رواں سال میں 200 سے زائد مسخ شدہ نعشیں بر آمد تقریباٗ 80 فیصد کی پہچان نہ ہو سکی

رواں سال میں 200 سے زائد مسخ شدہ نعشیں بر آمد تقریباٗ 80 فیصد کی پہچان نہ ہو سکی

  

 لا ہور (شعیب بھٹی) صو با ئی دا ر لحکومت میں ملنے والی نامعلوم نعشوں میں اضافہ ۔ روا ں سال3بچو ں سمیت 200ا فرا د کی مسخ شد ہ نعشیں بر آ مد ہو ئیں۔سال 2015میں مسخ شدہ نعشوں کی تعداد میں اضافے سے لاہور پولیس کی کارکردگی کیلئے سوالیہ نشان ہے ۔ پولیس چند ایک کے سوا کسی بھی مسخ شدہ لاش کے لواحقین تلاش کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔80فیصد مسخ شدہ نعشوں کو لاوارثوں کے قبرستان میں سپردخاک کردیا جاتا ہے۔مسخ شدہ نعشوں کے حوالے سے پولیس تفتیش بڑھانے اور لواحقین کی تلاش کیلئے پولیس کی کارکردگی میں اضافے پر تاحال غور نہیں کیا جا سکا۔ تفصیلات کے مطابق شہر میں مسخ شد ہ نعشوں میں بتدریج اضافہ ہو نے لگاہے جبکہ لاہور پولیس کے تفتیش کار بھی مسخ شد ہ نعشو ں کے مقدمات میں خود کو اندھیرے میں محسوس کرتے ہیں۔ اور تفتیش کے نا م پر ٹامک ٹوئیاں مارنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران لاہور میں مسخ شد ہ نعشوں کی مجموعی تعداد 200 ہے جبکہ پولیس تاحال چند ایک کیسز کو حل کرنے کے علاوہ متعد د میں ناکام نظرآئی ہے ۔ذرائع کے مطابق پولیس مسخ شد ہ نعش کے مقد مہ کی تفتیش کرنے اور ملزم تک پہنچے کی بجائے لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے کے بعد کیس کی فائل بند کر دیتی ہے او ر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر ہی اکتفاء کیا جاتاہے ۔ذرا ئع نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال شا ہدر ہ ٹاؤن کے علاقہ سے دو کم عمربھا ئیو ں کی نعشیں گندے نا لے سے ملیں جو چند روز قبل گھر کی د ہلیز سے لا پتہ ہو ئے تھے ۔ایسا ہی ایک واقع سول لا ئنز کے علاقہ میں پیش آ یاجہاں ایک بچے کی مسخ شد ہ نعش ملی اور بعدز اں پو لیس کو معلوم ہوا کہ مذ کو ر ہ بچوں کو اغواء کے بعد قتل کیا گیا ہے ۔ ذرا ئع سے ملنے والی د ستاویزا ت کے مطا بق 15 افرا د ایسے بھی تھے جو کچھ عر صہ سے لا پتہ تھے اور ان کی نعشیں بر آ مد ہو نے کے بعد ان کی شنا خت ہو ئی کی گئی ۔پولیس ذرائع نے مزید بتایا کہ لاپتہ اور مسخ شدہ لاشوں کو پولیس نشئی اور لاوارث قرار دے کر دفنا دیتے ہیں جس وجہ سے لواحقین اپنے پیاروں کے منہ تک نہیں دیکھ پاتے۔لاہور پنجاب کا دل ہے اور بڑا شہر ہونے کی وجہ سے دور دراز کے شہروں اور دیہاتوں سے سینکڑوں لو گ روز گار کی خاطر لاہور کا رخ کرتے ہیں اور ساتھیوں سے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں قتل کر دیئے جانیوالے مقتولوں کے قاتلوں کو تلاش کیا جاتا ہے نہ ہی لواحقین کو۔ اس طرح متعدد ماں باپ روزی کی تلاش میں اپنے لخت جگر اور بہنیں اپنے بھائیوں اور باپ بیٹوں سے محروم ہو جاتے ہیں ۔

مزید :

علاقائی -