چارلیڈر ۔۔ چار کہانیاں

چارلیڈر ۔۔ چار کہانیاں
 چارلیڈر ۔۔ چار کہانیاں

  

تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرنے اور شیخ رشید احمد سے ان کی لال حویلی میں جلسے خطاب کرنے کا وعدہ پورا کرنے کے لئے عمران خان بنی گالہ سے باہر نہیں نکلے تو برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو ویب سائیٹ سے منسلک سینئر صحافی نے کہا،’’موسم اور ماحول وہی، بس لیڈر بدل گئے‘ ‘، انہوں نے بے نظیر بھٹو کی آج سے چوبیس، پچیس برس پہلے کی ایک کہانی یاد کی جب نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے پہلے دور میں انہوں نے اپنے کارکنوں سے لیاقت باغ میں خطاب کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر پولیس نے ان کے راستے روک لئے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس بہادری کے ساتھ بے نظیر بھٹوتمام تر رکاوٹیں توڑتی ہوئی، اس وقت اپنے جانثار ساتھی فاروق احمد لغاری کی نیلی پجیرومیں ، لیاقت باغ پہنچی تھیں اور اپنے جیالوں سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا تھا۔ اس صحافی نے بے نظیر بھٹو کی گاڑی کو ایک بند گلی میں جانے سے بھی روکا تھا اور بی بی نے سیدھاراستہ دکھانے پر ایک مسکراہٹ بھرا تھینک یُو ان کی طرف اچھالا تھا۔ مجھے بھی بی بی کا ایک اعلان کر دہ لانگ مارچ یاد ہے جو پرویز مشرف کے دور میں ہی لاہور سے شروع ہونا تھا مگر اس وقت پنجاب پولیس چودھری پرویز الٰہی کے اشاروں پر ناچتی تھی لہٰذا اس نے ناچتے ناچتے سردار لطیف کھوسہ کی رہائش گاہ کو سیل کر دیا تھا۔ اس وقت الیکٹرانک میڈیا پیدا ہو چکا تھا اور وہ وہاں دن رات اپنی ڈی ایس این جیز کھڑی کر کے غوں غاں کرتا رہا تھا۔کارکن صحافیوں کی یادیں بھی غضب کی ہوتی ہیں، بانوے کی یہ کہانی تو ذاتی طور پر میرے علم میں نہیں مگر اتنا ضرور بیان کرسکتا ہوں کہ بی بی کو کہا گیا تھا کہ آپ پاکستان مت آئیںآ پ کی زندگی کو یہاں شدید خطرات لاحق ہیں ، بی بی جس روز وطن واپس لوٹی تھیں اسی رات کارساز پر ان کے قافلے پر حملہ بھی ہوا تھا مگر بی بی ڈری نہیں تھیں، جھکی نہیں تھیں ، رکی نہیں تھیں اور پھر اپنے وطن کی مٹی اور لوگوں کی محبت میں ان کاجاری سفر اسی لیاقت باغ میں ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا تھا جہاں پہلے بھی ہمارے ایک وزیراعظم کی جان لے جاچکی تھی۔

مجھے قاضی حسین احمد یاد آ گئے، بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیراعظم بنی تھیں اور انہوں نے اپنے جانثار ساتھی فاروق لغاری کواسمبلیاں توڑنے کا اختیار رکھنے والے صدرکا طاقت ور ترین عہدہ عطا کر دیا تھامگر یہ وہ دن تھے جب فاروق لغاری کو بھی پیپلزپارٹی کی حکومت میں کیڑے نظر آ ناشروع ہو گئے تھے۔قاضی حسین احمد نے پیپلزپارٹی کی’’ کرپٹ اور سیکورٹی رسک‘‘ حکومت کے خلاف دھرنے کا اعلان کیا تھاجو اسلام آباد میں دیا جانا تھا۔ پیپلزپارٹی نے جماعت اسلامی کے کارکنوں کا راستہ روکنے کے لئے تمام شہر سیل کر دئیے تھے۔ لاہور سے اسلام آباد جی ٹی روڈ کا ہی واحد راستہ ہوتا تھا جسے مختلف مقامات پر دیواریں بنا کے بند کر دیا گیا تھا۔ بھائیوں کی طرح محترم امیر العظیم کی دعوت اور انتظامات پر ہم لاہور سے اسلام آباد بائی ائیر پہنچے تھے اور بندکی ہوئی سڑکوں سے بچتے بچاتے ،گلیوں بازاروں میں گھومتے لیاقت باغ کے سامنے ہی ایک سستے ہوٹل میں پہنچائے اورٹھہرائے گئے تھے۔قاضی حسین احمد اس وقت عمران خان کے ہی ہم عمر ہوں گے یاپانچ ، سات برس چھوٹے ہوں گے مگر وہ تمام تر رکاوٹیں توڑ کر مری روڈ پہنچے تھے۔ لیاقت باغ، چاندنی چوک اور فیض آباد کے درمیان میں نے اپنی زندگی کی سب سے زیادہ اور بدترین آنسو گیس کا سامنا کیا تھا۔ قاضی حسین احمدلاہور کے نواحی گاوں کرباٹھ میں گرفتار ہو کر گاڑی میں لاد کر بھی لے جائے گئے تھے اور باجپائی کی آمد کے موقعے پر جماعت اسلامی کے رہنماوں نے بدترین ریاستی تشدد کو برداشت کیا تھا، یہ سب تاریخ کا حصہ بن چکا۔

مجھے نواز شریف بھی یاد آ گئے، پیپلزپارٹی کا ابھی پچھلا دور ہی تھا جب شہباز شریف کی حکومت ٹیکنیکل بنیادوں پر ختم کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج لگا دیا گیا تھا۔نواز شریف وکلاء کی طرف سے عدلیہ بحالی لانگ مارچ میں شرکت کرنا چاہتے تھے مگر ماڈل ٹاون میں ان کے گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری لگا دی گئی تھی۔ کلمہ چوک اس وقت فلائی اووروں اور انڈرپاسوں پر مشتمل نہیں ہوتا تھالہذا اسے چند کنٹینر کھڑے کر کے بند کر دیا گیا تھا۔ ایک سو اسی ایچ ماڈل ٹاون کے باہر فیروز پورروڈ اور دوسری طرف جامع مسجد اتفاق کی جانب سڑک کے دونوں اطراف بیرئیر لگے ہوئے تھے، سینکڑوں پولیس والے نواز شریف کو بہر صورت روکنے کے لئے تیار تھے، بکتر بند گاڑیاں بھی تھیں اورآنسو گیس کے شیلوں کے ساتھ ساتھ ڈنڈا اور بندوق بردار بھی تیار تھے۔ گھر کے سامنے گرین بیلٹ میں دو روز قبل کارکنوں کے قیام و طعام کے نام پر شامیانے لگا کر اسے بند کر دیا گیا تھا، وہاں سینکڑوں کرسیاں بھی لگی ہوئی تھیں اور بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ میاں نواز شریف باہر نہیں جانے دئیے جائیں گے۔میں ایک کارکن صحافی کی طرح وہاں موجود تھا اور میرا اندر ارکان اسمبلی اور عہدیداروں سے بھی رابطہ تھا۔ ایک اور کارروائی جاری تھی کہ کبھی مسلم لیگ نون کا ایک وفد اتفاق مسجد کے قریب اور دوسرا وفد فیروز پورروڈ کے قریب لگے ہوئے بیرئیرز پر جاتا اور پولیس افسران سے مذاکرات کرتا کہ راستہ دیا جائے مگر جواب وہی ملتا جو ان بے چارے سرکاری ملازمین کی طرف سے ملنا چاہئے تھا۔ اچانک میرے ایک دوست نے مجھے اطلاع دی کہ اب لمحوں کی بات رہ گئی ہے۔ میاں نواز شریف ظہر کی نماز ادا کر چکے، وہ کسی بھی وقت باہر نکل سکتے ہیں اور میں فون پر ہیلو ہیلو کرتے ہوئے یہی پوچھتا رہ گیا کہ کیا وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے یہاں سے روانہ ہوں گے۔ اطلاع ملنے کے چند ہی منٹوں کے بعد اچانک مین گیٹ کھلا اور وہاں سے گاڑیوں کی ایک قطار برآمد ہوئی، سب سے اگلی گاڑی نے ایک زقند بھری اور شامیانوں کی طرف لپکی، اس سے پچھلی گاڑی میاں نوازشریف کے سیکورٹی گارڈز کی تھی جومجھے پہچانتے تھے،ڈرائیور نے جونہی گاڑی لمحہ بھر کو آہستہ کی، گارڈز نے میرا ہاتھ تھاما اور میں گاڑی کی چھت پر پہنچ گیا، اسی دوران میاں نوازشریف کی گاڑی شامیانوں کے اندر گھس چکی تھی، ایک منصوبے کے تحت وہاں موجود کرسیاں ہٹا کر راستہ بنایا جا چکا تھا اور سامنے والے شامیانے کی رسیوں کی گرہیں ڈھیلی کی جا چکی تھی، گاڑی نے شامیانے کو اکھاڑ پھینکا اور پارک کے سامنے دوسری طرف سڑک پر پہنچ گئی۔ یہ بھی الیکٹرانک میڈیا کا دور تھا، لمحے بھر میں میاں نوا ز شریف کی طرف سے تمام رکاوٹیں توڑ کر باہر نکلنے کی خبر آگ سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل گئی ۔ ابھی یہ گاڑیاں پارک کے پیچھے ماڈل ٹاون کی اندرونی سڑک پر ہی تھیں کہ ہر گلی سے کارکنوں کے ریلے برآمد ہو گئے ۔ جب ہم ماڈل ٹاون موڑ تک پہنچے تو مجھے تاحد نظر کارکن ہی کارکن نظر آ رہے تھے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر مرحوم نے اس روز لاہور میں بسنت کا بھی اعلان کر رکھا تھا تاکہ لاہورئیے ا پنا پسندیدہ تہوار چھوڑ کر نواز شریف کے پیچھے نہ جائیں مگر جب ہم کلمہ چوک پہنچے تو کارکن اپنی طاقت سے ٹرالوں اور کنٹینروں کو دھکیل کر راستہ بنا چکے تھے ۔ یہاں اتنا بڑا ہجوم تھا کہ پولیس والوں کے لئے اسے روکنا ممکن نہیں رہا تھا۔عوام کی اسی طاقت کے ساتھ گوجرانوالہ پہنچنے تک افتخار چودھری اور ان کے ساتھیوں کی بحالی کا اعلان ہو چکا تھا۔

