زلزلہ متاثرہ علاقوں کو نظر انداز کرنے سے احساس محرومی نے جنم لیا ،سراج الحق

زلزلہ متاثرہ علاقوں کو نظر انداز کرنے سے احساس محرومی نے جنم لیا ،سراج الحق

  

سوات،لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کو دیگر علاقوں کی طرح لوئر اور اپر دیر کے اضلاع کا بھی دورہ کرنا چاہئے تھا ۔دونوں اضلاع میں زلزلہ سے بہت بڑی تباہی ہوئی ہے مگر وزیر اعظم کی طرف سے ان علاقوں کو نظر انداز کرنے سے عوام کے اندر احساس محرومی نے جنم لیا ہے ۔وزیر اعظم کی طرف سے اعلان کردہ امداد ناکافی ہے ،حکومت اس میں مزید اضافہ کرے اور یہ امداد قسطوں میں دینے کی بجائے متاثرین کو یکمشت ادا کی جائے تاکہ وہ اپنے گھروں کی تعمیرکرسکیں ۔ سردی بڑھنے اور برفباری ہونے سے قبل مکانات تعمیرضروری ہے ۔حکومت نے بروقت اقدامات نہ کئے تو لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ ہسپتال دیر بالا میں زخمیوں کی عیادت کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر صوبائی امیر مشتاق احمد خان ضلعی ناظم صاحبزادہ فصیح اللہ ،رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ اور تحصیل ناظمین بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ متاثرہ علاقوں کے دورہ پر نکلے مگر انہوں نے دیر بالا اور دیر پائین کو نظر انداز کیا جس سے علاقے کے عوام میں محرومی اور مایوسی کا احساس بڑھا ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے اعلان کردہ امدادی پیکیج کو قسطوں میں دینے کی بجائے فوری اور یکمشت دے دینا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ زلزلہ میں بچ جانے والے مکان بھی اب رہنے کے قابل نہیں ہیں ،مکانوں کی مخدوش حالت کے پیش نظر بہتر بھی یہی ہے کہ لوگ ان گھروں میں نہ رہیں ۔سراج الحق نے اپیل کی کہ قوم 30اکتوبر کو یوم استغفار منائے۔26اکتوبر کو آنے والے ہولناک زلزلے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔

مزید :

صفحہ آخر -