عمران خان نے اپنی فطرت کے خلاف بہت لچک کا مظاہرہ کیا، ریحام چاہتیں تو ان کے ساتھ چل سکتی تھیں: حامد میر

عمران خان نے اپنی فطرت کے خلاف بہت لچک کا مظاہرہ کیا، ریحام چاہتیں تو ان کے ...
عمران خان نے اپنی فطرت کے خلاف بہت لچک کا مظاہرہ کیا، ریحام چاہتیں تو ان کے ساتھ چل سکتی تھیں: حامد میر

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ریحام خان کی علیحدگی کی خبر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ عمران خان طلاق کا فیصلہ ڈیڑھ دو ماہ پہلے کر چکے تھے لیکن انہوں نے ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی اور انہوں نے اپنی عادلت کے خلاف صبر اور برداشت سے کام لیا اور اگر ریحام خان چاہتیں تو عمران خان کے ساتھ چل سکتی تھیں تاہم بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔

انہوں نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا کہ دونوں کی طلاق کے پیچھے عمران خان کی بہنوں کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ریحام خان کے درمیان بہت نجی نوعیت کے معاملات ہیں اور میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ یہ طلاق دونوں بہنوں کی وجہ سے ہوئی ہے اور نہ ہی عمران خان ان کے کہنے پر طلاق دے سکتے ہیں۔ طلاق کا ان کی بہنوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ لاہور کے ضمنی انتخابات سے پہلے ہو چکا تھا لیکن اس پر عملدرآمد اب ہوا ہے تاہم یہ بات سچ ہے کہ عمران خان نے اپنی فطرت کے برعکس بہت لچک کا مظاہرہ کیا اور اگر ریحام خان چاہتیں تو عمران خان کے ساتھ چل سکتی تھیں تاہم بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان چاہتے تھے کہ ریحام خان اپنی سرگرمیاں سماجی فلاح و بہبود کے کاموں تک رکھیں اور سیاست میں نہ آئیں لیکن ریحام خان سیاست میں آ گئیں جبکہ ان کی طاقت صرف یہی تھی کہ وہ عمران خان کی بیوی تھیں اور اگر وہ عمران خان کی بیوی کی حیثیت سے دنیا میں پہچانی جا رہی تھیں تو ان کا کام تھا کہ وہ عمران خان کی خواہش کا احترام کرتیں لیکن اس کے باوجود وہ لاہور کے ضمنی انتخابات میں بھی چلی گئیں اور عمران خان نے اسے بھی برا منایا۔

ایک سوال کے جواب میں حامد میر نے کہا کہ طلاق کے فیصلے کا بلدیاتی انتخابات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، پاکستان میں ایسے بہت سے یاستدان ہیں جن کی شادیاں ناکام بھی ہوئیں اور کامیاب بھی ہوتی ہیں تاہم یہ عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ ان کی دوسری شادی بھی ناکام ہو گئی ہے جبکہ اس طلاق کی اصل وجوہات بھی آہستہ آہستہ سامنے آئیں گی۔

مزید :

لاہور -اہم خبریں -