ان تینوں لیڈروں کی کہانیاں یہاں تک مکمل ہیں جو ہمت، جرات اور بہادری کی داستانیں بن کر تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں،ان کے موقف درست یا غلط ہونے بارے بھی مورخ فیصلے تحریر کر چکا ہے۔ اب چوتھے لیڈر کی بات ہے جس نے کارکنوں کی گرفتاریوں پر احتجاج کرنے اور شیخ رشید کے ساتھ ان کی حویلی پر جلسے سے خطاب کرنے کا وعدہ کیا تھا،چوتھے لیڈرکی کہانی کا اختتام یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ اپنے آپ کو سونامی قرار دے کر سب کچھ بہا لے جانے کا دعویٰ کرنے والے چند پھونکوں سے ہی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ وہ، جو اوئے نواز شریف کہتا تھا، وہ جو اوئے چیف جسٹس کہتا تھا، وہ جو نیب،ایف آئی اے اور پولیس جیسے محکموں کے سربراہوں کو لٹکانے کی بات کرتا تھا جب اس کے کارکنوں کو لاٹھی چارج، شیلنگ اور گرفتاریوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا محض ایک ڈپٹی کمشنر کے لیٹر پر گھر سے ہی باہر نہیں نکلا مگر کہانی لکھنے والے اٹھائیس اکتوبر کو کہانی کا اختتامیہ نہیں کہتے، وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ خلافی نہیں بلکہ حکمت عملی ہے، اصل جنگ اٹھائیس اکتوبر کو نہیں تھی ،حقیقی اور آخری میدان دو نومبر کو لگے گا جس کے لئے طاقت بچائی جا رہی ہے اورچوتھے لیڈر کی کہانی اسی روز مکمل ہو گی۔

مزید : کالم