63 فیصد لوگوں کی طرف سے اسلام آباد بند کرنے کی مخالفت

63 فیصد لوگوں کی طرف سے اسلام آباد بند کرنے کی مخالفت

گیلپ سروے رپورٹ 2016ء کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ ان تفصیلات کے مطابق ملک کے سیاسی اور معاشی حالات کی روشنی میں 63 فیصد لوگوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے 2 نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کی مخالفت کی ہے جبکہ 37 فیصد لوگوں نے وزیراعظم نواز شریف کی مخالفت کے حوالے سے اسلام آباد بند کرنے کی حمایت کی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیاسی طور پر سخت الزامات لگائے گئے ہیں، جن کی وجہ سے جمہوریت کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاست میں الزام تراشی کا رجحان شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، سیاسی رہنما عموماً اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کو بھی سیاسی مفادات کے حصول کیلئے جائز اور درست سمجھتے ہیں۔ حکومتی حلقے اپنے مخالفین کو دباؤ میں رکھنے کیلئے ان کے ماضی میں دور اقتدار کی بدعنوانیوں اور اقربا پروری کیلئے خلاف قانون فیصلوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں مقدمات کا آغاز کیا جاتا ہے، ایسے مقدمات کئی کئی سال تک چلتے رہتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کو طویل عدالتی کارروائی بھگتنا پڑتی ہے۔

موجودہ حالات میں وزیراعظم نواز شریف پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے یہ الزام ہے کہ انہوں نے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی اور لندن میں جو لگژری فلیٹس خریدے گئے، ان کی تفصیلات چھپائی گئیں لہٰذا وزیراعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینا چاہئے یا وہ خود کو احتساب کیلئے پیش کردیں۔ اس معاملے میں پانامہ لیکس میں نواز فیملی کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے تاہم وزیراعظم نواز شریف اور دیگر افراد خانہ نے ان الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔ عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف پر دباؤ بڑھانے کیلئے 2 نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں یہ تشویش پائی جا رہی ہے کہ وفاقی دارالحکومت بند ہونے سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوں گے اور حکومتی معاملات چلانے میں دشواریاں پیش آئیں گی۔ اسی حوالے سے گیلپ سروے رپورٹ میں لوگوں کی اکثریت نے اسلام آباد کو بند کرنے کے خلاف رائے دی ہے۔ جمہوری ملکوں میں آزادانہ طور پر اس قسم کی سروے رپورٹ کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے اور رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے اکثریتی اور واضح رائے پر عمل کرنا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ وطن عزیز میں جمہوریت جیسی بھی ہے، اگر آزادآنہ طور پر گیلپ سروے رپورٹ سامنے آئی ہے تو جمہوری رائے کے حوالے سے اس کا احترام تمام حلقوں پر لازم ہونا چاہئے۔ خدا کرے کہ 2 نومبر کا احتجاج پرامن ہوا اور خیریت سے یہ مرحلہ مکمل ہو جائے۔

مزید : اداریہ