صوبائی دارالحکومت میں تھانہ کلچر تبدیل نہ ہوسکا ، سائلین دفاتر میں دھکے کھانے پر مجبور

صوبائی دارالحکومت میں تھانہ کلچر تبدیل نہ ہوسکا ، سائلین دفاتر میں دھکے ...

 لاہور(وقائع نگار)صو با ئی دارالحکو مت میں تھانہ کلچر تبدیل نہ ہو سکا ، تھا نو ں میں عام آدمی کو ریلیف ملنا تو درکنار عدا لتو ں کا سہا را لیے بغیر مقد ما ت درج کروانے کی روایت عام ہو گئی جبکہ ایس ایچ اوز کوسی سی پی او آفس سے جا ر ی ہو نے وا لے روزا نہ کے احکا ما ت کسی خا طر میں نہیں لا ئے جا تے۔ تما م درخوا ستو ں پرقا نو ن کے مطا بق فو ر ی کا رروائی کا حکم ملنے کے با وجود ما تحت عملہ اسے نظر اندا ز کر دیتا ہے۔سا ئلین درخواستیں لئے روزانہ ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کے دفا تر کے دھکے کھا نے پر مجبور ہیں جبکہ مذ کو ر ہ افسرا ن ان سے روا یتی بر تاؤ کرتے ہو ئے انھیں 2دن بعد آنے کی ہدایت کر تے ہیں۔ سا ئلین کو کئی ہفتوں تک تھانوں کے چکر لگانے کے بعد با لاآخر مقد ما ت کے اندرا ج کے لئے مبینہ طور پر رشو ت ہی دینا پڑ تی ہے یا عدالتوں کو دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔ روز نا مہ" پا کستان" کے سروے کے مطا بق سی سی پی او آفس میں روزا نہ درجنو ں سا ئلین صرف مقدمات کے اندراج کی درخواستیں لیکر آ تے ہیں ۔سی سی پی او سا ئل کی درخواست پر ما تحت ایس پی کو قا نو ن کے مطا بق کارروائی کی ہدا یت لکھتے ہیں۔ ایس پی کا عملہ ان درخواستو ں کو ایس ڈی پی او آفس بھیج دیتا ہے۔ جو ڈی ایس پی پا رٹیو ں سے خود پیسے حا صل کر نا چا ہتا ہے،س کا ریڈر درخوست کو تھا نے نہیں بھیجتا اور پا رٹی کو وہا ں ہی کا ل کر لیا جا تا ہے۔ اور یو ں اس وقت تک سلسلہ جا ری رہتا جب تک پو لیس افسر مر ضی کا رزلٹ حا صل نہیں کر لیتا۔ درخو استیں زیا دہ ہو نے یا رشوت نظر نہ آنے کی صورت میں ایس ڈی پی اوز ان درخواستو ں کو تھا نے ریفر کر دیتے ہیں۔جس درخواست سے رقم نظر آتی ہو اسے ایس ایچ اوز خود سن لیتے ہیں۔ اور بعض درخواستیں ایس ایچ اوز بیٹ افسرا ن کو مار ک کر دیتے ہیں۔ بعض ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوزسے اور بعض ایس ایچ اوز یہ سا را کا م خو د کرنے کی بجا ئے بیٹ افسران کے ذریعے مبینہ رشوت وصو ل کر تے ہیں۔ یو ں جو افراد ابتدا میں ہی مک مکا کر لیتے ہیں، ان کا سفر مختصر ہو جا تا ہے ورنہ انھیں ایک مقد مے کے لیے کئی کئی ما ہ اس سفر میں لگ جا تے ہیں۔ذرائع کے مطابق چو ر ی ، چیک ڈس آنر ، فرا ڈ، اما نت میں خیا نت سمیت دیگر مقد ما ت کے 5ہزار سے لیکر 2لا کھ رو پے تک وصو ل کے جا تے ہیں۔ اس حوالے سے شہریوں نے نمائندہ ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے مقدمات کا اندراج صرف پیسے دیکر ہی ہوتا ہے یا پھر عدالت کے چکر لگانا پڑتے ہیں جہاں وکلاکو فیس اتنی ہی دینی پڑتی ہے جتنی پولیس اہلکار پیسے مانگتے ہیں اس کے علاوہ عدالت کا راستہ اپنانے میں مقدمہ کے اندراج بھی کئی کئی ماہ لگ جاتے ہیں کیونکہ اندراج مقدمہ عدالت کے فیصلے کے بعد ہی ہوتا ہے۔شہری عنایت کا کہنا تھا کہ ایک ماہ سے ایس پیز ،ڈی ایس پیز اور تھانہ کے چکر لگا رہا ہوں لیکن اس کی جائیداد پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی نہ ہی کوئی مقدمہ درج کیا جا رہا ہے ۔مخالفین نہایت با اثر ہیں اور ان کی اوپر تک پہنچ ہے ۔اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پولیس میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہے ۔اگر اہلکار کسی بھی مقدمہ کے اندراج میں رشوت طلب کرتے ہیں تو متاثرہ افراد کو چاہیے کہ کمپلینٹ سیل میں در خواست دیں تاکہ ان پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

مزید : علاقائی