پی این ایس سی کو دو ارب 11 کروڑ روپے کا نیٹ منافع

پی این ایس سی کو دو ارب 11 کروڑ روپے کا نیٹ منافع

  

کراچی(اکنامک رپورٹر) پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے چیئرمین عارف الٰہی نے کہا ہے کہ اس وقت تمام شپنگ کمپنیاں نقصان میں جارہی ہیں لیکن پی این ایس سی منافع میں ہے، اس سال پی این ایس سی کو دو ارب 11 کروڑ 64 لاکھ 10 ہزار روپے کانیٹ منافع ہوا، پی ایس او پر ڈیمریجز کی مد میں ہمارے ڈیڑھ ارب روپے واجب الادا ہیں، کوشش ہے کہ یہ رقم گردشی قرضوں میں نہ چلی جائے، اس معاملے میں وزیراعظم اور وزیر پیٹرولیم سے رابطے میں ہیں،دودن بعد پوری مینجمنٹ ایم ڈی پی ایس او عمران الحق سے ملاقات کرکے ادائیگی پر بات کرے گی، کراچی کی بندرگاہوں کی گہرائی بڑھ جائے تو ہمارے جہاز وں کی آئل لانے کی گنجائش60فیصد سے بڑھ کر 80فیصد ہوجائے گی اور ہمارے جہاز وں کو آئل آف لوڈنگ کے لیے پورٹ پر انتظار نہ کرایا جائے تو یومیہ40ہزار ڈالر (ڈیمریج) کی بچت ہوگی۔ یہ بات انہو ں نے پی این ایس سی شیئر ہولڈرز کے 37ویں اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایڈمن بریگیڈئیر(ر) راشد صدیقی، ڈائریکٹر فنانس امتیاز آگبوٹ والااور دیگر بورڈ آف ڈائریکٹرز موجود تھے۔چیئرمین عارف الٰہی نے بتایا کہ پی این ایس سی کے جہاز جو آئل لاتے ہیں ان جہازوں کو پورٹ پر لگنے کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے ، ایک جہاز کو دوران انتظار یومیہ 40ہزار ڈالر تک ادائیگی کرنا پڑتی ہے جس سے لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پی ایس او سے آئل کی ترسیل کا معاہدہ ہے جس کے مطابق ہر سال جنوری میں نرخ دوبارہ طے کرنے کی شق شامل ہے تاہم تین برس سے نرخ ریوائز نہیں ہوئے ، پی ایس او پر ڈیمریجز کی مد میں ہمارے ڈیڑھ ارب روپے واجب الادا ہیں کیوں کہ پی ایس او سے معاہدہ ہے کہ جتنے دن ہمارا جہاز پورٹ پر انتظار کرے گا اضافی لاگت میں سے 15ہزار ڈالر پی ایس او اور بقیہ ڈیمریج پی ایس او ادا کرے گا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈیڑھ ارب کی ادائیگی کے معاملے پر وزیراعظم، وزیر پیٹرولیم سمیت رابطے میں ہیں، کوشش ہے کہ ہماری یہ رقم سرکلر ڈیٹ میں نہ چلی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کی بندرگاہوں پر تیل کو مکمل ڈسچارج کرنے کی گنجائش نہیں، یہ پورٹس گہری نہیں ہیں اس لیے ہمارے جہاز صرف 60فیصد آئل لے کر یہاں آتے ہیں، اگر پی این ایس سی کو آئل اسٹوریج کی جگہ مل جائے اور یہاں کی پورٹس کی گہرائی بڑھ جائے تو یہی جہاز 80فیصد تک آئل لائیں گے، اگر جہاز کو انتظار نہ کرایا جائے تو وہ فوراً ہی آئل آف لوڈ کرکے دوبارہ شپمنٹ پر روانہ ہوجائیں گے، ان عوامل سے پی این ایس سی کا منافع بڑھ جائے گا جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت آئل کی ترسیل میں آدھے جہاز ہمارے ہیں اور آدھے جہاز پی این ایس سی نے کرائے پر حاصل کررکھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی ایس او نے ڈیمریجز قبول کرتے ہوئے 433ملین روپے عید الفطر سے قبل ادائیگی کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم رقم اب تک نہ ملی، موجودہ ایم ڈی پی ایس او عمران سے بات چیت جاری ہے دو دن بعد ہماری پوری مینجمنٹ ایم ڈی پی ایس او سے ملاقات کرے گی جہاں ڈیڑھ ارب روپے کی ادائیگی پر بات ہوگی، ایم ڈی پی ایس او نے اپنے آڈٹ کے بعد رقم دینے کا یقین دلایا ہے ۔ ایک سوال پر چیئرمین عارف الٰہی کا کہنا تھا کہ ہم نے پی ایس او کو جوائنٹ وینچر کمپنی کھولنے کی بھی پیشکش کی ہے تاکہ دونوں مل کر جہازوں کے ذریعے آئل کی ترسیل کریں کیوں کہ پی ایس او آئل کی ترسیل کے لیے بیرونی جہاز کرائے پر حاصل کرتا ہے تو لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے پی ایس او اور قومی خزانے کو نقصان ہوتا ہے اور تیل کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے صارف کو اضافی بوجھ اٹھانا پڑتا ہے ۔

مزید :

کراچی صفحہ آخر -