ریلویز کا کنٹرول سنبھالتے ہی بزنس کارگو کے دفاتر سیل، نجی کمپنیوں کے وارے نیارے

ریلویز کا کنٹرول سنبھالتے ہی بزنس کارگو کے دفاتر سیل، نجی کمپنیوں کے وارے ...

  

لاہور(محمد نواز سنگرا) پاکستان ریلوے کا بزنس ٹرین کا کنٹرول سنبھالتے ہی پرائیویٹ کارگو کمپنیوں کے وارے نیارے ہو گئے۔محکمہ ریلوے نے بزنس ٹرین کے ساتھ بزنس کارگو کے دفاتر بھی سیل کر دیئے جس کی وجہ سے کراچی سے لاہورسامان بھجوانے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ساتھ ہی شہریوں نے دیگر پرائیویٹ کارگوں کمپنیوں کے ذریعے لاہور سے کراچی سامان بھجوانا شروع کر دیا ہے ۔فور برادرز محکمہ ریلویز کے2ارب سے زائد کے نادہندہ ہونے پر عدالت کی طرف سے فور برادرز کا سٹے آرڈر منسوخ ہونے پر محکمہ ریلوے نے پاک بزنس ایکسپریس کا کنٹرول سنبھال لیاہے جس پر محکمہ ریلوے نے پاک بزنس آفس میں پڑا تمام سامان بھی قبضہ میں لے لیا ہے دوسری طرف بزنس کارگو کو بھی سیل کر کے اس کا سامان بھی قبضہ میں لے لیا گیا ہے اور بزنس کارگوکے دفتر میں پڑے عوام کا لاہور سے کراچی کیلئے بک کرایا جانیوالا سامان بھی محکمہ ریلوے نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔بزنس کارگو کے بند ہونے پر دیگر پرائیویٹ کارگوں کمپنیوں کی طرف عوام کے رجوع کرنے کی وجہ سے ان کی چاندی ہو گئی ہے اور لاثانی کارگو،سپرریل کارگو،المحسن،ایچ اے، الممتاز،ایکسپریس کارگو،کوئیک کارگو سمیت دیگر کمپنیوں کے وارے نیارے ہو گئے ہیں اور ان کی بکنگ میں اضافہ ہو گیا ہے۔مذکورہ کارگو کمپنیاں قراقرم ایکسپریس،کراچی ایکسپریس،نائٹ کوچ،شالیمار،عوام ایکسپریس،تیز گام،خیبر میل اور علامہ اقبال ایکسپریس کیلئے بکنگ کرتی ہیں ۔کارگوکمپنیوں کی خوشی کے ساتھ ساتھ عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہو گیا ہے کہ 24گھنٹوں میں پہنچ جانے والا ساما ن بھجوانے میں کئی دن لگ جاتے ہیں اور ایسی قیمتی اشیاء جن کو جلد پہنچانا ہو تا ہے یا خرابی کا خدشہ ہوتا ہے شہریوں کو ایسی اشیاء پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے دوسری طرف بزنس کارگوکو بک کرایا جانیوالا سامان بھی کراچی نہیں بھجوایا جا سکا جس کی وجہ سے بھی شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا رہا اور گزشتہ روز دن بھر ریلوے سٹیشن کا چکر لگاتے رہے۔واضح رہے کہ روزانہ 10ٹن سامان لیجانے والا بزنس ٹرین کا لگیج خالی گیا جس سے ریلوے کو بھی لاکھوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -