دوافراد کا قتل کیس،دہشتگردی کی دفعہ ختم،چالان سیشن کورٹ بھجوا دیا گیا

دوافراد کا قتل کیس،دہشتگردی کی دفعہ ختم،چالان سیشن کورٹ بھجوا دیا گیا

لاہور(نامہ نگار)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈیفنس اے میں قتل ہونے والے دو افراد کے کیس سے دہشت گردی دفعہ ختم کرکے چالان سیشن کورٹ سماعت کے لئے بھجوا دیاہے۔مذکورہ کیس کو سماعت کے لئے سیشن جج نے ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل کی عدالت میں بھجوا دیاہے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ڈیفنس اے پولیس نے قتل ہونے والے محمد یوسف اور راہ گیر خاتون شمیم بی بی کے قتل کے الزام میں ارسلان، مقصود، فیضان علی اور ملک ارشد کے خلاف چالان پیش کیا ،ملزموں پرالزام ہے کہ انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے دونوں کو ہلاک کردیا تھا۔

عدالت میں چالان آنے پر کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ملزمان کے وکلا نے عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کردیا اور استدعا کی کہ یہ کیس دہشت گردی عدالت کا نہیں بنتا اس کو سیشن کورٹ بھجوایا جائے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے محمد یوسف پر تلخ کلامی پر فائرنگ کی جس سے راہگیر خاتون شمیم گولی لگنے سے ہلاک ہو گئی یہ کیس دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا عدالت نے دلائل کے بعد کیس سے دہشت گردی کی دفعہ کو ختم کردیا اور چالان کو سماعت کے لئے سیشن عدالت بھجوا یا،سیشن جج نے مذکورہ کیس سماعت کے لئے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں بجھوا دیا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4