نوید کمانڈو کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔رانا ثنا محفوظ ہیں

نوید کمانڈو کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔رانا ثنا محفوظ ہیں
 نوید کمانڈو کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔رانا ثنا محفوظ ہیں

  

نوید کمانڈو کے بیان نے کم ازکم میڈیا میں تو طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز میں نوید کمانڈو کے اس بیان پر کہ اس نے بھولا گجر کا قتل صوبائی وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ کے کہنے پر کیا ہے نے ہر طرف سنسنی پھیلائی ہوئی ہے۔ پہلے تو میرا خیال تھا کہ اس بیان کے سامنے آنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ایک مرتبہ پھر رانا ثناء اللہ سے استعفیٰ لے لیں گے۔ اور کہیں گے کہ وہ جائیں اور پہلے بری ہو کر آئیں۔ لیکن وزیر اعلیٰ ہاؤس کے تمام ممکنہ دروازے کھٹکھٹانے کے بعد یہی معلوم ہوا کہ ایسا کچھ نہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں نوید کمانڈو کے بیان نے کوئی ہلچل نہیں مچائی۔ ہر طرف سکون ہی سکون ہے۔ اقتدار کے ایوان اس کو فیصل آباد میں راناثناء اللہ اور چودھری شیر علی کے درمیان جاری بلدیاتی لڑائی کی ہی ایک قسط سمجھ رہے ہیں۔ بلکہ اگر مبالغہ آرائی نہ بھی کی جائے تو چوھری شیر علی ہر ایسے عمل کے ساتھ شریف فیملی اور ن لیگ سے دور جا رہے ہیں۔

نوید کمانڈو کے بیان پر اقتدار کے ایوان سکون میں ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ ملزم کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ میں نے سوال کیا کہ کیوں۔ تو جواب ملا کے آپ خود قانونی ماہرین سے اس پر بات کر لیں۔ میں نے اس مسئلہ پر چند قانونی ماہرین سے بات کی کہ نوید کمانڈو کے بیان پر رانا ثناء اللہ پر کیااثر ہو گا۔ تو جواب ملا کہ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ اس بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ میں حیران ہوں کہ ایک بیان جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اس پر میڈیا میں اتنا شور کیوں ہے۔ قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ چونکہ نوید کمانڈو نے یہ بیان دوران سماعت حلف پر نہیں دیا۔ اس لئے اس بیان پر نوید کمانڈو پر پراسیکیوشن مدعی مقدمہ اور رانا ثناء اللہ نوید کمانڈو پر جرح نہیں کر سکے۔ قانون کے مطابق ملزم جو بیان حلف پر نہ دے اس پر جرح نہیں ہو تی۔ صرف اسی بیان پر ملزم سے جرح ہوتی ہے جو عدالت میں دوران سماعت بوقت شہادت حلف پر دیا جائے۔ اور جس بیان پرجرح نہ ہو سکے۔ اس کی قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں۔ صرف حلف اور جرح ہی قانون کی نظر میں دوران سماعت دئے جانے والے کسی بھی بیان کی توثیق کا واحد ذریعہ ہیں۔اس طرح نوید کمانڈو کا بیان رانا ثناء اللہ کے لئے میڈیا ٹرائل کا تو باعث ہے۔ لیکن قانونی طور پر کسی پریشانی کا باعث نہیں ہے۔ شاید نوید کمانڈو کو خود کو بھی معلوم ہو گا کہ اس کے اس بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس نے بھی اسی لئے یہ بیان دیا ہے کہ اس سے اسے رانا ثناء اللہ کے مخالفین کی حمایت بھی حاصل ہو جائے گی۔ اور رانا ثناء اللہ کا بھی کوئی نقصان نہیں ہو گا۔

اس کے ساتھ یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اس مقدمہ میں نوید کمانڈو کے ساتھ تین اور ملزمان بھی ہیں۔جن میں نفیس عرف گو گا،طاہر کانسٹیبل اور انجم نیاز شامل ہیں۔ ان میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جہاں نوید کمانڈو کو اس بیان کے باوجود پھانسی کی سزا دی ہے وہاں نفیس عرف گو گا کو بھی پھانسی کی سزا دی ہے جبکہ کانسٹیبل طاہر اور انجم نیاز کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ لیکن ان تینوں ملزمان میں سے کسی نے بھی عدالت میں کسی بھی موقع پر نوید کمانڈو کے بیان کی کسی بھی سطح پر حما یت و تائید نہیں کی ہے۔ اس طرح نوید کمانڈو نے جو بیان دیا ہے اسے مقدمہ میں نہ تو دیگر ملزمان اور نہ ہی گوا ہا ن کی تائیدحاصل ہوئی ہے۔ اس لئے رانا ثنا ء اللہ مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ صرف میڈیا ٹرائل نے انہیں پریشان کیا ہوا ہے۔

میرے لئے یہ پہلو بھی دلچسپ تھا کہ نوید کمانڈو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چونکہ بھولاگجر تحریک انصاف میں شامل ہونے کی تیاری میں تھے۔ اس لئے رانا ثناء اللہ نے انہیں قتل کروا دیا۔ فیصل آباد میں اس ضمن میں کافی لوگوں سے بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ بھولا گجر فیصل آباد کی ایک سماجی شخصیت تھے۔ جب ان کا قتل ہو اتو ان کی عمر پچاس سال سے زائد تھی ۔ وہ نوجوانی سے ہی سماجی کاموں میں پیش پیش تھے۔ لیکن انہوں نے کسی بھی لمحہ پر کوئی بھی سیاسی جماعت جوائن نہیں کی۔ کبھی کسی الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ اس لئے ان کے تحریک انصاف جوائن کرنے کی کسی نے بھی کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپنے سماجی کاموں کی وجہ سے بھولا گجر اس قدر ہر دلعزیز تھے کہ ان کے نماز جنازہ کو فیصل آباد کی تاریخ کا سب سے بڑا نماز جنازہ ما نا جا تا ہے۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ تمام تفتیشی اداروں کے پاس بھو لا گجر اور پولیس سب انسپکٹر وحید کی دشمنی کے واضع ثبوت موجود ہیں۔ وحید کی فیصل آباد پولیس میں پولیس مقابلوں کے حوالہ سے ایک خصوصی شہرت ہے۔ یہ ویسی ہی شہرت ہے جیسی ایک دور میں لاہور میں انسپکٹر نوید سعید کی ہوتی تھی۔ اسی شہرت کی وجہ سے وحید کا فیصل آباد میں ایک خاص رعب بن گیا تھا۔اور وہ اسی رعب و دبدبہ کی وجہ سے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو گیا تھا۔ جیسا کہ اکثر ایسے کیسز میں ہو تا ہے۔ اسی دوران بھتہ کے معاملات پر وحید اور بھولا گجر کے درمیان عداوت ہو گئی تھی۔ اور دونوں کے درمیان تناؤ شہر میں سب کو معلوم ہے۔ بھولا گجر کے اہل خانہ نے بھی اسی عداوت کی وجہ سے سب انسپکٹر وحید پر شک کا اظہار کیا تھا۔ وحید بیرون ملک فرار ہو چکا ہے۔ اور اس وقت لندن میں موجود ہے۔ اس کو پولیس سروس سے برخواست کیا جا چکا ہے۔ وہ عدالت سے اشتہاری ہو چکا ہے۔ انٹر پول نے اس کے ریڈ وارنٹ جاری کر دئے ہوئے ہیں۔ وحید نے اس سارے مقدمہ کے دوران بھولا گجر کے خاندان کے ساتھ صلح کی جو کوششیں کی ہیں۔ وہ بھی ریکارڈ پر ہیں۔ اور وحید نے رانا ثناء اللہ کے ساتھ بھی اس مقدمہ کے دوران کئی دفعہ رابطہ کیا کہ وہ اس معاملہ کو حل کردیں۔ لیکن رانا ثناء اللہ نے ہر موقع پر بھولا گجر کے اہل خانہ کا ہی ساتھ دیا۔ اسی لئے آج نوید کمانڈو کے اس بیان کے بعد بھی بھولا گجر کا خاندان پھر رانا ثناء اللہ کے ساتھ ہی کھڑا ہے۔

نوید کمانڈو کا یہ بیان جولائی کے وسط میں عدالت میں دیا گیا۔ رانا ثنا ء اللہ کا موقف ہے کہ صرف بلدیاتی انتخابات سے دو دن قبل اس کا منظر عام پر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بیان بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لئے میڈیا میں آیا ہے۔ وحید کے رانا ثنا اللہ کے سیاسی مخالفین کے ساتھ مسلسل رابطہ کے ثبوت بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس موجود ہیں۔ اس لئے نوید کمانڈو کا بیان شاید بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر تو کوئی اثر دکھا دے۔ لیکن قانونی طور پر شاید رانا ثنااللہ محفوظ ہیں۔ اور اسی لئے ان کی وزارت کو بھی کوئی خطرہ نہیں۔ کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو نوید کمانڈو کے بیان کا تب ہی بتا دیا گیا تھا ۔ جب یہ عدالت میں دیا گیا تھا۔ اور تب ہی قانونی ماہرین نے وزیر اعلیٰ کو بتا دیا تھا کہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

مزید :

کالم -