بشارالاسد شامی تنازعہ کا حل چاہتے ہیں تو انہیں اقتدار سے الگ ہونا ہو گا:سعودی عرب

بشارالاسد شامی تنازعہ کا حل چاہتے ہیں تو انہیں اقتدار سے الگ ہونا ہو گا:سعودی ...
بشارالاسد شامی تنازعہ کا حل چاہتے ہیں تو انہیں اقتدار سے الگ ہونا ہو گا:سعودی عرب

  

ویانا (مانیٹرنگ ڈیسک )ویانا میں شامی تنازع کے حل کیلئے ہونے والے عالمی طاقتوں کے اجلاس میں سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ عدیل الزبیر نے کہا ہے کہ ایران کو شام کے تنازع کے حل کے لیے بشارالاسد کی اقتدار سے علیحدگی کو قبول کرنا ہوگا۔تفصیلات کے مطابق شامی تنازع کے بڑے فریقین ،شامی حکومت اور باغیوں کے حمایتی ممالک ویانا میں شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کیلئے بات چیت کر رہے ہیں۔ایران پہلی مرتبہ اس نوعیت کے مذاکرات کا حصہ بن رہا ہے۔ اس بات چیت میں روس اور ترکی بھی شامل ہیں۔ایران اور روس دونوں ہی شامی صدر بشارالاسد کے حامی ہیں۔ دونوں نے حال ہی میں شامی لڑائی میں اپنا فوج کردار ادا کیا ہے جبکہ امریکہ، سعودی عرب اور دورسی خلیجی ریاستوں کا اصرار ہے کہ بشار الاسد اب زیادہ عرصے تک شام کے مستقبل سے وابستہ نہیں رہے سکتے۔

قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ جان کیری بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ باغیوں کا حامی ہے ۔شام کے تنازع کے خاتمے کیلئے سفاتی کوششیں تیز کر دی ہیں ۔بی بی سی کے مطابق سعودی وزیرِ خارجہ کاکہنا تھا کہ اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ بشارالاسد کو جانا ہوگا۔’انھیں جانا ہے چاہے وہ سیاسی عمل کے ذریعے جائیں یا طاقت کے زور پر۔‘علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام کے تنازع کے حل کے لیے ہونے والی بات چیت میں ایران کی شمولیت سے کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔انھوں نے عالمی رہنماو¿ں سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی رہنمائی کا مظاہرہ کریں اور رویوں میں لچک دکھائیں۔

دوسری جانب شام کی سیاسی حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ویانا میں ہونے والی عالمی بات چیت میں ایران کی شمولیت معاملے کو اور بھی پیچیدہ بنا دے گی۔دریں اثنا برطانیہ، فرانس، جرمنی، مصر، لبنان اور یورپی یونین کے وزراءخارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ان مذاکرات میں شامل ہوں گے۔ جبکہ توقع ہے مشرقِ وسطی کی دیگر ریاستیں بھی اس میں شامل ہوں گی۔

مزید :

بین الاقوامی -