سندھ،بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل،پیپلزپارٹی کو مشکلات درپیش

سندھ،بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل،پیپلزپارٹی کو مشکلات درپیش

  

تجزیہ :نعیم الدین

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے ۔ پیپلزپارٹی کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ ان کی جماعت کے امیدوار بلامقابلہ کامیابی حاصل کرلیں گے لیکن ایسانہیں ہوسکا ۔پیپلزپارٹی کو سب سے زیادہ مشکلات پارٹی چھوڑ کرجانے والوں سے درپیش ہیں جو بلدیاتی انتخابات میں کامیابی سے مہم چلارہے ہیں ۔اس مرتبہ بلدیاتی انتخابات میں سندھ میں پیپلزپارٹی کا اہم شخصیات کے بیٹوں سے بھی مقابلہ ہوگا ۔جبکہ قوم پرست جماعتوں کا ان بلدیاتی انتخابات میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا ہے ۔ان انتخابات میں آزاد امیدواروں کی بھی بھرمار ہے ۔پیپلزپارٹی کے ناراض امیدواروں کے گروپ میں ذوالفقار مرزااور صفدرعباسی نمایاں ہیں ۔جبکہ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ممتاز بھٹو کی جانب سے بھی آزاد امیدواروں کی حمایت کی جارہی ہے ۔سید غوث علی شاہ ،ارباب غلام رحیم ،لیاقت جتوئی اور دیگر رہنماؤں نے پیپلزپارٹی مخالف اتحاد قائم کر رکھا ہے ۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اہم سیاسی شخصیات کا گروپ پیپلزپارٹی کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔جبکہ اس گروپ کے لوگ میئر کے عہدے کے لیے ٹف ٹائم دیں گے ۔سندھ کی سیاسی صورت حال اس وقت یہ ہے کہ سکھر میں خورشید شاہ کے صاحبزادے اور اسلام الدین شیخ کے صاحبزادے بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں ۔جبکہ صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کے صاحبزادے انتخابات میں حصہ لیں گے ۔اس بات کی توقع ہے کہ ان تینوں کے صاحبزادوں کے درمیان سکھر کی میئرشپ کے لیے مقابلہ ہوگا ۔تھرپارکر ،سجاول ،بدین ،لاڑکانہ ،خیرپور اور شکار پور میں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے ۔جبکہ فنکشنل لیگ بھی اس مرتبہ ایڑی چوٹی کازور لگائے گی جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو اس مرتبہ سخت مشکلات سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے ۔اس کے باوجود ان سیاسی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو اندرون سندھ میں بہتر کامیابی کی امید ہے ۔کچھ حلقوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ 65سے 70فیصد تک پیپلزپارٹی کو کامیابی مل سکتی ہے ۔ادھر سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ریٹرننگ افسران اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے مطالبے کے باوجود رینجرز اور فوج پولنگ اسٹیشن کے اندراور باہر تعینات نہیں ہوگی تاہم حساس اور انتہائی حساس 2610پولنگ اسٹیشنوں کے قرب و جوار میں 2279رینجرز اور80فوجی اہلکار موجود ہونگے،جبکہ پولنگ اسٹیشن مکمل طور پر31ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کے کنٹرول میں ہونگے۔

مزید :

تجزیہ -