تاجروں کو جرمن ویزا کیلئے کسی چیمبر کے لیٹر کی ضرورت نہیں ،رینرشمائیڈن

تاجروں کو جرمن ویزا کیلئے کسی چیمبر کے لیٹر کی ضرورت نہیں ،رینرشمائیڈن

  

 کراچی (اکنامک رپورٹر) جرمن قونصل جنرل رینر شمائیڈن نے کہا ہے کہ تاجروں کو جرمن ویزا کے حصول کے لیے کسی چیمبر سے لیٹر لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔یہ بات انہوں نے جرمن پاکستان ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر چیئرمین ’’جپٹی ‘‘ایاز تھاور ،سی ای او اینس جپی بھی موجود تھے ۔جرمن قونصل جنرل نے کہا کہ تاجر جرمن دعوت نامے پر ویزا حاصل کرسکتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات ویزا کے حصول کے لیے مختلف چیمبرز کے لیٹرز کا غلط استعمال کیا جاتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری پوری کوشش ہوگی کہ پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کو ویزا فری آف کاسٹ دیا جائے تاکہ ان کو جرمنی میں اپنے کاروبار کو فروغ دینے میں مدد مل سکے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خصوصاًکراچی کاروبار کے لیے بہتر مقام ہے اور یہاں پر سرمایہ کار سود مند ثابت ہوسکتی ہے ۔ایاز تھاور نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل کا شعبہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔اس شعبے میں پاکستان کی برآمدات کی مالیت 30ارب ڈالر رہی ہے ۔جبکہ اس کے علاوہ بھی دیگر ایسے شعبے ہیں جہاں سرمایہ کاری فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے ۔واضح رہے کہ جرمن پاکستان ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ (جپٹی)نے 11سے 13نومبر 2015کو جرمنی کے شہر برلن میں ہونے والی سمپوزیم کم ایگزی بیشن میں شرکت کے لیے 13رکنی وفد ترتیب دیا ہے ۔اس ایونٹ کو بی ایم ای کے زیر اہتمام منعقد کیا جارہا ہے ۔بی ایم ای ایک جرمن آرگنائزیشن ہے جو دنیا کی معروف ترین جرمن کمپنیوں کے 2000ممبران کی میزبانی کرتی ہے جو سمندر پار اور یورپ میں مناسب پارٹنرز کو تلاش کررہے ہیں۔زیر تبصرہ ایسوسی ایشن یورپ کا سب سے بڑا خریداری کرنے والا ادارہ ہے جس کی خریداری کا سالانہ حجم 1.25ارب یوروز ہے ۔اس مقصد کے حصول کے لیے بی ایم ای ہر سال مذکورہ سمپوزیم (ایگزی بیشن) کا انعقاد کرتی ہے ۔اس ایونٹ میں مختلف کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے فیصلہ ساز سی ای اوز موجود ہوتے ہیں ۔جبکہ اس ایونٹ میں مکینیکل اینڈ پلانٹ انجینئرنگ ،کار میکرز اینڈ آٹوموٹیو سپلائرز ،ڈسٹری بیوشن سیکٹر ،میٹل پروڈکشن اینڈ ورکنگ ،ٹمبر اینڈ فرنیچر اور فوڈ سمیت دیگر شعبوں میں کاروبار کو فروغ دینے کے مواقع موجود ہیں ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -