پنجاب کی تمام عدالتوں میں قائداعظم ؒ کی یکساں تصاویر لگانے کا فیصلہ

پنجاب کی تمام عدالتوں میں قائداعظم ؒ کی یکساں تصاویر لگانے کا فیصلہ
 پنجاب کی تمام عدالتوں میں قائداعظم ؒ کی یکساں تصاویر لگانے کا فیصلہ

  

لاہور ہائیکورٹ کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخی تقریبات یکم نومبر سے شروع ہورہی ہیں اس موقع پر مختلف تقریبات کیلئے کئی پروگرام تیار کئے گئے ہیں ، جو لاہور ہائیکورٹ میں عدلیہ اور ہائیکورٹ با رایسو سی ایشن نے مل کرتیار کئے ہیں ۔جس میں اہم شخصیا ت کو مدعو کیا جارہا ہے جن میں دوسرے ممالک کے مہما ن حضرات بھی شرکت کر ینگے ۔ثقافتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس سید منصور علی شا ہ نے ایک انتہا ئی اہم فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر کی ضلعی عدالتوں اور ججوں کے کمروں میں قائداعظم ؒ کی یکساں تصاویر آویزاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،اس مقصد کیلئے چیف جسٹس نے ایک تصویر کی منظوری بھی دیدی ہے اور چار ہزار تصاویر کی تیاری کا حکم بھی دیدیا گیا ہے ۔ یکم نومبر کو یہ تصاویر پنجاب بھر کے سیشن ججوں کو بھجوادی جائیں گی ، اور پہلے سے آویزاں مختلف تصاویر کو اتارلیا جائیگا جہاں نئی تصاویر لگادی جائینگی ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ بہت اچھا ہے ،اسے لاہور ہائیکورٹ تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں بھی با با ئے قوم کی ایک ہی تصویر ہر کورٹ ، کچہری اور ججوں کے چیمبر ز میں ہونی چاہیے جس طرح تمام اقوام عالم اپنے مما لک کے قومی رہنما ؤں کو اپنے مما لک کے قومی لبا س میں فحریہ طورپر دکھاتی ہیں ۔بھارت کے تمام صوبو ں میں مہاتما گاندھی کی ایک ہی تصویر رائج ہے یہی تصویر کرنسی نوٹوں پر بھی ہے اور عدالتوں میں بھی آ ویزاں ہے ، انکے پاس بھی گاندھی کی مغربی لباس والی تصاویر ہیں مگر وہ ہمیشہ اس کے مخصوص لبا س میں ہی دکھاتے ہیں ۔ ایران کے مذہبی رہنماؤں ، عرب مما لک کے قومی رہنماؤں ، مغربی مما لک کے رہنماؤں کو بھی ان کے قومی لباس میں ہی دکھا یا جاتا ہے ۔

جب تک تصویر منظر عام پر نہیں آ جاتی اس وقت تک کچھ کہنا مناسب نہیں ہے کیونکہ ابھی تک یہ تصویر میڈیا سے دور رکھی گئی ہے اگر میڈیا تک اس تصویر کی رسائی ہوتی تو اب تک صورت حال واضح ہو چکی ہوتی ۔غالب امکان یہی ہے کہ قائداعظم ؒ کی قومی لباس والی تصویر کی منظوری د ی گئی ہوگی ۔جس طرح ملک بھر کے تمام کرنسی نوٹوں پر ایک ہی تصویر شائع کی جارہی ہے ۔ہماری قومی بے حسی کی بدولت 1947 سے 2000 تک کرنسی نوٹوں پر قائداعظم ؒ کی مغربی لباس والی تصویر ہی شائع ہوتی رہی ہے اس تصویر کی تبدیلی کا مطالبہ ملک بھر میں صرف ادارہ قومی تشخص کے بانی صدر ڈاکٹر اختر علی مرحوم کی جانب سے ہوتا رہا مگر کسی بھی حکومت نے اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا ، جبکہ ڈاکٹر صاحب ہر سال یکم جولائی کو یوم سٹیٹ بنک کے موقع پر ایک خصوصی تقریب منعقد کرتے تھے جس میں قائداعظم کی تصویر کی تبدیلی کا مطالبہ کیا جاتا تھا اور یادداشت کے طورپر قرارداد یں پاس کرکے حکومتی ایوانوں تک بھیجی جاتی تھیں ۔اور یہ عمل 1970سے 30 سال جاری رہا ۔

ادارہ قومی تشخص نے قا ئداعظم ؒ کی شخصیت کے تمام اہم پہلوؤں کو اجاگر کرنے کیلئے ایک پمفلٹ بھی شائع کیا ہوا تھا جس میں تمام عالمی رہنماؤں کو ان کے قومی لباس میں دکھایا گیا تھا جبکہ قائداعظمؒ کو مرحلہ وار 11 ۔اگست 1947 کو حصولِ آزادی کے بعد سر زمین پاکستان میں پہلا قدم ہی قومی لباس میں رکھتے ہوئے دکھایا گیا تھا پہلے گورنر جنرل پاکستان کا حلف بھی قومی لباس میں ، پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب ، سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح ، مسلح افواج سے خطاب ، پاکستان کے تمام صوبوں کے دورہ کے موقع پر بھی انہوں نے قومی لباس ہی استعمال کر کے یہ ثابت کردیا تھا کہ آئندہ پاکستان کا یہی لباس ہوگا ۔ با لا خر 2000 میں حکومتی سربراہوں نے اس پر غوروخوص کے بعد کرنسی نوٹ ڈیزائن کرنیوالی ہالینڈ کی کمپنی نے بابائے قوم کی زندگی کا بھرپور جائزہ کے بعد کرنسی نوٹوں پر قائداعظم ؒ کی موجودہ تصویر شائع کرنیکا فیصلہ کیا جس پر آج تک عملدرآمد ہورہا ہے کہ آپ کی قومی لباس والی تصویر ہی شائع کی جارہی ہے جسے تبدیل کرنا اب کسی کے اختیار یا بس میں نہیں ہے ۔ ادارہ قومی تشخص کو ہمیشہ یہ شرف حاصل رہیگا کہ اس کے سربراہ نے قائداعظم ؒ کی تصویر کو مغربی لباس سے آزاد کرایاتھا ۔ڈاکٹر صاحب کو وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس گل محمد خاں مرحوم سابق صدرپاکستان جسٹس محمد رفیق تارڑ ، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس راجہ افراسیا ب خاں صاحب لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس خلیل الرحمن خاں صاحب اور دیگر کئی جج صاحبان کی رفاقت اور سرپرستی اور حمایت بھی حاصل رہی جنہوں نے تصویر کی تبدیلی میں اہم رول اداکیا اور ادارہ قومی تشخص کے اجلا سوں میں شریک ہو کر قائداعظم ؒ سے وابستگی اور محبت کا ثبوت دیا۔ مذکورہ تمام جج صاحبان نے عدالتوں میں رائج وکلا ء کے موجودہ کالے کوٹ اور کالی نیکٹائی میں تبدیلی کیلئے بھی بہت کوشش کی لیکن اس میں فوری طور پر صرف یہ کامیابی ہوسکی تھی کہ وکلا ء حضرات مروجہ لباس کی جگہ کالی شیر وانی پہن کر بھی عدالتوں میں پیش ہوسکتے ہیں ،جس پر آج تک عمل ہورہا ہے ۔

مزید : کالم