شہروں کو بند کرنے اور زندگی مفلوج کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، حیدر ہوتی

شہروں کو بند کرنے اور زندگی مفلوج کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، حیدر ہوتی

مردان ( بیورورپورٹ)سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ شہروں کو بند کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، جس سے اپنا گھر نہیں سنبھالا جاتا وہ پاکستان کو کیسے سنبھال سکتے ہیں ،اے این پی نے اپنے دور حکومت میں صوبے کو نام کی شناخت دی ،110ارب بجلی کے بقایاجات نکالے ہم نے حکومت چھوڑتے وقت بھرا خزانہ چھوڑا تھاموجودہ حکومت نے گنگال دیاہے ،ترقی کا پہیہ رک گیاہے نوجوانوں نے جھوٹے دعویداروں کی کارکردگی دیکھ لی دوبارہ ہماری باری ہوگی وہ حلقہ پی کے 23کے یونین کونسل باغ ارم میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے ضلع ناظم اور پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان ،ضلع کونسلر کے رکن ممتاز بہادر ،یوسی صدر اخترزمان ،سینئر نائب صدر مرتضیٰ باچہ ،جی ایس عثمان غنی نے بھی خطاب کیااس موقع پر پی ٹی آئی یوسی باغ ارم کے صدر امیرمحمد خان اورمختلف نائبرہوڈ کونسلوں سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی ،جماعت اسلامی اورجے یو آئی کے عہدیداروں تیزیل الرحمان،نذیر خان ،جہانزیب خان ،امان اللہ اورامیر بادشاہ نے اپنے خاندانوں اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت مستعفی ہوکراے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیار کرنے والوں کو ٹوپیاں پہنائیں اور مبارک بادی امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی پختون قوم کی حقوق کی جنگ لڑرہی ہے ہمارا مقصد اقتدار نہیں پختونوں کو ایک جھنڈے تلے اکٹھاکرناہے انہوں نے کہاکہ پختون قوم بیدارہوچکی ہے چاخان اور رہبرتحریک خان عبدالولی خان نے پختونوں کے باہمی اتفاق اور اتحاد کے لئے جو جدوجہد شروع کی تھی اب وہ تحریک رنگ لے آئی ہے اوروہ مزید کسی کے جھوٹے دعوؤں اور وعدوں میں نہیں آئیں گے انہوں نے کہاکہ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی سے دواضلا ع واپس لئے گئے ہیں 2018کے انتخابات میں کامیابی اے این پی کی ہوگی اور تمام صوبے کے اختیارات بنی گالہ سے واپس لے کر دم لیں گے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ وفاقی حکومت کی تمام توجہ ، پراجیکٹس اور ترجیحات کا مرکز پنجاب ہے صوبے کے حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ سی پیک ، مردم شماری ، امن و امان اور تعلیم و صحت جیسے ایشوز پر صوبے کے مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں تاہم دونوں حکومتوں کو صوبے اور فاٹا کے معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات پی ٹی آئی کے خود پیدا کردہ ہیں عمران خان وزیراعظم بننے چکر میں میاں نوازشریف کے استعفیٰ اور تلاشی کا مطالبہ کررہے ہیں وہ پختون قوم اور پختون خوا کے حقوق کے لئے دھرنے نہیں دے رہے انہوں نے کہاکہ شہروں کے بند کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے ورنہ اے این پی کب کی پشاور کو بند کرنے کے لئے لاکھوں کارکنوں کو جمع کرتی جس سے اپنا گھر سنبھالا نہیں جاتاوہ پورے پاکستان کو کیسے سنبھال سکتاہے انہوںں نے کہاکہ اے این پی ایک تحریک کانام ہے جو پختونوں کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنا ہے اقتدار ہماری منزل نہیں بلکہ پختونوں کو مسائل اور مصائب سے نکالناہے اوران کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنا ہے انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنے دورحکومت میں مرکز سے 110ارب بقایاجات وصول کئے صوبے کو نام کی شناخت دی گلی گلی اور قریہ قریہ ترقیاتی منصوبے جاری تھے مردان میں ہسپتالوں سکولوں ،سڑکوں کے ساتھ ساتھ مساجد اور عیدگاہوں کی خدمت کا سلسلہ جاری تھا موجودہ حکومت سے نئے منصوبے شروع کرنا تو درکنار پرانے منصوبے مکمل نہیں ہورہے ھم نے بھرا خزانہ چھوڑا تھا پی ٹی آئی والوں نے خزانہ کنگالاہے اور خدشہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے پیسے بھی نہیں ہوں گے انہوں نے کہاکہ اقتدار میں آکر صوبے میں دوبارہ ترقیاتی منصوبے زوروشور سے شروع کریں گے اورترقی کا پہیہ چلاکر پختون خطے کو امن کاگہوارا بنادیں گے۔

مزید : پشاورصفحہ اول