پی ٹی آئی مغرب زدہ این جی اوز کے ذریعہ فحاشی پھیلا رہی ہے، مولانا عبد الشکور

پی ٹی آئی مغرب زدہ این جی اوز کے ذریعہ فحاشی پھیلا رہی ہے، مولانا عبد الشکور

مہمند ایجنسی ( نمائندہ پاکستان ) مہمند ایجنسی، جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن کا بڑا اجتماع۔ جے یو آئی صوبائی اور فاٹا قائدین کی شرکت۔ جمہوری طریقے سے اسلامی انقلاب لا کر شرعی نظام کے ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے۔ تحریک انصاف مغربی قوتوں کے ساتھ مل کر این جی اوز کے ذریعے نوجوان نسل کو بے حیائی کی ترغیب دیتے ہیں۔ فاٹا کو صوبے میں ضم کرنا قبائلی عوام کی خوہش نہیں۔ مخصوص ٹولہ سیاسی مقاصد کیلئے قبائل پر من پسند نظام لاگو کرنا چاہتا ہے۔ جس کی بھر پور مذاحمت کی جائیگی۔ 18 دسمبر کو جے یو آئی گرینڈ قبائلی جرگہ میں ہر مکتبہ فکر اپنی رائے سے ثابت کرینگے کی عوام کی منشاء کیا ہے۔ کارکن 2018 الیکشن میں سیکولر نظام کا راستہ روکنے کیلئے تیار کر لے۔ فاٹا میں کلین سویب کیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار مہمند ایجنسی میں ہفتے کے روز ہیڈ کوارٹر تحصیل غلنئی مدرسہ جامعتہ العلوم اسلامیہ میں جے یو آئی مہمند کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی فاٹا کے امیر مولانا مفتی عبدالشکور بیٹنی ، صوبہ خیبر پختونخواہ نائب امیر مولانا رفیع اللہ قاسمی، جنوبی وزیر ستان سے ممبر قومی اسمبلی مولانا جمالدین، جے یو آئی مہمند امیر مولانا محمد عارف حقانی، سابقہ ایم این اے مولانا غلام محمد صادق، سابقہ سنیٹرز حافظ رشید احمد، مولانا عبدالرشید ، خیبر ایجنسی کے امیر و فاٹا جنرل سیکرٹری مفتی اعجاز، فاٹا سیکرٹری اطلاعات جہاد آفریدی، مہمند ایجنسی کے نائب امیر مولانا سمیع اللہ اور دیگر نے کہا کہ اسلامی نظام کیلئے جے یو آئی مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا مفتی محمود سمیت تمام اکابرین کا مشن جاری رکھیں گے۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں کرپشن اور دیگر مسائل کی وجہ اسلامی احکامات سے روگردانی ہے۔ حصول پاکستان میں 50 ہزار علمائے کرام نے قربانی دی ہے اور پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر بنا ہے۔ اس لئے ہم اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام کے خواہشمند ہیں اور پاکستان میں جمہوری طریقے سے اسلامی انقلاب لایا جائیگا۔ بد امنی، قتل و غارت، سیکورٹی فورسز اور بچوں کی شہادتیں اور قومی املاک کا نقصان تمام پاکستانیوں کا نقصان ہے۔ اس لئے قبائلی علاقہ جات سمیت ملک بھر میں امن لانا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اور جمہوریت پیغمبران اور صحابہ کرام نے بھی کی ہے۔ اور امارت کے قیام کیلئے سیاست ضروری ہے۔ اس لئے تمام غیر ت مند مسلمان اور غیر سیاسی علماء جے یو آئی کا ساتھ دیکر ملک کو فحاشی اور بے حیائی سے بچائے کیونکہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے عمران خان اور ان کی پارٹی پی ٹی آئی این جی اوز کے ذریعے مغربی نظام تعلیم لا رہے ہیں۔ اور تعلیمی اداروں کو این جی اوز کے حوالے کیا گیا ہے۔ جبکہ صحت کی ابتری بھی عوام کے سامنے ہیں۔ آج سیاسی علماء پارلیمنٹ میں ہو کر وقت کے فرغونوں کے آنکھوں میں آنکھ ڈال کر غیر اسلامی بل آئین کا حصہ بننے سے روکے ہوئے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ فاٹا آئی ڈی پیز کی با عزت واپسی ، تباہ شدہ مکانات کیلئے کم از کم دس لاکھ روپے فی گھر معاوضہ دیگر بحال کیا جائے اور ان کو بنیادی سہولیات دیکر پھر اصلاحات اور نظام کی تبدیلی کیلئے رائے پوچھی جائے۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے سفارشات کو مستردکرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے قبائلی ایجنسیوں کے دورے کئے مگر عوام کی اکثریتی رائے کو نہ سنا۔ مخصوص لوگوں کو بلا کر برائے نام رائے لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی فاٹا کی صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے کی بھر پور مخالفت کریگی۔ کیونکہ قبائل اسلام آباد کے ایوانوں سے مخصوص ٹولے کا مسلط کردہ نظام کو قبول نہیں کریگی۔ صوبے میں شمولیت سے سینیٹ کی سیٹس ختم ہونے کے علاوہ تعلیمی میدان اور بھرتیوں میں فاٹا مزید محروم ہو جائیگی۔ اس لئے عوام 18 دسمبر کو پشاور میں جے یو آئی کے زیر اہتمام گرینڈ قبائلی جرگہ میں بھر پور شرکت کر کے اپنے مستقبل کے فیصلے خود کریں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر