’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘

’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘
 ’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘

  

میری سمجھ میں آج تک یہ بات نہیں آئی کہ یہ محاورہ’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘ معنوی طور پر منفی انداز میں ہی کیوں استعمال کیا جاتا ہے۔یہ عمومی طور کسی خاندان کی مجموعی خامیوں کی وجہ سے بطور تمسخر استعمال کیا جاتا ہے۔میں یہاں اس بحث میں نہیں الجھنا چاہتا کہ معنوی طور پر اس قدر خوبصورت محاورے کا استعمال اس قدر منفی کیوں ہے،لیکن اس وقت میں اس محاورے کو مثبت معانی میں استعمال کرنا چاہتا ہوں۔میں جس خاندان کے لیے اس محاورے کا استعمال کر رہا ہوں اس کو اس کی علمی اور ادبی خدمات کی وجہ سے وطنِ عزیز میں ہی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ ان کی مذہبی خدمات کی وجہ سے برادر اسلامی ممالک میں بالعموم اور سعودی عرب میں با لخصوص قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔گوجرانوالہ کے معروف علاقہ گرجاکھ سے تعلق رکھنے والے معروف عالمِ دین مولانا نور حسین ؒ گرجاکھی کے خاندان کا ایک ایک فرد اپنی اپنی جگہ پر آفتاب ہے۔کسی نے علمی میدان میں اپنی قابلیت اور صلا حیت کا لوہا منوایا تو کسی نے ادبی میدان میں اپنی قابلیت کے جوہر دکھائے۔اس خاندان کے افراد نے صنعت و حرفت کے میدان میں قدم رکھا تو گوجرانوالہ کی عزت میں عالمی سطح پر اضافے کا سبب بنا اور ملکی معیشت کو استحکام بخشا۔ایک مختصر سے کالم میں پورے خاندان کے افراد کی قابلیت اور صلاحیت کو بیان کرنا ناممکن بات ہے۔اس کے لیے الگ سے دفتر درکار ہے۔میں یہاں اس خاندان کے علمی اور ادبی محسنوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

مولانا نور حسین ؒ گرجاکھی شہر کی ممتاز علمی و ادبی شخصیت تو تھی ہی ،اپنے کردار اور اعمال کی وجہ سے ان کا شمارخاصانِ بارگاہ میں کیا جاتا ہے۔آج بھی ان کا نام ایک ممتاز عالمِ دین اور ولیِ کامل کی حیثیت سے بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کی دینی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے مگر میں یہاں ان کی اور ان کے فرزندان کی علمی اور ادبی خدمات کا ہی ذکر کرنا چاہوں گا۔مولانا مرحوم موصوف کو جب اللہ رب العزت نے حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سفر کی سعادت بخشی تو انہوں نے اپنے جذبات اور احساسات کو شاعری کے سانچے میں ڈھالا اوراس مبارک سفر کا احوال’’اللہ سوہنے کرم کمایا‘‘ کے عنوان سے اپنی مادری زبان پنجابی میں نہایت خوبصورتی اور وارفتگی سے کیا۔ان کی ادبی شناخت کے لیے ان کا یہ ’’منظوم سفرنامہِ حج‘‘ ہی کافی ہے۔مولانا مرحوم کے بڑے فر زند جناب عبدالواحد نے اپنے والد مر حوم کے ادبی سفر کو آگے بڑھایا اور راسخ عرفانی کے ادبی نا م سے ملک بھرکے خواص وعام میں شہر ت پائی ۔ اُ ن کی تصا نیف نے ملک گیر شہر ت حا صل کی ۔ ملک کے نا مور اصحا بِ علم ودانش اورناقدینِ فن نے اُن کی فنی مہارت اور اسلوبِ نگا رش کو سراہتے ہو ئے خو ب داد دی ۔غبارِ حِجاز ، ارمغا نِ حرم ، ذکر خیر ﷺ ، حدیثِ جاں ، نسیمِ منٰی ، نِکہتِ حرا جیسی تصانیف ان کی آخرت میں بخشش کا ساما ن ٹھہریں تو ریت پر نقش،ہواؤں کے بھنور میں،میری نئی بیاض، محفلِ امکاں، حرفِ گریزاں، دامنِ خواب، رنگِ تغزل،خلشِ خارجیسے قابلِ قدرمجموعہ کلام اُ ن کی ادبی وعلمی شہر ت میں دائمی اضافے کا سبب بنے ۔ اب ان کا سارا کلام دو جلدوں میں یکجا کر دیا گیا ہے۔’’حمدِ رب العلےٰ، نعتِ خیرالوریٰ‘‘ میں ان کا سارا حمدیہ اور نعتیہ کلام جمع کر کے کلیات کی شکل میں شائع کیا جا چکا ہے، جبکہ’’کلیاتِ راسخ عرفانی‘‘ میں ان کی تمام غزلیات اور نظموں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ جناب راسخ عرفانی اس دنیا میں موجود نہیں ،مگر ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔وہ اپنے کلام کی صورت میں ہمیشہ ہمارے ارد گرد موجود رہیں گے۔

مولانا نور حسین ؒ گرجاکی کے دوسرے فرزند مولانا خالد ؒ گرجاکھی نے اپنے والدِ محترم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اللہ کے دین کی سربلندی کو اپنا مشن بنا لیا۔انہوں نے تا حیات اللہ کی توحید اور نبیِ آخرالزماں ﷺ کی رسالت کا علم بلند کیے رکھا۔ ان کی دینی تصانیف عرب و عجم کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں۔ مولانا خالدؒ گرجاکھی کا جنازہ علاقہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا جس میں بلا شبہ ہزاروں افراد شریک تھے اور ان کی خوش نصیبی دیکھئے کہ بیت اللہ میں امام کعبہ کی امامت میں بھی ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ مجھے مولانا خالد ؒ گرجاکھی کی تصانیف سے استفادہ کرنے کا شرف تو حاصل نہیں ہوا ،مگر میرے علم میں ہے کہ ان کی دینی تصانیف کی تعداد ایک سو کے لگ بھگ ہے۔ مولانا خالدؒ گرجاکھی کے دینی جان نشین مولانا ادریس بن خالد گرجاکھی اب علمِ توحید و رسالت تھامے ہوئے ہیں اور دِن رات اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کوشاں ہیں جبکہ مولانا کے پوتے پروفیسر احمد کلیم ادبی اور علمی میدان میں اپنے خاندان کے نام کو مزید روشن کر رہے ہیں۔’’مری قسمیں تو واپس دو‘‘ کے نام سے ان کا پہلا مجموعہ کلام چھپ کر داد و تحسین سمیٹ چکا ہے۔

