مذہب کو سمجھنے کیلئے کلام اقبال مددگار ثابت ہو سکتا ہے: راجہ ظفر الحق

مذہب کو سمجھنے کیلئے کلام اقبال مددگار ثابت ہو سکتا ہے: راجہ ظفر الحق

لاہور(جنرل رپورٹر) عالمی رابطہ ادب اسلامی کے زیر اہتمام 2 روزہ شاعر اسلام ڈاکٹر محمد اقبال کانفرنس ایوان اقبال میں شروع ہو گئی ۔کانفرنس میں سعودی عرب ،جنوبی افریقہ، مصر، اُردن، شام، مراکش، ترکی اور بھارت سمیت دنیا بھر سے اسلامی سکالرز شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس کے پہلے سیشن کی صدارت چیئرمین معتمرعالم اسلامی راجہ ظفر الحق نے کی جبکہ مولانا فضل الرحیم اشرفی نے افتتاحی مقالہ پیش کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ علامہ اقبال منفرد عالمی شخصیت ہیں۔ جنہوں نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں اہم پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں وہاں اقبال کی فکر نظر آئے گی، مصر میں لوگ خود کو اقبال کا درویش کہتے ہیں۔ ترکی میں انہیں مرشد رومی کے بعد دوسرا درجہ حاصل ہے جبکہ بوسنیا اور ایران کے لوگ بھی علامہ اقبال کے عاشق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دین کو سمجھنے کے لیے کلام اقبال مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال نے سیاست اور جمہوریت کی جس طریقے سے تشریح کی وہ بھی لاجواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال دور اندیش شخصیت تھے انہوں نے بہت پہلے واضح کر دیا تھا کہ اگر افغانستان خوشحال اور پر امن ہوگا تو ایشیا میں امن اور خوشحالی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے احترام آدمیت اور احترام انسانیت کی بات کی، وہ کہا کرتے تھے کہ اسلام کو غیر مسلموں سے خطرہ نہیں، اگر خطرہ ہوا تو اسلام کی روح سے ناواقف باہم دست و گریباں گروہوں سے ہوگا۔ آج پوری اسلامی دنیا تقسیم ہے اور باہم برسر پیکار گروہ اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے استفسار کیا کہ کیا ہمیں اقبال کی شناخت ہے؟ کیا ہم اقبال کی فکر کو سمجھتے ہیں؟ اقبال کو ایک ملک تک محدود نہیں کیا جا سکتا، وہ عالمگیر شخصیت بلکہ عصری تعلیم رکھتے تھے۔اقبال مدرسے سے پڑھے ہوئے نہیں تھے، لیکن وہ سچے مسلمان تھے اور ان کا دل اور ذہن اسلامی تھا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کو سمجھنا ہے تو اسلام کے آئینے میں سمجھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال نے مدرسے اور مغربی تعلیم پر یکساں کی تنقید کی ،انہیں جمہوریت سے بھی شکایت تھی۔ ڈاکٹر علامہ اقبال کے پوتے منیب اقبال نے کہا کہ علامہ اقبال پوری دنیا کے مسلمانوں کی آواز تھے۔ اقبال نے تخلیق پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سوئی ہوئی قوم کو جگایا، دو قومی نظریہ پیش کیا اور قائداعظم کو مسلمانوں کی قیادت کے لیے قائل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’علامہ محمد اقبال کے قائداعظم کے نام خطوط‘‘ میں واضح لکھا ہے کہ ملک کی بقا نفاذ شریعت میں ہے آج ہم اقبال کے ر استے سے بھٹک گئے ہیں اور ان کی فکر کو بھی بھول چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ اگر مجھے آزاد اسلامی ریاست کی حکمرانی اور اقبال کی فکرمیں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو میں فکر اقبال کوترجیح دوں گا۔ ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی کے ڈاکٹر طاہر تنولی کا کہنا تھا کہ اقبال کی فکر سنگ میل اور نقطہ وحدت ثابت ہو سکتی ہے وہ اجتہاد کے داعی اور انسانیت کے علمبردار تھے۔ سردار یٰسین ملک نے کہا کہ انگریزی ہمارے گھروں میں گھس گئی ہے اُردو بچے گی تو فکر اقبال بچے گی۔ ہمیں اپنے محسنوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔اوریا مقبول جان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظام بچانے کے لئے نظام سے نکلنا ہو گا دورحاضر میں فکر اقبال کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے مصری سکالر ڈاکٹر اُسامہ نے الازہر یونیورسٹی کی استاد کا مقالہ پیش کیا جبکہ اُردو زبان میں اپنے مختصر سے خطاب میں مصری عوام کا سلام پیش کیا ،ڈاکٹر سعد ابو رضا محمد، حافظ عبدالقدیر، حافظ رضوان محمد چوہان نے بھی تحقیقاتی مقالے پیش کیے۔ اس موقع پر سعودی سکالر احمد بن یوسف الدرویش نے علامہ اقبال کی شخصیت پر اپنا مقالہ پیش کیا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے۔ کانفرنس سے جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال، وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ، خالدہ جمیل، خواجہ احمد سکا، اقبال احمد قرشی، ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ، ڈاکٹررانیا محمد فوزی مصر، نافضہ عبداللہ حنبلی ، ڈاکٹر خنسہ محمد ادیب الجاجی پشاور، ڈاکٹر محسنہ منیر، ڈاکٹر آسیہ شبیر لاہور، سیدہ سعدیہ نے خطاب کیا۔ کانفرنس کا دوسرا سیشن آج 09:30 بجے سے شام 05:00 بجے تک ہو گا۔ اختتامی نشست کی صدارت سابق صدر رفیق تارڑ کریں گے۔

مزید : صفحہ آخر