بونیر ،متاثرین کو امداد نہ ملنے پر بلدیاتی ممبران کی برہمی

بونیر ،متاثرین کو امداد نہ ملنے پر بلدیاتی ممبران کی برہمی

  

بونیر (ڈسٹرکٹ رپورٹر)ضلع کونسل بونیر کے جملہ ڈسٹرکٹ ممبران نے زلزلہ متاثرین کو ابھی تک سر چھپانے کے لئے خیمے ،خوراک اور دیگر سامان نہ ملنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریلیف سرگر میوں اور سروے کمیٹیوں میں یکسر نظر انداز کرنے کو حکومت کی دوہری پالیسی قرار دیکر کہا ہے کہ اختیارات کے نچلی سطح پر منتقل کرنے کے دعویداروں حکمرانوں نے وولئیج کونسل اور ضلع کونسل کے درمیان اختیارات کے جنگ چھیڑ نے کی سازش کی ہے جس سے صاف واضح ہے کہ حکومت اپنے وعدوں میں مخلص نہیں ہے اگر یوں ڈسٹرکٹ کونسل ممبران کی تضخیک جاری رکھی تو احتجاجوں کو سلسلہ شروع کرکے شدید مذاحمت کرینگے ۔انہوں نے کنونئیر کے ذریعے ڈسٹرکٹ ناظم کو صوبائی حکومت سے فوری معاملہ اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے ۔اجلاس میں محکمہ پبلک ہیلتھ ،صحت ،تعلیم ،سی اینڈ ڈبلیو،ائیرگیشن ،واپڈا ،ریو نیو کی خراب کارکردگی کو شدید خدف نقید بنایا اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ان محکموں نے اپنا قبلہ دورست نہ کیا تو انکے غیر ترقیاتی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے ۔اس سلسلے میں ضلع کونسل بونیر کا اجلاس زیر صدارت کنونئیر یو سف علی منعقد ہوا ۔اجلاس سے ناظم انعام الرحمان ایڈوکیٹ نے کہا کہ ماربل فیکٹریوں سے نکلنے والے گندہ پانی نے قدرتی چشموں ندھی نالیوں کے صاف پانی کو الودہ کرکے استعمال کے قابل نہیں رہے ۔یو سی محرنئی کے ناظم جاوید اقبال خان نے بے نظیر انکم سپورٹ کے دفتر کو کنکو ہے چوک سے طو طالئی منتقل کرنے پر عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں ۔یو سی دیوانہ بابا کے ناظم محمد شاہ نے ماربل سٹی کو جلد ازجلد قائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔یو سی طوطالئی کے ناظم افسر خان نے محکمہ زراعت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زمینداروں کے لئے لائے گئے ٹریکٹر ز کو محکمہ کے حکام نے ملی بھگت سے چھ ہزارروپے ماہانہ ٹھیکہ پر اپنے ملازمین کے خوالہ کیا ہے جس سے زمیندار متاثر ہورہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ سول ہسپتال طو طالئی کے چار ملازمین تنحواہیں یہاں سے لیتے ہیں جبکہ ڈیوٹیاں اپنے آبائی علاقوں میں کرتے ہیں ۔ناظم ولی رحمان اور گل محمد خان عرف طو طا نے سلارزئی میں ماربل سٹی کے قیام کو علاقہ سلارزئی کے لئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقہ کے عوام کی زرعی زمین انتہائی کم ہیں جس میں انکا گذارہ بہ مشکل ہوتا ہے ۔ماربل سٹی کے قیام سے وہ در بدر کی ٹوکریں کھانے پر مجبو رہوجائیں گے ۔کسان کونسلر شاہ جہان عرف شاہ جی نے کہا کہ سروے میں دس کمروں پر مشتمل گھر اور ایک کمرہ پر مشتمل گھر کی یکساں معاوضہ دینا سرار زیادتی ہے ۔سردار علی خان نے جزوی مکانات کی رجسٹریشن نہ کرنے پر عوام کے ساتھ ظلم قرار دیا ۔اور کہا کہ جتنے بھی مکانات کو نقصان پہنچا ہے وہ استعمال کے قابل نہیں چاہئے زمین پر گر اہوں یا نہ سب کو یکساں معاوضہ دیا جائے ۔یو سی پا چا کلے کے ناظم حاجی صدیق اللہ نے کہا کہ بیو رو کریسی موجودہ بلدیاتی نظام کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔اس لئے وہ عوامی مسائل کے حل میں طرح طرح کی پیچیدگیاں پیداکررہے ہیں انہوں نے کہا کہ محکموں میں کرپشن کی بندش کی وجہ سے حکام ترقیاتی فائیلوں کو ہاتھ نہیں لگاتے انہوں نے کہا کہ چار دن گزر نے کے باوجود زلزلہ متاثرین کھلے اسمان تلے پڑے ہیں جو انتطامیہ کے لئے شرم کی بات ہیں ۔انہوں نے مرلن این جی اوز کو فنڈز کی فور ی فراہمی کا مطالبہ کیا ۔یو سی نو رئیزی کے ناظم کامران خان نے ہسپتالوں میں کتوں اور سانپوں کے ویکسئین کی نایابی پر شدید تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ ہسپتالوں کو وئیکسئین کے ساتھ ساتھ دوسرے ضروری ادویات فراہم کی جائے ۔ضلع نائب ناظم یو سف علی نے تما م محکموں کے سربراہان کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ائندہ اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ،شرکت نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -