غازی علم دین شہید کی یاد میں

غازی علم دین شہید کی یاد میں
غازی علم دین شہید کی یاد میں

  

تحریر: صاحبزادہ پیر مختار احمد جمال تونسوی

رحمت ِعالمﷺکی اِس پیاری امت میں ،آپ ﷺسے”محبت“کرنے والے ،اور” ناموس ِرسالت “کے تحفظ کے لیے قربان ہونےوالے ،روشن ستاروںکی طرح چمکتے دمکتے عاشقان ِرسولﷺ،ہر دور میں ہی دنیا کے ماتھے کا ”جھومر “رہے ہیں اور امت ِمسلمہ کے ....یہ وہ عظیم ”مرد ِمجاہد“ ہوتے ہیں کہ جو ہمیشہ کے لیے اَمر ہوتے ہوئے ،حقیقی معنوں میں ،رب ِقدوس کی عطا کردہ ”زندگی“با مقصد بنا جاتے ہیں۔ غازی علم دین شہیدؒ بھی انہی ستاروں میں سے ایک”روشن ستارہ“ ہیںکہ جنہوںنے گستاخِ رسول ہندو راجپال کوجہنم واصل کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

یہ مرد ِمجاہد اور عاشق ِ رسول4 دسمبر1908ءبروزجمعرات اندرون شہر لاہور میں پیدا ہوئے،آپؒکے والد طالح محمدبڑھئی کا کام کرتے تھے ،علم دینؒابھی ماں کی گودمیں ہی تھے کہ ایک روز اُن کے دروازہ پرایک فقیر نے دستک دی اور صدا لگائی،آپؒ کی والدہ محترمہ نے آپؒ کواٹھائے ہوئے ،اس سوال کرنے والے کو حسبِ استطاعت کچھ دینے کے لیے گئیں،جب اللہ کے اُس بندے کی نظر آپ ؒپر پڑی ،تو ”اللہ والے“ نے آپ ؒکی والدہ سے کہا کہ ”تیرا یہ بیٹابڑے نصیب والا ہے ،اللہ نے تم پر بہت بڑا احسان کیا ہے تم اس بچے کو سبز کپڑے پہنایا کرو۔“

علم دین قدرے بڑے ہوئے تو آپؒکے والدنے آپؒ کو محلہ کی ایک مسجد میں داخل کر وا دیا ،غازی علم دین تعلیمی سلسلہ زیادہ دیر جاری نہ رکھ سکے ۔اور آپ کے والد اپنے ساتھ کام پر لے جانے لگے،زندگی کے شب وروز ہنسی خوشی بسر ہوتے رہے ، جب آپؒ جوان ہوئے تو ،ماموں کی بیٹی سے منگنی کر دی گئی۔ انہی دنو ں ایک ہندو پبلشر راجپال نے حضور اقدس ﷺ کی شانِ مقدس میں گستاخی کرتے ہوئے ناقابلِ برداشت خیالات پر مبنی ”رنگیلا رسول “ نام کی کتاب شائع کی ، جس کی اشاعت پر ہندوستان بھر کے مسلمان آگ بگولہ ہوتے ہوئے ،ماہی بے آب کی طرح تڑپ اُٹھے۔

اس سلسلہ میں عبدالعزیز اور اللہ بخش نے بدبخت راجپال کو نقصان پہنچانے کی کوشش تو کی ، مگر ناکام رہے اور عدالت نے ان پر حملہ کرنے کے جرم میں دونوں کو سخت سزائیں دیں، اُس وقت انگریز وں کی حکومت تھی ،انگریز اور ہندو ”مسلم دشمنی“ کی بنا پر ایک ہی ڈگر کے مسافر تھے ، اور راجپال اور اس کی مکروہ کتاب کی اشاعت کے تحفظ کرنے میں پیش پیش تھے ،اس کے علاوہ مولوی نور الحق مرحوم (جو اخبار ”مسلم آﺅٹ لک“ کے مالک تھے )نے اخبار میں راجپال کے خلاف لکھا تو اُنہیں بھی دو ماہ کی سزا کے ساتھ ایک ہزار روپیہ جرمانہ بھی کیا گیا۔

مسلمان جگہ جگہ احتجاج اور مظاہرے کر رہے تھے ، جلسے جلوس اور اخبارات خبرو ں سے بھرپور تھے ....غالباََ 31مارچ یا یکم اپریل تھا ، کہ غازی علم دین شہید ؒ نے اپنے بڑے بھائی شیخ محمد دین کے ساتھ ایک جلسہ میں نوجوان مقرر کو سُنا،جو راجپال اور اُس کی کتاب کا ذکر کرتے ہوئے ، مسلمانوں کے دکھ کا اظہار کر رہا تھا اور مسلمانوں کو بیدار کر رہا تھا، کہ جاگو! مسلمانو ! جاگو! بد بخت راجپال واجب القتل ہے ، ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لئے اپنی جانیں قربان کر دو ۔“

تقریر کے ان سنہری الفاظ نے علم دین شہید ؒ کے قلب و روح میںایک ہلچل سی مچا دی ،اور ان الفاظ کی گونج لئے ہوئے گھر پہنچے اور گستاخِ رسول کو قتل کر نے کا عہد کیا، آخر کار 6اپریل 1929ءکو انار کلی سے ایک چھری خریدی اور اُسے خوب تیز کروا کر عشرت پبلشنگ ہاﺅس کے سامنے واقع دفتر راجپال پہنچے ،کہ راجپال بھی اپنی کار میں وہاںآ گیا، بدبخت راجپال کو دیکھتے ہی علم دین ؒکی آنکھوں میں خون اُتر آیا ،راجپال کی حفاظت کے لئے حکومت نے پولیس تعینات کر رکھی تھی ،لیکن اس وقت راجپال کی ہر دوار یاترا سے واپسی کی اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے پولیس اہلکار حفاظت کےلئے ابھی نہیں پہنچے تھے ، اور راجپال اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنی آمد کی اطلاع دینے کے لئے فون کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ عظیم مردِ مجاہد غازی علم دین ؒدفتر کے اندر داخل ہو گئے ، اُس وقت راجپال کے دو ملازم کیدار ناتھ اور بھگت رام موجود تھے ، لیکن اُن دونو ں کی موجودگی علم دین کے جذبے کے آگے بے دم ہو کر رہی گئی ، اور اُن ؒ کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی ،اور انہوں نے چھری کے پے در پے وار کر تے ہوئے بدبخت راجپال کو جہنم واصل کر دیا، بعد میں علم دین کو گرفتار کر لیا گیا اور دفعہ 302کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

10اپریل ساڑھے دس بجے مسٹر لوائسٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی، استغاثہ کی طرف سے ایشر داس کورٹ ڈی ایس پی پیش ہوا،جبکہ علم دین ؒکی طرف سے مسٹر فرخ حسین بیرسٹراور خواجہ فیروز الدین بیرسٹر رضا کارانہ طور پر پیش ہوئے ۔

22مئی 1929ءکو سیشن جج لاہور نے علم دین ؒ کو سزائے موت کو حکم سنایا، 15جولائی کو غازی علم دین ؒ کو سنائی جانے والی سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی، جس کی سماعت جسٹس براڈ وے وجسٹس جانسن نے کی اور 17جولائی کو یہ اپیل خارج کردی گئی، جس کے خلاف پریوی کونسل میں کوشش کی گئی، جو 15اکتوبر کر خارج ہوگئی اور غازی علم دین شہیدؒ کی سزائے موت بحال ہی رہی ،

مسلمانوں نے ہائی کورٹ میں علم دین کے مقدمہ کی پیروی کے لئے قائد اعظم کی خدمات بھی حاصل کیں،ماہرینِ قانون کا یہ خیال تھا کہ اگرغازی علم دین اپنے جرم سے انکار کر دیں ، تو مقدمہ کافی حد تک کمزور اور قابلِ بریت ہو سکتا ہے ، لیکن علم دین شہید نے کسی ایسی تجویز پر عمل کرنے سے یکسر انکار کر دیا،کہا جاتا ہے اس سلسلہ میں نمائندہ وفد نے علامہ اقبالؒ سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ علم دین شہید کو اپنے اقبالِ جرم سے انحراف کی ترغیب دیںلیکن علامہ اقبال ؒ نے روتے ہوئے فرمایاکہ” میرے نزدیک اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اُس نے میرے رسولِ مقبول ﷺ کو کبھی میلے لباس میں دیکھا ہے تو وہ بھی قابل گردن زدنی ہے “اور پھر وہ تاریخی جملہ کہا جو آج بھی عاشقانِ رسولﷺ کے کانوں میں گونجتا نظر آتا ہے کہ ” اَسی گلاں ای کردے رہ گئے تے بازی ترکھان دا پتر لے گیا“مزید فرمایا کہ وہ علم دین شہید ؒ کو اس عظیم اعزاز سے محروم کرنے کا مشورہ کیسے کیسے دے سکتے ہیں ۔ “

اپیل خارج ہونے پر مسلمانوں میں سخت اشتعال پھیل گیااور لاہور میں فساد کے خطرے کے پیش ِنظر،3اکتوبر1929ءکو غازی علم دین ؒ کورات تقریباََساڑھے نو بجے گوجرانوالہ اور وہاں سے بذریعہ ریل گاڑی میانوالی روانہ کیا گیا۔میانوالی جیل میں موجود عملہ اور قیدی غازی علم دین ؒکو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ غازی علم دین ؒنے سپریٹنڈنٹ جیل کو آخری وصیت لکھوائی ،جس میںوارثان کو اسلامی احکامات کی پابندی کی تلقین کی،مزار کی تیاری کے متعلق اوراپنے لباس و دیگر اشیاء،رشتہ داران کودینے کی ہدایات صادر فرمائیں۔

31اکتوبر1929ءکادن امتِ مسلمہ کیلئے بڑارنجیدہ اورمغموم تھا،جبکہ غازی علم دین ؒکیلئے انتہائی خوشی وشادمانی کا دن تھا۔ غازی علم دین شہیدؒنے وصیت فرمائی تھی کہ انہیں میانی صاحب لاہور میں دفن کیا جائے،مگر انگریزوں کا خیال تھا کہ اگر وصیت کے مطابق عمل درآمد کرتے ہوئے میت لاہور بھیجی گئی ،تو میانوالی شہر سے لے کر لاہور تک کے تمام مسلمان،لاہور پہنچ جائیں گے اور ہندو مسلم فساد کھڑا ہو جائے گاجسے روکنا مشکل ،بلکہ ناممکن ہو جائے گا،ان خدشات کے پیشِ نظراس وقت کے گورنر پنجاب ڈی ماﺅنٹ مورنسی نے ہدایت جاری کردی کہ غازی علم دین ؒکو میانوالی ہی میں قیدیوں کے قبرستان میں دفن کردیا جائے۔ غازی علم دین بشہیدؒ کو میانوالی میں دفنائے جانے پر،مسلمانوں میں غم و غصہ کی شدید لہر دوڑ گئی،قریب تھا کہ بہت بڑا فساد کھڑا ہوتا ....وقت کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے،علامہ محمد اقبالؒ ،سر محمد شفیع،مولانا غلام محی الدین قصوری،میاں عبدالعزیز اور دیگر احباب نے وفد کی صورت میں گورنر پنجاب سے ملاقات کرتے ہوئے میت کی حوالگی اور اسے لاہور میں دفن کرنے کا مطالبہ پیش کیا،گورنر پنجاب نے امن کے پیشِ نظر ،چند شرائط پیش کیں،جس کی ذمہ داری وفد کے اراکین نے قبول کی۔ 13نومبر 1929ءکو غازی علم دین شہیدؒ کی میت قبر کشائی کرواکر نکلوائی گئی،جو اسی طرح خوشبو و¿ں سے معطر اور ترو تازہ تھی۔جسد ِمبارک کیلئے تابوت ،سید مراتب علی شاہ نے اپنی نگرانی میں تیار کروایا،شہیدؒ کا جسد ِ مبارک 13نومبرکو بذریعہ ٹرین ساڑھے چار بجے دوپہر میانوالی سے لاہور چھاو¿نی کے ریلوے سٹیشن پر تقریباََصبح ساڑھے پانچ بجے پہنچا۔جسے سنٹرل جیل کے حکام نے تقریباََپونے سات بجے حضرت علامہ محمد اقبالؒ اور سر محمد شفیع وغیرہ کے سپرد کردیا۔ 14نومبرکو تقریباََساڑھے دس بجے قاری محمد شمس الدین خطیب مسجد وزیر خان،نے نمازِ جنازہ پڑھانے کی سعادت حاصل کی ۔

مزید : بلاگ