لودھراں کا معرکہ پھر آ گیا، جہانگیر ترین کا مقابلہ پھر صدیق بلوچ سے؟

لودھراں کا معرکہ پھر آ گیا، جہانگیر ترین کا مقابلہ پھر صدیق بلوچ سے؟

  

تجزیہ چودھری خادم حسین:

عدالت عظمیٰ کے فل بنچ نے لودھراں کے حلقہ این اے 154سے منتخب رکن قومی اسمبلی صدیق بلوچ کی اپیل کا فیصلہ سنا دیا جس کے مطابق الیکشن ٹربیونل میں ہونے والے فیصلے کے ایک حصّے کو کالعدم قرار دے کر دوسرے حصے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے صدیق بلوچ کی نااہلیت ختم کر دی ان کو ساری عمر کے لئے نااہل قرار دیا گیا تھا اور اسی کے خلاف انہوں نے اپیل بھی کی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے الیکشن ٹربیونل کا یہ فیصلہ برقرار رکھا کہ حلقے میں انتخابات دوبارہ کرائے جائیں۔یہ فیصلہ فریقین نے خوش دلی سے قبول کیا۔ یوں اب پھر سے حلقہ این اے 154 لودھراں میں ضمنی الیکشن کا میدان گرم ہو گا اور پھر سے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان معرکہ آرائی ہوگی۔

حلقہ این اے 122لاہور اور حلقہ این اے 154 کے ساتھ اوکاڑہ کا ضمنی انتخاب بھی ایک ہی تاریخ کو ہونا تھا تاہم صدیق بلوچ نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا اور ان کو حکم امتناعی مل گیا تھا، حلقہ این اے 122مسلم لیگ (ن) اور اوکاڑہ کی نشست آزاد امیدوار نے جیت لی امکان یہی ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) ہی میں شامل ہوں گے کہ وہیں سے کچھ مل سکتا ہے۔

حلقہ 154(لودھراں) کا انتخاب اس وقت ملتوی ہوا جب مہم جاری تھی ظاہر ہے کہ اس وقت مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ کسی دوسرے امیدوار کے پاس تھا۔ اب صورت حال تبدیل ہوئی تو صدیق بلوچ پھر سے جہانگیر ترین کا مقابلہ کرنے کو تیار اور جماعت سے ٹکٹ کے خواہاں ہیں، امکانی طور پر اب ان کو ٹکٹ مل بھی جائے گا کہ اپیل کے نتیجے میں ان کو اخلاقی فتح حاصل ہوئی کہ ان کی تا عمر نااہلیت ختم ہو ئگی وہ خم ٹھونک کر پھر سے جہانگیر ترین کو ہرانے کے لئے تیار ہیں، ادھر جہانگیر ترین نے بھی فیصلہ قبول کیا اور کہا ہے کہ حکومتی امیدوار کو شکست فاش دیں گے۔ ادھر لاہور کے حلقہ این ا ے 125کے حوالے سے تحریک انصاف کے راہنما حامد خان نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی کہ خواجہ سعد رفیق کی اپیل اور حکم امتناعی کے حوالے سے سماعت نومبر کے پہلے ہفتے میں کی جائے۔ تحریک انصاف کے مطابق اس نشست کے حوالے سے بھی جلد فیصلہ ہونا چاہیے ان کے مطابق وہ اس حلقے میں بھی ضمنی انتخاب ہی کے خواہاں ہیں جس کا حکم الیکشن ٹربیونل نے دیا اور خواجہ سعد رفیق نے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا۔

یوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان ایک بار پھر میدان سجنے والا ہے اور تحریک والوں کے مطابق ضمنی الیکشن دونوں حلقوں میں ہوگا ایک کا تو فیصلہ آ چکا اور دوسرے کا بھی متوقع طور پر نومبر کے پہلے عشرے میں آ جائے گا۔

بلدیاتی انتخابات میں بھی جو کل ہونے والے ہیں۔ مقابلہ زیادہ تر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہی کے درمیان ہے یا پھر ناراض کارکن آزاد گروپوں کی شکل میں ہیں، یہ پہلا مرحلہ ہے اس کے بعد دو مراحل اور ہیں اور ان کے درمیان ہی ضمنی انتخاب آ جائے گا۔ لودھراں کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی نقل الیکشن کمیشن کو ملتے ہی انتخابی شیڈول بھی آ جائے گا کہ یہ ضمنی انتخاب 60روز کے اندر کرانا ہوگا اور اگر تحریک انصاف کی توقع کے مطابق حلقہ این اے 125میں بھی ایسی صورت حال بنی تو پھر یہ معرکہ بھی ہوگا یوں ایک بار پھر پنجاب ہیجان میں مبتلا ہو جائے گا۔

ان حالات میں عوام توقع تو امن اور خوشگوار حالات کی کرتے ہیں لیکن یہاں محاذ آرائی کی کیفیت یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے لئے فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کیا گیا الیکشن کمیشن نے منظور نہیں کیا کہ اتنی زیادہ نفری کی دستیابی مشکل کام ہے البتہ فوج کے ادارے سے سٹینڈ بائی کی درخواست کی گئی۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ سیاسی جماعتیں تمام تر سیاسی عمل کو خود ہی پرامن رکھنے کی سعی کریں لیڈرشپ یہ نہیں کر سکتی تو کس کام کی؟

مزید :

تجزیہ -