، قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بنایا جائے ، ختم نبو کانفرنس

، قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بنایا جائے ، ...

  

 چناب نگر، لاہو(نامہ نگار، نمائندہ خصوصی )عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقدہ آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے شرکاء اور مقررین نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر کی جیلوں میں پڑے ہوئے گستاخان رسول کو تخت دار پر لٹکایا جائے اور صدر پاکستان عاشق رسول ممتاز قادری کی سزا کو معاف کرنے کا اعلان کریں۔ امتناع قادیانیت آرڈنینس کی خلاف ورزی پر قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بنایا جائے۔ قادیانی اقلیت کے گستاخانہ لٹریچر، توہین آمیز کتابوں اور شر انگیز رسائل کو فی الفور ضبط کیا جائے۔ اور بلا تفریق چناب نگر کے تمام رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔ کانفرنس کے مقررین نے کہا کہ لا دین عناصر اور قادیانی این جی اوز کے زہریلے واویلا نے قانون توہین رسالت کو اتنا غیر مؤثر کر دیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی ایک بھی گستاخ رسول کو 295-C کے تحت پھانسی نہیں دی گئی۔دینی مدارس، علماء کرام اور اسلامی تحریکوں کے خلاف ارباب اقتدار کا نفرت انگیز اور امتیازی سلوک پر مبنی اقدامات، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور قادیانی ایجنڈے کو پروان چڑھانا ہے۔ اسلامی ممالک میں شیعہ سنی اختلاف کو فسادات کی شکل دے کر اسلامی ملکوں کے قدرتی و معدنی وسائل پر غاصبانہ قبضے کی سامراجی سازشیں بام عروج کو پہنچ چکی ہیں انہیں ہر صور ت ناکام بنانا ہو گا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ۳۷ء کا ائین اور ملک بھر کی مذہبی جماعتیں ملک کو سیکولر سٹیٹ بنانے کے ایجنڈے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ بیرون ممالک میں عقیدہ ختم نبوت کے فروغ اور فتنہ قادیانیت کے منفی پروپیگنڈا کے خاتمہ کے لئے حکومت اپنے سفارت کاروں کے ذریعے مربوط اور منظم اقدامات کرے۔ مغربی ممالک کو قادیانیت کا اصلی چہرہ دیکھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ کانفرنس کی افتتاحی نشت کی صدارت صاحبزادہ مولانا خواجہ عزیز احمد اور پیر جی عبدالحفیظ رائپوری نے کی جبکہ کانفرنس سے مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمان جالندھری، مولانا مفتی محمد حسن صاحب لاہور، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد امجد خان لاہور، مولانا محمد اشرف علی راولپنڈی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد،مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا محمد سلیم شہداد پور، سید نور الحسن بخاری، مولانا تاج محمود ریحان، مولانا عزیز الرحمان ثانی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا محمد وسیم اسلم، محمد اسحاق ساقی، مولانا جمیل احمد بندھانی، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا محمد اقبال، مولانا محمد خبیب، مولانا عبدلنعیم رحمانی، مولانا مختار احمد،مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا غلام حسین، مولانا حافظ محمد انس ، مولانا قاضٰی عبدالخالق، مولانا عبدالرشید غازی،حافظ محمد مہتاب ، صاحبزادہ محمد حسان شاہد رام پوری، فیصل بلال گیلانی، حافظ محمد شریف منچن آبادی سمیت متعدد مقتدر شخصیات نے شرکت و خطاب کیا، مقرین نے کہا کہ زلزلہ زدگان علاقوں اور گلگت بلتستان کے علاقہ جات میں قادیانی گروہ فلاحی کاموں کی آڑ میں ارتداد پھیلا رہا ہے۔ اور نوجوان نسل کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی مذموم سازشوں میں مصروف ہیں۔ حکومت قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو کنڑول کرے، مولانا عزیزالرحمان جالندھری نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا دفاع کرنے والے قدرت کی طرف سے حضور اکرمﷺ کی ذاتی خدمت پر مامور ہیں۔ اور قیامت کے دن سب سے زیادہ قربت اور بلندی درجات انہیں نصیب ہوں گے۔علماء کرام اور تمام مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قادیانیوں کی اسلام و ملک دشمن سرگرمیوں کو طشت از بام کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ مولانا محمدامجد خان نے کہا کہ قادیانی ملک و ملت کے غدار اور صیہونی وسامراجی طاقتوں کے گماشتے اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے پاکستان میں رہتے ہوئے بھی وطن عزیز کے ایٹمی راز چوری کر کے مغربی آقاؤں کی نمک حلالی اور انگریز سے وفا داری کا حق ادا کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ سکہ بند قادیانی عناصر خود کو آئین کا پابند اور اقلیت تسلیم کرنے کی بجائے اب بھی چناب نگر پریس سے گستاخانہ لٹریچر اور فولڈر پرنٹ کر رہے ہیں۔ قادیانی جرائد اور رسائل میں غیر قانونی طور اسلامی شعائر اور مسلمانوں کی مذہبی اصطلاحات استعمال کر کے آئین پاکستان کی واضح خلاف روزی کر رہے ہیں۔ جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔ مولانا اشرف علی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت پر ایمان لانے کی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات و نزول پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونے کا دعوی، شعبدہ بازی اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ جس کو حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ علامہ اقبال نے سب سے پہلے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا دینے کا مطالبہ کیا اور ان کو ملک و ملت کے غدار اور مرزا قادیانی کی فرضی نبوت کو اپنی شاعری میں برگ حشیش سے تعبیر کیا۔ مولانا عبدالحکیم نعمانی نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ صرف مولویوں کا نہیں دنیا بھر کے تمام مسلمان، قادیانیوں کو غیر مسلم یقین کرتے ہیں۔ دنیا کی کسی ایک عدالت فیصلہ قادیانی گروہ تا حال اپنے حق میں پیش نہیں کر سکتا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، صحابہ کرامؓ اور اہلبیتؓ کی عظمت اور امت مسلمہ کی وحدت عقیدہ ختم نبوت میں مضمرہے۔مولانا محمد قاسم رحمانی نے کہا کہ امت کے اجماعی مسائل کو پرنٹ اور الیکڑونک میڈیا پر بازیچہ اطفال بنا کر اپنی حوس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ میں گھسے ہوئے قادیانی اور سیکولر لابیاں، عقیدہ ختم نبوت کو فرقہ وار یت سے تعبیر کرنے کے گھناؤنے عمل میں مصروف ہیں۔ مولانا تاج محمود ریحان نے کہا کہ ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت یا امت مسلمہ کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے اسے متنازعہ بنانے والوں کی سازشوں کو نا کام بنانا ہوگا۔ کانفرنس میں زلزلہ سے متاثرین ہونے والے شہداء اور زخمیوں سے اظہار افسوس کیا گیا اور شہداء کے لئے دعا مغفرت بھی کی گئی۔ کانفرنس میں مہنگائی، لوڈ شیڈنگ، اور قادیانیت نوازی پر شدید احتجاج کیا گیا، کانفرنس آج بھی جاری رہے گی۔آخری نشست سے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری خطاب کریں گے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -