شانگلہ میں این جی اوز کی بھرمار مگر منصوبہ بندی کا فقدان ، متاثرین کی داد رسی نہ ہو سکی

شانگلہ میں این جی اوز کی بھرمار مگر منصوبہ بندی کا فقدان ، متاثرین کی داد رسی ...

  

 الپوری (ڈسٹرکٹ رپورٹر)ضلع شانگلہ میں زلزلے کی وجہ سے ایمرجنسی ،54افرا د کی اموات ایک بہت بڑا سانحہ، مرنے والوں کے لوا حقین ابھی تک سوگ و غم میں مبتلا ،مقامی او غیر مقامی این جی اوز کی بھر مار،تاہم منصوبہ بندی کی کمی ،تیسرے دن گذرنے کے باوجود متاثرہ لوگوں میں پریشانی،غم ،ضلع میں ادھی سے زیادہ ابادی مسمار،کریک، یا نہ رہنے کی قابل،گھروں کے لئے مختص فندذ سے شاید ہی ایک غسل خانہ بھی تعمیر ہو سکے ،متاثرہ لوگوں کے لئے پیکج انتہائی قلیل،سخت ترین سردی ،خوف اور ویران جگہوں پر رہنے سے اباد کاری کے منتظر لوگوں کو کئے خطرات کا سامنا،سیاسی اکابرین کا اپنے اپنے مخصوص ٹولوں کے ساتھ روابط، سروے میں دور دراز،پہاڑی و بالائی علا قوں کو نظر انداز ہونے کا خدشہ ،سفید پوش اور تعلقات کی بنیاد پر فنڈز،فوڈ اور نان فوڈز ائیٹم حاصل کرنے کا خدشہ بھی بدستور موجود،تفصیلات کے مطابق 26 اکتوبر کے ہولناک زلزلے کی وجہ سے شانگلہ کا طول وعرض بری طرح متاثر ہوا،54لوگوں کی اموات اور سینکڑوں لوگوں کی ذخمی ہونے سے شانگلہ اس وقت پورے پا کستان میں سر فہرست ہیں تاہم معاشی طور پر بدحال شانگلہ کو اس وقت درپیش مسائیل میں زلزلہ کے دوران شہید ہونے والوں کے لئے مختص رقم کی بروقت ادائیگی،تباہ شدہ گھروں اورکاروبار کو بحال کرنے کے لئے رقم کی ادائیگی اور بحالی کی سخت ضرورت ہے کیونکہ زیادہ تر نقصان کچے ابادی کو پہنچا ہے جہاں زیادہ تر لوگ ایک یا دو کمروں میں پورے خاندان کے ساتھ رہا یش پذیر تھے اب بھی ایسے لوگ فوراامداد کے مستحق ہیں کیونکہ ان میں زیادہ تر غریب لوگوں کے پاس کسی قسم کے وسائیل نہیں اور اپنا گھر بھی لوٹا بھیٹے اس میں شک نہیں کہ اس وقت ایمرجنسی کی اس صورتحال میں پوری دنیا شانگلہ کی طرف لوٹ ائی ہے تاہم تباہ شدہ لوگوں اور متاثرین کو پہنچ کر ان کے ساتھ مدد کی جس شدت سے ضرورت ہے اس پر اب بھی ابزرویشن موجود ہیں، اس وقت ان تمام اداروں کے درمیان کوار ڈینشن کی کمی اگر ایک وجہ ہے تو دوسری طرف اب تک وہ ڈیٹا بھی اکھٹا نہیں ہو سکا جو ریلیف کے وقت اداروں کی چستی کو ظاہر کرتی ہے بیشک اس بار زلزلے کی وجہ سے انسانی اموات نسبتاً کم ہوئی تاہم مالی نقصان کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ذہنوں میں گذشتہ زلزلے سے پیدا شدہ صورتحال سامنے ہے جس میں ڈونرز کی بہت بڑی رقم اب تک ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے

مزید :

پشاورصفحہ اول -