کیا حکومت بزرگوں کو مرنے کے بعد پنشن کے بقایا جات دے گی ،ہائی کورٹ نے حکومتی تجویز مسترد کردی

کیا حکومت بزرگوں کو مرنے کے بعد پنشن کے بقایا جات دے گی ،ہائی کورٹ نے حکومتی ...
 کیا حکومت بزرگوں کو مرنے کے بعد پنشن کے بقایا جات دے گی ،ہائی کورٹ نے حکومتی تجویز مسترد کردی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہورہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی بزرگ پنشنرز کو ڈبل پنشن کے بقایاجات کی ادائیگی 7 سال میں کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اتنے عرصہ کے دوران بزرگ پنشنرز میں سے کتنے پنشن لینے کے لئے زندہ رہیں گے ،ان میں سے متعدد تو پہلے ہی وفات پاچکے ہیں ،ایک سال میں بقایاجات ادا کئے جائیں۔گزشتہ روز مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کی عدالت میں ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ خالد جمیل نے پیش ہوکر بتایا کہ پنشنرز کے بقایا جات کی ادائیگی کیلئے 30 ارب روپے درکار ہیں اتنی بڑی رقم کی فوری ادائیگی ممکن نہیں ،سات سال کے عرصے میں ادا کرسکتے ہیں۔درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پنشنرز کے بقایاجات کی رقم اتنی زیادہ نہیں بنتی ،بہتر ہے عدالت آڈٹ کرالے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔جس پر فاضل عدالت نے ہدایت کی کہ 14 نومبر تک حکومت فرگوسن اینڈ فرگوسن کمپنی سے آڈٹ کراکے اس کی رپورٹ 20 نومبر کوعدالت میں پیش کی جائے۔فاضل عدالت نے قرار دیا کہ آڈٹ رپورٹ میں جتنی رقم بقایاجات کی بنے گی وہ ایک سال میں بزرگ پنشنرز کو ادا کی جائے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ پاکستان نے بھی بزرگ پنشنرز کو ڈبل پنشن ادا کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

مزید :

لاہور -