کسی سے مر عوب یا خوفزدہ ہونے والے ہر گز نہیں، مخالفین کا سیاسی مستقبل چند روز میں ختم ہو جائے گا، نواز شریف

کسی سے مر عوب یا خوفزدہ ہونے والے ہر گز نہیں، مخالفین کا سیاسی مستقبل چند روز ...

قصور/پھول نگر(بیورورپورٹ،نمائندہ خصوصی228 مانیٹرنگ ڈیسک228اے این این ) وزیر اعظم نواز شریف نے کہاہے کہ کسی سے مرعوب یاخوفزدہ ہونے والے نہیں ، چند دنوں کی بات ہے مخالفین کا سیاسی مستقبل ختم ہو جائے گا ، مدت پوری کریں گے آئندہ پانچ سال کیلئے بھی حکومت بنائیں گے ، 2013 کے انتخابات میں مسترد کئے گئے عناصر اب عوام سے اس کا بدلہ لے رہے ہیں ،ہم نے آمریت کے دور میں جیل اور جلا وطنی کاٹی ، اس وقت یہ لوگ جعلی ریفرنڈم کی حمایت کررہے تھے ، ان لوگوں نے جیل کا دروازہ تک نہیں دیکھا ،وہ ’’میں نہ مانوں‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، پانامہ لیکس پر عدالتی کا فیصلہ کا انتظار کرناچاہیے،کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت ہماری وجہ سے ہی بنی ہے۔ ضلع قصور کے علاقے پھول نگرمیں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بہت عرصے سے پھولنگرآنے کی خواہش تھی، آج آپ لوگوں کا جذبہ دیکھ کر بتا نہیں سکتا کہ کتنی خوشی ہو رہی ہے پھول گر کے لوگوں نے کبھی بے وفائی نہیں کی اور ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیا جبکہ عوام کی خدمت میں حاضر ہونا میرے لئے فخر کی بات ہے۔اس موقع پر جلسے کے شرکاء نے نعرہ بازی کی تو وزیراعظم نواز شریف کو سمجھ نہ آئی جس پر انہوں نے اپنے ساتھ کھڑے افراد سے پوچھا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں جس پر انہیں بتایا گیا کہ شرکاء ’’گو عمران گو‘‘ کہہ رہے ہیں ایسا سننے پر وزیراعظم نواز شریف کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔انہوں نے کہا کہ جب آپ سب ہی یہ کہہ رہے ہیں تو پھر مجھے کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج کل پھر کچھ لوگ میدان میں جمع ہیں لیکن پھولنگر والوں نے انہیں کبھی گھاس نہیں ڈالا۔ ہمارے مخالفین کو کہاں یہ جلسہ دیکھنے کو ملتا ہے اور انہیں اس طرح کا جلسہ کرنے کیلئے 2,2 ماہ محنت کرنا پڑتی ہے یہ آپ سے انتقام لینا چاہتے ہیں کیونکہ 2013 میں آپ نے انہیں مسترد کیا اور انہیں معلوم نہیں کہ 2018ء میں بھی انہیں مسترد کر دیا جائے گا یہ اس مینڈیٹ کی بھی توہین کر رہے ہیں جس کے باعث انہیں کے پی کے میں حکومت ملی۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی چیز سے مرعوب، خوفزدہ اور ڈرنے والے نہیں ہیں بلکہ ہم صرف اور صرف اپنے اللہ سے ڈرتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ نواز شریف گھبرانے والا نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اٹک قلعے جیسی جیل کاٹی ہے لیکن عمران خان نے کبھی جیل کا دروازہ بھی نہیں دیکھا۔ جب ہم فوجی آمروں کی جیلیں کاٹ رہے تھے تو یہ ان کے جاری ریفرنڈم کی حمایت کر رہے تھے میں نے تین سال پہلے جو خواب دیکھا تھا، اللہ کا شکر ہے کہ اس خواب کی تعبیر کا وقت آ گیا ہے اور آج طلوع سحر کے آثار صاف دکھائی دے رہے ہیں ہر وہ آدمی جو سوچتا ہے اور اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے، گواہی دے گا کہ آج کا پاکستان 2013ء سے کہیں بہتر ہے۔ معاشی طور پر ترقی ہو رہی ہے، اقتصادی طور پر ترقی ہو رہی ہے اور دہشت گردی کے حوالے بھی بہتری آئی ہے جبکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی کمی آ چکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ 2018ء کا پاکستان آج سے بھی کہیں بہتر ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ 2013ء میں بجلی کی لوڈشیڈنگ 18سے 20 گھنٹے ہوتی تھی جو کہیں کم ہو گئی ہے اور انشاء اللہ 2018ء میں ناصرف بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے گی بلکہ اس کی قیمت بھی کم ہو گی۔ نواز شریف نے کہا کہ 18 روپے یونٹ ملنے والی بجلی آج 10 روپے مل رہی ہے۔کاشتکاروں، گھریلو صارفین اور صنعتکاروں کیلئے بجلی سستی ہو گئی ہے اور 2018ء میں اس سے بھی زیادہ سستا کریں گے۔یہ سب کچھ کام کرنے سے ہوتا ہے اور اس کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ بلوکی کے ساتھ بھکی میں بجلی اور گیس کے پاور پلانٹ لگ رہے ہیں اور اسی طرح کے کئی اور منصوبے لگ رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اتنے پیمانے پر بجلی کے کارخانے لگ رہے ہیں۔ پہلے کیوں نہیں کسی نے یہ کام کئے؟ پھولنگر کے نوجوان بتائیں کہ یہ منصوبے مشرف نے کیوں نہیں لگائے، پچھلی حکومت نے کیوں نہیں لگائے، ہم کیوں لگا رہے ہیں؟ کیونکہ ہمیں آپ کا درد ہے، پاکستان کا دردہے پاکستان کے عوام کا درد ہے۔ ہمیں یہ احساس تھا کہ کاشتکار اتنی مہنگی بجلی کہاں سے خریدے گا، صنعتکار کہاں سے خریدے گا، گھریلو صارفین کہاں سے خرید گے ، ہم جو بجلی سستی کر رہے ہیں، یہ قوم کے ساتھ کیا گیا وعدہ تھا جسے پورا کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر موٹروے کی مثال دی اور کہا کہ ہم نے موٹروے پشاور سے شروع کی اور اسلام آباد لے کر آئے اور پھر 1999ء میں اسلام آباد سے لاہور آئی لیکن ہماری حکومت ختم کر دی گئی۔ میں آج تک قصور پوچھ رہا ہوں کہ کیوں نواز شریف کی حکومت ختم کی گئی؟ موٹروے لاہور تک آ گئی تھی جس نے ملتان جانا تھا اور پھر کراچی، لیکن لاہور ہی رک گئی اور آج جب ہماری حکومت آئی ہے تو اب لاہو رسے ملتان او رملتان سے کراچی موٹروے بھی بن رہی ہے ، یہ بہت بڑی زیادتی ہوئی پاکستان کے ساتھ کہ موٹروے جہاں کھڑی تھی وہیں کی وہیں کھڑی رہی اور آج پھر ہم ہی اسے آگے لے کر جا رہے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں ترقی کا وسیع منصوبہ ہے اور بے حساب سڑکیں بن رہی ہیں اور گوادر پورٹ بن رہی ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کر کے اسے ملک سے ختم کیا اور اب یہ خاتمے کے قریب ہے۔ یہ کام بھی ہم نے کیا اور اس کیلئے ہمارے فوجی بھائیوں او افسروں نے بے حساب قربانیاں دی ہیں اور پاکستان پرامن ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان ترقی کے عروج کی طرف جا رہا ہے، یہ میں نہیں کہتا بلکہ یہ دنیا کہتی ہے۔ چین ہمارا عظیم دوست ہے جس نے پاکستان کے ساتھ مل کر ترقی کے منصوبے بنائے ہیں جو بے مثال ہیں۔ پاکستان میں ایسا سورج طلوع ہو رہا ہے جو آنے والی صدیوں میں اسے روشن ملک بنائے گا۔ اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان کے چاروں صوبوں میں یکساں ترقی ہو رہی ہے۔ یہ بہت بڑے منصوبے ہیں جن کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہمارے سیاسی مخالفین اسی ترقی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ پروگرام آگے نہ بڑھے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ 2018ء تک یہ حکومت پاکستان کی ترقی کیلئے اپنا کردار اد کرتی رہی تو ان کا سیاسی مستقل ختم ہو جائے گا اور چند دنوں کی بات ہے، ان کا سیاسی مستقبل ختم ہو جائے گا۔ اس موقع پروزیراعظم نے قومی اسمبلی کے حلقہ 141 میں گیس کی فراہمی کیلئے 100 کروڑ روپے، حلقہ 142 کیلئے 50 کر وڑ روپے، نہری پانی کیلئے 30 کروڑ روپے، صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 183 اور 184 پھولنگر میں سوئی گیس کی فراہمی کیلئے 50 کروڑ روپے کا اعلان کیا۔ انہوں نے پھولنگر میں سڑکوں، لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں ی کی تعمیر، چھوٹے ہسپتال اور رورل ہیلتھ سینٹرز کی تعمیر اور تزئین و آرائش، پینے کے صاف پانی کے منصوبوں، ہیڈبلوکی روڈ پر پل کی تعمیر اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی ترقی کیلئے مزید 100 ارب روپے اور لاہور سے عبدالحکیم اور پھر ملتان جانے والی موٹروے کو ہائی وے کے ذریعے پھولنگر کیساتھ ملانے کے منصوبے کا اعلان بھی کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ نوجوانوں کو ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا تحفہ بھی دے رہے ہیں۔

نوازشریف

مزید : صفحہ اول