ساؤتھ ایشیاء پارٹنر شپ کے زیر اہتما م مقامی ہوٹل میں قومی کانفرنس

ساؤتھ ایشیاء پارٹنر شپ کے زیر اہتما م مقامی ہوٹل میں قومی کانفرنس

  

لاہور (لیڈی رپورٹر)ساؤتھ ایشیاء پارٹنر شپ کے زیر اہتما م مقامی ہوٹل میں پاکستا ن کے پروگرام"عوام سب سے اہم ہیں: انسانی تحفظ میں بہتری " تحت قومی کانفرنس منعقد کی گئی جس کا عنوان پاکستان کی سماجی و سیاسی صورتحال اور نوجوانوں کی شمولیت: تھا جس میں مقررین شبنم رشید (پروگرام مینیجر ) ، ظہور جوئیہ (ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ۔ سوجھلا ملتان )،عرفان مفتی ڈپٹی ڈائریکٹر سیپ ۔پاکستان ، اقبال حیدربٹ ،سماجی تجزیہ نگار ، صبیحہ شاہین ، ڈائریکٹر برگد ، بشریٰ خالق (سماجی کارکن) ،تنویر جہاں (ہیومن رائیٹس ڈفنڈر) ، نیاز خاں (مزدور راہنما) اور اکرام میرانی (ماہرِ تعلیم اور امن کارکن )اوروحید گُل ( ممبر پنجاب اسمبلی) نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ نوجوانوں کی معدوم ہو جاتی ہے ، اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ طلباء تنظیموں نے عملی سیاست میں شامل ہوکر قومی سطح کی جمہوریت میں شمولیت کی راہیں ہموار کیں ۔ طلباء جمہوریت کی اسی راہ پر گامزن ہوتے ہوئے سیاسی و سماجی طور پرآگے بڑھتے ہوئے بڑی سیاسی تحاریک کا حصہ بنے اور سیاسی منظر نامہ پراپنی طاقتور حیثیت اور کردار کو منوایا ۔ مقررین نے اس ضمن میں ان نامور سیاست دانوں کا ذکر کیا جو کہ طلباء تنظیموں میں شامل رہے ، ان میں جاوید ہاشمی (تحریک انصاف)صدر پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین ،لیاقت بلوچ (جماعت اسلامی ) صدر پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین،جہانگیر بدر ، سیکریٹری(پی پی پی) صد سٹو ڈنٹس یونین ہیلے کالج آف کامرس، احسن اقبال انفارمیشن سیکریٹری پاکستان مسلم لیگ(ن)صدر انجینئرینگ یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین اورالطاف حسین قائد ایم کیو ایم ، بانی پاکستان متحدہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن۔انہوں نے اس بات پر افسو س کا اظہار کیا کہ نوجوانوں اور طلباء کی مثبت اور بہترسیاست سے جڑت میں ناکامی کے سیاسی عمل پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں ، جبکہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں نوجوانوں کی شمولیت کی دعویدار ہیں اس کے علاوہ سیاسی پارٹیاں نوجوانوں کیلئے تعلیم و تربیت اور روزگار کے مواقع مہیا کرنے کے بھی پر زور وعدے کرتی ہیں لیکن ان میں سے بہت کم پر عملدرآمد کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی صورتحال سے نوجوان طبقہ مایوسیوں کا شکا ر ہے۔ کئی رپورٹس کے مطابق لڑکیاں اور لڑکے ملازمتوں اور وسائل کے حصول کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن یہ حکومتی ترجیحا ت اور پالیسیوں میں شامل نہیں ہیں ۔ ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -