اس طرح تو ہوتا ہے۔۔۔ انتظامیہ کی حکمت عملی؟

اس طرح تو ہوتا ہے۔۔۔ انتظامیہ کی حکمت عملی؟
 اس طرح تو ہوتا ہے۔۔۔ انتظامیہ کی حکمت عملی؟

  

’’اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں‘‘ جی! ہاں، جب آپ کسی کو تنگ کریں گے تو اس کی طرف سے بھی جواب کے منتظر رہنا ہوگا، اس میں شکوہ کیسا؟ جمعرات اور جمعہ کو اسلام آباد اور راولپنڈی میں جو کچھ ہوا، عمران خان نے اسے ٹریلر اور نیٹ پریکٹس کہا اور کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے 2نومبر کو میچ کی نوید سنائی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور حامیوں کے حوالے سے ہمارے ایک دوست نے تفصیلی تجزیہ کیا اور ان کا سماجی حیثیت کے حوالے سے جائزہ لیا ہے جو بالکل درست اور صحیح ہے۔ تاہم کپتان کے پاس خیبرپختونخوا سے آنے والے جو کھلاڑی ہیں ان میں سبھی اپر مڈل کلاس والے نہیں ہیں اور راولپنڈی میں جن لوگوں نے ’’پولیس مقابلہ‘‘ کیا ہے، ان کا بھی تعلق سماج کے اس حصے سے نہیں تھا وہ عام کارکن تھے جو ایسے مواقع خود تلاش کرتے ہیں، اگرچہ ان حضرات کی تعداد کے حوالے سے بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، یوں بھی ہمیں تو وہ سین بڑا دلچسپ لگا، جب اسلام آباد میں پہلے ہی روز ہنگامہ ہوا تو شاہ محمود قریشی بیچ بچاؤ کی کوشش کر رہے تھے، ان کے نرم و نازک ہاتھ تکلیف محسوس کرنے لگے تھے جن کو انہوں نے دیکھا بھی، اور اسد عمر تو اس وقت خاموش تماشائی تھے جب تک ان کے سامنے مائیک نہیں آ گئے اور پھر یہ کیمروں کی کرامات ہے کہ دونوں حضرات نے ارشادات بھی فرمایا۔

ہم آج بات کچھ اور کرنا چاہتے تھے کہ درمیان میں اپنے ہی اخبار میں چھپے کالم کا خیال آ گیا جو حسب حال ہے، بات کرنا تھی کہ ہم نے رپورٹر کی حیثیت سے فیلڈ مارشل جنرل (ر) ایوب خان کے خلاف تحریک کی کوریج کی تو جنرل ضیاء الحق کے دور میں جیالوں کی تڑپ اور ان کی قربانیوں کا بھی مشاہدہ کیا جنہوں نے دو طرفہ وار سہے تھے، اس حوالے سے کئی دلچسپ واقعات بھی یاد آ گئے۔ پہلے تو آپ کو ’’پولیس مقابلے‘‘ والی بات بتا دیں، یہ 1947ء کا دور تھا، جب مسلم لیگ نے تحریک سول نافرمانی شروع کر رکھی تھی، لاہور میں دفعہ 144(ض ف) نافذ تھی، مسلم لیگی باغ بیرون موچی دروازہ میں جلسہ کرتے، پھر پانچ افراد کو ہار ڈالتے اور جلوس نکالتے جو گوالمنڈی اور ہال روڈ سے ہوتا ہوا ریگل چوک پہنچتا، یہاں پولیس جلوس کو روکتی اور پھر ہار والے پانچ افراد تو آگے بڑھ جاتے۔باقی حضرات کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال ہوتا، مال روڈ کی گرین بیلٹ کے فائر ہائیڈرنٹ کھول لئے جاتے اور رومال بھگو بھگو کر آنسو گیس سے آنے والے آنسو پونچھے جاتے۔ اس جلوس میں ہم بچے بھی شامل ہوتے اور لے کر رہیں گے پاکستان کے نعرے لگاتے ساتھ چلتے تھے۔جلوس کے ساتھ چلتے ہوئے بچہ لوگ راستے میں پتھر اور اینٹوں کے ٹکڑے اکٹھے کرتے جاتے تھے۔ ایک بزرگ نے بچوں کو ایسا کرتے دیکھا تو پوچھا کیا کر رہے ہو، ہمارے ایک ساتھی نے کہا ’’تہانوں نئیں پتہ، ساڈا تے پولیس مقابلہ اے ‘‘ یوں یہ پولیس مقابلہ تب بھی تھا بڑے بڑے جلوسوں پر بھی آنسو گیس پھینکی جاتی اور منتشر کیا جاتا تھا، ایسا ایوب کے دور میں ہوا تو بھٹو کے خلاف بھی 1977ء میں بھی۔ جبکہ ایک دور آیاکہ جیالوں کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑا۔

جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا کر بھٹو کو گرفتار کر لیا تو جیل سے شیخ رشید اور جہانگیر بدر جیسے راہنماؤں نے پیغام بھیجے کہ سٹریٹ پاور دکھائی جائے۔ چنانچہ باہر جیالوں نے احتجاج شروع کیا، ہمیں یاد ہے کہ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے جو پہلا احتجاجی جلوس نکالا اس کے ساتھ کیا ہوا۔ فوج کا گشت معمول کے مطابق تھا۔یہ جلوس لوہاری گیٹ کے باہر اور اخبار فروش مارکیٹ کی طرف سے بھاٹی گیٹ کی طرف بڑھا، مسلم مسجد کے سامنے اور انارکلی موڑ سے پہلے ہی قومی اتحاد سے تعلق رکھنے والے تاجر ڈنڈے لے کر جلوس پر پل پڑے۔ جیالوں نے مزاحمت کی اور سر پھڑوا لئے یہ جھگڑا طویل ہوجاتا لیکن ایسے میں فوج کا ایک ٹرک آ گیا۔ فوجی جوان نیچے اترنے لگے تو سب تتربتر ہو گئے، اس کے بعد جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے کارندوں اور پیپلزپارٹی کے جیالوں کے درمیان آنکھ مچولی شروع ہو گئی۔ یہ جیالے کبھی بھاٹی، کبھی لوہاری، کبھی دہلی دروازے اور اسی طرح کسی اور جگہ جمع ہوتے اور جلوس نکالتے۔ ابتداء میں تعداد درجنوں پر مشتمل ہوتی۔ ان سے تعرض نہ کیا جاتا حوصلہ بڑھتا تو اگلے روز تعداد میں اضافہ ہو جاتا۔ پھر دو تین دن یہ سلسلہ جاری رہتا اور بالآخر چوتھے، پانچویں یا چھٹے روز جب تعداد ڈیڑھ سو سے ڈھائی سو تک پہنچ جاتی تو پولیس کی بھاری نفری آ موجود ہوتی۔ ایک ٹکڑا جلوس کے آگے آگے اور زیادہ نفری جلوس کے پیچھے چلتی، یوں اگلے حصے والے ہر اول دستہ بن جاتے اور جلوس کو کسی کھلی جگہ لے جاتے اور پھر اچانک چاروں طرف سے گھیر کر سب کو پکڑ لیتے۔ چند ہی کارکن بچ نکلنے میں کامیاب ہوتے۔ ہم صحافی حضرات نے اسے اغوا کا نام دیا اور خبر یہ بنتی کہ پولیس نے پیپلزپارٹی کے جلوس کو اغوا کر لیا۔ جنرل صاحب کے دور میں یہ سلسلہ چلتا رہا، حتیٰ کہ اس حکمت عملی کی وجہ سے اس وقت بھی کوئی بڑا جلوس نہ بن سکا تاہم نوجوانوں نے بھاٹی اور لوہاری دروازہ کے باہر خود سوزی کی اور اپنی جان قربان کر دی۔

پھر ایم آر ڈی کا بھی دور دیکھا،جب گرفتاریوں کی نوبت آئی تو قیادت گرفتار ہوتی چلی گئی، حتیٰ کہ سربراہ کو گرفتار کیا جاتا تو ان کی جگہ کسی اور کو نامزد کرنا پڑتا، یہ تحریک ملک گیر تھی اور جمہوریت کے لئے تھی کارکن بھی سر ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے اور لیڈر بھی اگلی صفوں میں ہوتے تھے۔ انتظامیہ کسی کو چار دیواری کے اندر بھی میٹنگ نہیں کرنے دیتی تھی، بیگم نصرت بھٹو نے گلبرگ میں ایک کوٹھی لی اور اسے پارٹی دفتر کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، ایک روز وہاں میٹنگ رکھی گئی، ہم کوریج کے لئے گئے تو سڑک پر اردگرد پولیس تھی اور جانے والوں کو روکا جا رہا تھا تاہم ملک معراج خالد آئے تو ان کو نہ روکا گیا۔ ہم بھی اسی وقت پہنچے تھے اور ان سے باتیں کرتے ہوئے کوٹھی کے اندر داخل ہو گئے۔ پھر بیگم نصرت بھٹو بھی آ گئیں اور نعروں کی گونج میں اندر پہنچیں بس یہ وقت تھا جب پولیس نے دھاوا بولا اور اندر والے حضرات کو حراست میں لے کر گاڑیوں میں بٹھانا شروع کیا ہم اخباروں والے بڑی مشکل سے اپنی شناخت کرانے کے بعد بچے۔ باہر کارکنوں نے سخت نعرہ بازی کی اور لاٹھی چارج کا بھی مقابلہ کیا۔

قارئین! یہ پرانا عمل ہے جو دہرایا جا رہا ہے، البتہ یہ سوال ضرور پوچھا جا رہا ہے کہ کیا انتظامیہ نے جمعرات کو کریک ڈاؤن کرکے درست اقدام کیا؟ اس کا جواب ہر کوئی اپنی اپنی تاویل کے ساتھ دے رہا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب جلدی ہو گیا۔ اب 2نومبر کو بھی دیکھ لیں گے کہ کیا حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔

مزید : کالم