتراض کیا، خود مودی نے چینی صدر شی چن پنگ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا ، چین نے بھارت کے اس بے جاواویلے کو اہمیت نہ دی تو بھارت نے گوادر کے مقابلے میں ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کو ترقی دینے کے لئے ایران سے معاہدہ کرلیا، بھارت کی بنیاذہنیت نے سستے تیل کی خاطر ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کا ڈھونگ رچایا تھا، لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہیں چلا، اب بھارت کو عراق نے ایران کی نسبت زیادہ سستا تیل بیچنے کی پیشکش کی ہے تو اسی بھارت کی رال فوری طورپر عراقی تیل پر ٹپک پڑی ہے، اور اب بھارت عراق سے سستا تیل خریدے گا یہ محض اتفاق ہے یا سوچا سمجھا اقدام کہ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری آقای علی شامخانی اس موقع پر پاکستان کے دورے پر آئے ہیں جب بھارت نے ترجیحاً عراقی تیل خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، ایران اور پاکستان پرانے قریبی دوست اورہمسائے ہیں، اگرچہ ماضی میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں کبھی کبھار اونچ نیچ تو آتی رہی خصوصاً جب انقلاب کے فوراً بعد ایران کے پاسداران انقلاب کے رضاکاروں نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرکے وہاں سے بعض دستاویزات قبضے میں لیں تو معلوم نہیں کسی غلط فہمی یا ان دستاویزات کی بنا پر پاکستان کے بارے میں دل میلا کرلیا۔ اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی جن سے ایرانی انقلابی حکومت خوش نہیں تھی پھر ایران پر اپنا انقلاب ایکسپورٹ کرنے کا جو خبط سوار تھا شاید اس کا نتیجہ تھا کہ ایرانیوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو زیادہ اہمیت نہ دی اور جب ضیاء الحق ایران عراق جنگ بند کرانے کے لئے تہران اور بغداد کے دورے پر نکلے تو ایران کی قیادت نے ان کے صلح کے منصوبے کو چنداں اہمیت نہ دی۔ بہرحال ایران اور پاکستان کے تعلقات مجموعی طورپر ہمیشہ خوشگوار ہی رہے۔ اب ایرانی سینئر رہنما کے دور�ۂ پاکستان سے تعلقات کے کچھ نئے افق کھلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جن میں صرف سیاسی ہی نہیں، اقتصادی پہلو بھی اہم ہیں، پاکستان کو گیس کی شدید ضرورت ہے اور مستقبل میں اس کی طلب میں اضافہ ہی ہوگا۔ اس مقصد کے لئے ایران سے گیس درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور نواب شاہ تک گیس پائپ لائن بچھانے کے لئے ایرانی حکومت سے معاہدہ کیا گیا، یہ معاہدہ اس وقت ہوا تھا جب آصف زرداری کی حکومت کے آخری ایام تھے، اور 2013ء کے انتخابات قریب تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران نے اپنے علاقے میں پائپ لائن کی تعمیر مکمل کرلی ہے اور اب صرف وہ حصہ باقی ہے جو پاکستانی علاقے میں تعمیر ہونا ہے، اب تک اس کی تعمیر شروع نہیں ہوسکی، غالباًحکومت کو خدشہ تھا کہ اگر پائپ لائن کی تعمیر شروع کی گئی تو پاکستان کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے چنانچہ قطر سے جہازوں کے ذریعے گیس کی درآمد کو ترجیح دی گئی جس کے نرخوں کے بارے میں اب تک یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا اگرچہ گزشتہ روز دو وفاقی وزیروں نے ایک سیمینار میں قطر گیس سے متعلق کافی وضاحتیں کی ہیں اور دل خوش کن تصویر بھی پیش کی ہے لیکن قیمت کے معاملے کو پھر بھی واضح نہیں کیا۔

ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر میں اب کیا رکاوٹ ہے ؟ کیونکہ اب تو ایران سے پابندیاں اٹھائی جارہی ہیں اور امریکی صدر اوباما ایران کے ساتھ نیو کلیئر معاہدے سے اس حدتک خوش اور پرجوش تھے کہ انہوں نے اعلان کررکھا ہے کہ اگر کانگرس نے اس معاہدے کی توثیق نہ کی تو وہ کانگرس کے بل کو ویٹو کردیں گے، اس سلسلے میں انہوں نے امریکہ کے بگڑے ہوئے لاڈلے بچے اسرائیل کی ناراضگی کی بھی پرواہ نہیں کی جس کے وزیراعظم نے امریکی کانگرس سے خطاب کرکے اوباما کی داڑھی واشنگٹن میں بیٹھ کر نوچی تھی، بہرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اب پابندیوں کا تو خاتمہ ہورہا ہے اس لئے بہتر ہے کہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کی تعمیر جلد شروع کردی جائے۔ اس طرح گیس کی جہازوں کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن کی نسبت یہ گیس کی درآمد کا نسبتاً تیز تیز ذریعہ ہے، قطر گیس بھی اگر ضرور خریدنی ہے تو بھی ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کی تعمیر ترجیحاً ہونی چاہئے ۔ ایرانی تیل اس وقت سمگل ہوکر پورے بلوچستان میں کھلے عام بکتا ہے بلکہ سندھ تک بلاروک ٹوک چلا جاتا ہے تیل کے ساتھ ساتھ تارکول بھی سمگل ہوکر آتا ہے ، سمگلنگ اسی چیز کی ہوتی ہے جو سستی دستیاب ہو، اگر ایرانی تیل سمگلروں کو سستا مل سکتا ہے تو پاکستان باضابطہ طورپر یہ سستا تیل کیوں درآمد نہیں کرسکتا جو بھارت پابندیوں کے دور میں بھی ایران سے بلاروک ٹوک خریدتا رہا ہے دونوں ملکوں میں اور بھی بہت سی اشیاء کی تجارت ہوسکتی ہے جس میں پلاسٹک دانہ بھی شامل ہے۔ ایران کو پاکستانی چاول میں دلچسپی ہوسکتی ہے، ایرانی کرنسی ویسے بھی پاکستان کی نسبت کمزور ہے مضبوط ڈالر میں تجارت کرنے سے بہتر ہیں کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بڑھایا جائے علاقائی تجارت ویسے بھی نسبتاً آسان اور سودمند ہوتی ہے۔

مزید :

تجزیہ -