پاکستان کا وہ گاؤں جسے دیکھنے کے لئے ’گورے‘پاکستان بھاگے چلے آتے ہیں، ایسا کیا ہے اس گاؤں میں؟جان کر آپ بھی اسے دیکھنے ضرور جائیں گے

پاکستان کا وہ گاؤں جسے دیکھنے کے لئے ’گورے‘پاکستان بھاگے چلے آتے ہیں، ایسا ...
پاکستان کا وہ گاؤں جسے دیکھنے کے لئے ’گورے‘پاکستان بھاگے چلے آتے ہیں، ایسا کیا ہے اس گاؤں میں؟جان کر آپ بھی اسے دیکھنے ضرور جائیں گے

  

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان میں اکثر امیر لوگ سیر و تفریح کے لئے یورپ اور امریکہ کا رخ کرتے ہیں لیکن ہمارے پیارے وطن میں ایک گاؤں ایسا بھی ہے جسے دیکھنے کے لئے انگریز اس ملک کا رخ کرتے ہیں۔

حال ہی میں ’نیشنل جیوگرافک ‘کی ویب سائٹ پر ’میتھیوپالے‘نے اپنی آپ بیتی لکھی ہے جس میں کراکرم رینج کے اس گاؤں کے بارے میں لکھا ہے جسے دیکھنے کے لئے وہ گذشتہ 17سال سے آرہا ہے۔’گوجال‘نامی اس گاؤں کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہ گاؤں جدید سہولیات سے آراستہ نہیں تھا لیکن اچھی سڑک کی تعمیر کی وجہ سے بیرونی دنیا کی کئی سکتی ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ پہلی بار وہ اس گاؤں میں 1999ء میں 25سال کی عمر میں اپنی گرل فرینڈکے ساتھ آیا تھااور اس کا ارادہ کراکرم رینج کی بلند ترین چوٹیوں کو دیکھنے کا تھا،وہ اس گاؤں سے اس قدر متاثر ہوا کہ ہر بار اس گاؤں میں ضرور آتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں قدرتی مناظر اور قدر خوبصورت ہے کہ وہ پوری دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ یہاں ضرور آئیں۔

شام کے یہ خوبصورت ترین تاریخی مقامات جنگ کے بعد اب کس حالت میں ہیں؟ دیکھ کر آپ کا دل خون کے آنسو روئے گا

’’دنیا کے لوگوں کے دلوں میں پاکستان کا امیج دہشتگردی سے جڑے ہوئے ملک کا ہے لیکن جو پاکستان میں نے دیکھا وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو میڈیا کے ذریعے دنیا کو دکھایا جاتا ہے۔‘‘میتھیواس موسم گرما میں اپنی فیملی کے ساتھ اس گاؤں میں آیا۔اس کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ اس گاؤں میں آیاہر بار تبدیلی دیکھنے کو ملی۔’’اب یہاں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بیرون ملک تعلیم کی غرض سے جانے لگے ہیں، سڑک کنارے دکانوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، کھانے پینے کی اشیاء بکثرت دستیاب ہیں لیکن ان تمام تبدیلیوں کے باوجوداس گاؤں کے لوگوں کا جذبہ ویسا ہی ہے جو آج بھی باہر سے آنے والے سیاحوں کو لے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔‘‘مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جہاں کئی تبدیلیاں آئی ہیں ان میں سب سے بڑی سمارٹ فونز کاآنا ہے جس نے یہاں کی دنیا ہی تبدیل کرکے رکھ دی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس