زمینوں پرقبضے،نیب کی پی ٹی آئی رہنماعلیم خان کیخلاف تحقیقات شروع ہوگئیں

زمینوں پرقبضے،نیب کی پی ٹی آئی رہنماعلیم خان کیخلاف تحقیقات شروع ہوگئیں
زمینوں پرقبضے،نیب کی پی ٹی آئی رہنماعلیم خان کیخلاف تحقیقات شروع ہوگئیں

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مقامی اخبار کے مطابق قومی احتساب بیورو(نیب) نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک  علیم خان کی طرف سے عوامی راستوں پرقبضے، تجاوزات اورپارک ویو ولاز لاہورکے نام سے ریورایج ہاﺅسنگ سوسائٹی میں غیرقانونی توسیع کے خلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کردی ہے۔ نیب نے اس انکوائری کا اعلان گزشتہ ہفتے پریس ریلیز کے ذریعے کیا تھا مگر اس پرکوئی توجہ نہ دی گئی۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد جاری کی گئی نیب کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پارک ویو ولاز/ریورایج ہاﺅسنگ سوسائٹی لاہور اور دیگر کی انتظامیہ کے خلاف دوسری انکوائری تحقیقات کی مجاز تھی۔ اس کیس میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے عوامی راستوں پرپارک ویو ولاز لاہور کے نام سے ریور ایج ہاﺅسنگ سوسائٹی میں غیرقانونی توسیع، ناجائز قبضہ/ تجاوزات قائم کی ہیں جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق علیم خان کے خلاف درج شکایت میں کہا گیا ہے کہ علیم خان کی کمپنی نے22فروری 2013ءکو لاہورڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) سے رابطہ کیا کہ وہ ریور ایج سے ملحقہ مقام پرپارک ویو ولاز کے نام سے سوسائٹی کے قیام کے لئے پلاننگ کی اجازت دے۔ ایل ڈی اے نے ان کی درخواست اس بنیاد پرمسترد کردی کہ مجوزہ پارک ویو ولاز سکیم، ریور ایریا میں واقع ہے جسے رہائشی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ کمپنی نے سیکرٹری ہاﺅسنگ، اربن ڈیولپمنٹ اور پنجاب ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ سے اپیل کی جنہوں نے 10 دسمبر 2013ءکو اپنے آرڈر میں ان کی اپیل اس بنیاد پرمسترد کردی کہ مذکورہ بالا زمین زرعی علاقے میں آتی ہے اسے شہری پراپرٹی میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ یہ سکیم منظور نہیں ہوئی۔ درخواست اوراپیل کے استرداد کے بعد کمپنی نے عمار احمد خان نامی شخص کے ساتھ ملی بھگت کرکے جس علاقے میں سوسائٹی کی توسیع سے انکارکیا گیا تھا اس میں پلاٹوں کی فروخت شروع کردی جبکہ یہ ریور ایج ہاﺅسنگ سکیم کے نام سے اس کی منظوری دی جاچکی تھی جو عماراحمد خان کی ملکیت تھی۔ انہوں نےمذکورہ بالا سکیم کے نام سے پلاٹوں کی مارکیٹنگ بھی شروع کردی اور فراڈ کے دیگر مختلف طریقوں سے لوگوں کو یہ یقین دلایاکہ پارک ویو ولاز بھی ریور ایج ہاﺅسنگ سکیم کا حصہ ہے۔ اس اراضی کی ملکیت ویڑن ڈیولپرز کے نام پرتھی جو ہاﺅسنگ سوسائٹی کے نام سے منظور نہیں کی جاسکتی تھی۔ جب ایل ڈی اے نے کمپنی اور ان کے پارٹنرز کی طرف سے پراپرٹی کی غیرقانونی مارکیٹنگ کو دیکھا تو اس نے اخبارات کےذریعے عوام کو خبردار کیا کہ یہ سکیم ایل ڈی اے سے منظور شدہ نہیں ہے اور جو اسے خریدے گا وہ اپنے نقصان کا خود ذمہ دارہوگا۔

ایل ڈی اے نے 3ستمبر 2014ءکو لیٹر نمبر 2634 کے ذریعے کنٹرولر ریونیو سے درخواست کی کہ وہ ریورایج ہاﺅسنگ سوسائٹی میں توسیع کے لئے کسی بھی سپانسر/ڈیولپر/ اونر کے حق میں فردِ ملکیت یا رجسٹریشن کے اجرا پر پابندی لگا دے۔ کمپنی نے شاہراہوں/سڑکوں کو بھی پارک ویو ولاز میں شامل کرنا شروع کردیا۔ کمپنی نے جس اراضی پر تجاوزات کی تھیں اسے پبلک روڈ کے دونوں طرف سے4،4 مرلوں کے کمرشل پلاٹوں میں بھی تبدیل کرنا شروع کردیا اور پھر پانچ مرحلہ زمین 18 سے 35 لاکھ رہائشی اور چار مرلہ کمرشل زمین 80لاکھ فی پلاٹ کے حساب سے بیچنا شروع کردی۔ ایل ڈی اے نے 20مارچ 2015ءکو خطوط کے ذریعے متعلقہ حکام سے درخواست کی کہ وہ پارک ویو ولاز/ریور ایج ہاﺅسنگ سکیم میں بجلی، پانی، سوئی گیس کے کنکشنزمنقطع اور صحت و صفائی کی سروسز ختم کردیں۔ اتھارٹیز کی جانب سے ان تمام کوششوں کے باوجود علیم خان دھوکہ بازی سے کئی رہائشی اور کمرشل پلاٹس فروخت کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ پلاٹوں کی اس قسم کی بڑے پیمانے پر فروخت ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کو تھی۔ 4 فروری 2011ءاور 24مارچ 2011ءکو ای او بی آئی کی طرف سے اشتہارات شائع ہوئے۔ اس طرح کے اشتہارمیں آخری تاریخ میں ای او بی آئی نے خط و کتابت کے لئے پی او بکس نمبر30 کراچی دیا تھا مگر کمپنی نے آخری تاریخ گزرنے کے بعد26 مارچ 2011ءکو آفر براہ راست چیئرمین ای او بی آئی کو بھیج دی۔

رپورٹ کے مطابق  علیم خان نے دوارب60 کروڑ روپے میں 684 رہائشی (3870مرلے) اور 284کمرشل پلاٹس (1240 مرلے) ای او بی آئی کو فروخت کردیئے۔ شکایت کنندہ نے نیب سے درخواست کی ہے کہ وہ اس مسئلے کی تحقیقات کرے اور مجرموں کے خلاف مقدمہ درج کرے۔ 

مزید : اسلام آباد