مولانا نور حسین ؒ گرجاکھی کے سب سے چھوٹے بیٹے جناب عبد الغنی المعروف ثاقب عرفانی اپنے والد اور بڑے بھائی کے علمی اور ادبی جان نشین کے طور پر اپنے آپ کو دنیائے ادب میں منوا چکے ہیں۔جناب ثاقب عرفانی کا پہلا مجموعہ نعتیہ کلام پر مشتمل تھا۔’’حریمِ نعت‘‘ ان کی ادبی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہی نہیں بلکہ ان کے دل میں عشق نبی ﷺ کے موجزن سمندر کی بھی دلیل ہے۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سچی محبت ان کی شاعری کی اساس ہے۔وہ سمجھتے ہیں عشقِ حقیقی ہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ عشقِ مجازی کے نام پر ’’ بے راہ روی‘‘ ان کی طبیعت کا خاصہ نہیں۔با مقصد شاعری ان کا ادبی مشن ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کو ہی اپنی ’’تبلیغ‘‘ کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ ہمیں انسان کی تخلیق کے بنیادی فلسفے سے آگاہ کرتا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت پر آمادہ کرتا ہے۔ یہ نہیں کہ انہوں نے جنسِ مخالف سے محبت کی ہی نہیں۔ انہوں نے بھی محبت کی اور انتہا کی حد تک کی۔ انہوں نے اپنی زوجہ محترمہ سے بے پناہ محبت کی لیکن اس محبت کا آغاز شادی کے بعد ہوا جو ان کی زوجہ کی وفات کے باوجود اب بھی جاری ہے۔ اپنی زوجہ کی وفات کے بعد ایک ایک لمحہ انہوں نے کس اذیت سے گزارا’’ کربِ مسلسل‘‘ اس کی گواہ ہے۔’’ کربِ مسلسل‘‘ ان نظموں کا مجموعہ ہے جو انہوں نے اپنی مرحومہ بیوی کی یاد میں لکھی ہیں۔ایک ایک نظم اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ محبت ایک ابدی حقیقت کا نام ہے۔ یہ کسی جذباتی کیفیت کا نام ہر گز نہیں۔ جناب ثاقب عرفانی کی اپنی زوجہ مرحومہ سے محبت اس کا عملی ثبوت ہے۔ غالباََ اس وقت وہ نوے برس کے ہونے کو ہیں ۔جوانی تو کئی عشرے پیچھے حیات کی دہلیز پر چھوڑ آئے ہیں۔ اگر محبت کسی وقتی اور جذباتی کیفیت کا نام ہوتا تو آج بھی اپنی بیوی کو یاد کر کے ان کی آنکھیں نم نہ ہو جایا کریں۔ جذبات کی آندھی تو وہ وقت کی کربلا میں چھوڑ کر بہت آگے آچکے۔ ان کی اپنی بیوی سے محبت اس بات کی غماز ہے کہ محبت کسی وقتی اور جذباتی کیفیت کا نام نہیں۔یہ ایک مسلسل اور مستقل ابدی سچائی کا نام ہے۔ یہ کارِ مسلسل ہے۔وہ ایک کامیاب صنعت کار تو ضرور ہیں ،مگر کوئی شہنشاہ نہیں۔پھر بھی وہ اپنی محبت کے لیے تاج محل تعمیر کرتے ہیں۔انہوں نے ’’تاج محل‘‘ ہی نہیں ’’اہرام‘‘ بھی تعمیر کر رکھے ہیں۔ مگر یہ ’’ اہرام ‘‘مٹی ، پتھر اور چونے سے تعمیر شدہ نہیں۔یہ تخیل سے تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس کا مظہر ان کا مجموعہ کلام’’ اہرامِ تخیل‘‘ ہے۔ یہاں سطور کی کمی آڑے نہ ہو تو میں ان کے تخیل سے تعمیر کیے گئے ’’اہرام‘‘ آپ کو ضرور دکھاتا۔ یہاں تو بس اتنا کہنا ہی کافی سمجھتا ہوں کہ سچے جذبے پاک اور صاف خیالات کو جنم دیتے ہیں،جن سے ایسے’’ اہرام ‘‘وجود میں آتے ہیں جو رہتی دنیا تک اپنے معمار کی عظمت کے گن گاتے ہیں۔’’اہرامِ تخیل‘‘ جناب ثاقب عرفانی کے صادق جذبات، احساسات،پاکیزہ ذہنی مشقت اورقلبی ریاضت کا عملی نمونہ ہے۔ جب تک نیک نگاہیں صادق سطور کی متلاشی رہیں گی ،جناب ثاقب عرفانی کے تخیل کے اہرام ان کے سامنے ایک ابدی صداقت کی صورت تابندہ رہیں گے۔ ثاقب عرفانی اپنے عہد کے ہی نہیں آنے والے کئی زمانوں کی صداقت کے امین ہیں۔ صدیوں کے چہرے پر جمنے والی کائی بھی ان کے نقوش مٹانے سے قاصر رہے گی۔ میں یہاں ان کی ایک غزل کے چند اشعار پیش کر کے آپ سے اجازت چاہوں گا۔

موت کیا آئی کہ حصے جسم کے کٹنے لگے

لاش کے ٹکڑے مری اولاد میں بٹنے لگے

بم پھٹے،ایٹم پھٹے،پھٹنے لگے اعصاب بھی

وقت کیا آیازمین و آسماں پھٹنے لگے

اڑ گئیں سر سے ردائیں،چھن گئی تن سے قبا

جب پڑی سر پر تو سب آموختہ رٹنے لگے

اعترافِ آدمیت سے ملی راہِ نجات

غار کے سنگین پتھر خود بخود ہٹنے لگے

ختم کب ہوگا خدا وندا یہ سودائے سفر

اب تو سر کے بال گردِ عمر سے اٹنے لگے

مزید : کالم