بیٹے کی پسند کی شادی ،پنچائتی فیصلہ پر والدین دربدر،بیٹی فروخت کا اشتہار

بیٹے کی پسند کی شادی ،پنچائتی فیصلہ پر والدین دربدر،بیٹی فروخت کا اشتہار
 بیٹے کی پسند کی شادی ،پنچائتی فیصلہ پر والدین دربدر،بیٹی فروخت کا اشتہار

  

صادق آباد (تحصیل رپورٹر ) بیٹے کی پسند کی شادی نے والدین کی زندگی اجیرن کردی‘ مخالفین نے مکان اور سامان پر قبضہ کرکے دربد ر کردیا‘ مکان کی واپسی کیلئے تین لاکھ روپے کا پنچایتی فیصلہ سامنے آگیا‘ بوڑھے والدین رقم نہ ہونے پر مکان کی واپسی کیلئے جواں سال بیٹی کو فروخت کرنے کیلئے بازار لے آئے‘ احتجاج کے دوران باپ صدمہ سے بے ہوش ریسیکو اہلکاروں نے ہسپتال منتقل کردیا‘ ڈی پی او کا نوٹس‘ ڈی ایس پی نے فریقین کو یکم نومبر کو طلب کرلیا۔

تفصیل کے مطابق ٹبہ بلوچاں کے رہائشی کلثوم اور اسماعیل گذشتہ روز اپنی دو جواں سال بیٹیوں کے ہمراہ ہاتھوں میں بیٹی برائے فروخت کا پلے کارڈ اٹھائے احتجاج کرتے ہوئے پریس کلب آگئے جہاں پر انہوں نے الزام لگایا کہ کہ انکے بیٹے شفقت نے اپنی پسند کی شادی کی جس کے بعد لڑکی کی والدہ کو اکبر بل وغیرہ نے بڑھکایا اور ایک سا ل قبل رات کے وقت ہمارے گھر پر حملہ کرکے ہمیں نکال کر نہ صرف ہمارے گھر نکال دیا بلکہ گھر میں موجود قیمتی سامان بھی اٹھا کر غائب کردیا اب اس ساری صورتحال کے بعد ہم لوگ ایک سال سے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں د و تین بار پنچایت ہوئی جس میں کبھی ہم سے اکبر بل کو تین لاکھ روپے دینے کا کہا جاتا ہے تو کبھی لڑکی کی ماں کو تین لاکھ روپے کی ادائیگی کا تقاضا کیا جاتا ہے ڈی ایس پی صادق آباد مہر ناصر کو ہم نے درخواست دی تھی جس میں سب انسپکٹر جمیل کو انکوائری آفیسر تعینات کیا گیا جنہوں نے ہمارے حق میں رپورٹ دی اور ہمیں سامان بھی واپس لیکر دیا مگر اب ڈی ایس پی صادق آباد سیاسی دباؤ میں آکر ہمیں مجبور کررہا ہے کہ ہم تین لاکھ روپے اکبر بل کو ادا کرینگے تو پھر ہمیں مکان کا قبضہ ملے گا ہم غریب لوگ ہیں تین لاکھ روپے ادا نہیں کرسکتے اس لئے اپنی بیٹی کو فروخت کرنے کیلئے لائے ہیں تاکہ اس کو بیچ کر رقم قبضہ مافیا کو دیں اور اپنے مکان کا قبضہ لیں ۔

 احتجاج کے دوران حالت غیر ہونے پر اسماعیل کو ریسیکو اہلکاروں نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردیا گیا ‘ ٹی وی چینلز پر خبر نشر ہونے کے بعد ڈی پی او رحیم یارخان نے ڈی ایس پی صادق آباد کو غیر جانبدارانہ انکوائری کا حکم دیتے ہوئے فریقین کو یکم نومبر کو ڈی ایس پی کے پاس پیش ہونے کی ہدایت کردی ہے دریں اثناء ٹبہ ظاہر پیر کے رہائشی محمد اکبر بل نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ صحافیوں کو بتایا کہ میرے پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں پنچایت نے اسماعیل وغیرہ کو تین لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا اسماعیل کے بیٹے نے غریب خاتون کی لڑکی کو بھگا کر اس کے ساتھ شادی کی جرمانہ کا مقصد خاتون کی داد رسی کرنا تھا ہمیں خوامخواہ الزام تراشی کرکے بدنام کیا جارہا ہے ترجمان پولیس نے صحافیوں کو بتایا کہ ڈی پی او رحیم یارخان نے واقعہ کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ڈی ایس پی صادق آباد کو ہدایات جاری کی ہیں کہ اس کیس کی میرٹ پر تفتیش کی جائے اور ذمہ داران کیخلاف کاروائی کی جائے دریں اثناء ڈی ایس پی مہر ناصر سیال نے بتایا کہ پولیس پر تین لاکھ روپے زبردستی دلانے کی کوشش کی بات الزام کے سوا کچھ نہیں پنچایتی فیصلہ سے پولیس کا کوئی تعلق نہیں ہے محمد اسماعیل کی درخواست پر تحقیقات کی جارہی ہیں ذمہ دار افراد کیخلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی

مزید : علاقائی