کرپشن گیمز،بُکیا کون؟

کرپشن گیمز،بُکیا کون؟
کرپشن گیمز،بُکیا کون؟

  

تحریر:چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک یعنی آزادی کے ستر سال بعد بھی پاکستان کرپشن سے آزاد نہ ہوسکا۔ملک کا ہر طبقہ کسی نہ کسی طرح کی کرپشن میں ملوث ہے۔بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا جس کا جہاں بس چلتا ہے وہ وہاں کرپشن کا کھیل ضرور کھیلتا ہے۔جیسے ہم انگریزی کا the جہاں موقع ملے لگا لیتے ہیں ایسے پنجابی کا ”دا “بھی پاکستانی موقع دیکھ کر ضرور لگاتے ہیں۔”دا “بھی کرپشن کی ایک قسم ہے۔معذرت کے ساتھ کرپشن بھی ایک کھیل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔بلکہ میرے نزدیک تو کرپشن ہمارا قومی کھیل بن چکا ہے۔جسے ہمارے لیڈران بڑے شوق سے کھیلتے ہیں۔ہمارے افسران بھی اس کھیل کے دل و جان سے متوالے ہیں۔بیوروکریٹ تو اس کھیل کے بُکیے ہیں۔اس کھیل میں امپائر بھی ہیں ۔امپائر بعض اوقات کھیل کو محدود کر دیتے ہیں اور بعض اوقات لمبی اننگز چلنے دیتے ہیں۔

پاکستان میں کرپشن کا کھیل ہر سطح پر کھیلا جاتا ہے۔وفاقی سطح پر صوبائی سطح پر اور لوکل سطح پر۔کھیل کے اصول میدان اور آلات سطح کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔جتنی چھوٹی سطح کا کھیل اتنا ہی چھوٹا اور جتنی ہی بڑی سطح کا کھیل اتنا ہی بڑا۔ہر کھیل کی طرح اس کھیل کے کھلاڑیوں کا بھی ایک منفرد اسٹیٹس ہوتا ہے۔کچھ ٹیکنیکل کھیل کھیلتے ہیں کچھ تجربہ کار ہوتے ہیں ۔اسی طرح چھوٹے بڑے کھلاڑی۔تجربہ کار بڑے کھلاڑی ہر حال میں سروائیو کر جاتے ہیں ۔چھوٹے کھلاڑی ہی پکڑ میں آتے ہیں۔اور کپتان کی مرضی سے ان آﺅٹ ہوتے رہتے ہیں۔

کرپشن معاشرے میں موجود برائیوں کی جڑ ہے۔کرپشن کی وجہ سے غربت و نا انصافی پیدا ہوتی ہے۔پھر چوری ڈکیتی قتل و غارت جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں۔معاشرہ تباہی کی طرف چلا جاتا ہے۔ہوس و لالچ بھی کرپشن کی پیداوار ہیں۔کرپشن گزشتہ ستر سالوں سے ملک کو کھوکھلا کر رہی ہے۔کھوکھلا ہونے کی صورت میں ملک میں عدم استحکام پھیل رہا ہے۔بد امنی یے ایمانی زور پکڑ رہی ہے۔کرپشن کے بڑے کھلاڑی بڑے چالباز اور چالاک ہیں۔کسی بھی صورت میں قانون کی گرفت میں نہیں آتے کیونکہ قانون کو بھی کھیل کا حصہ بنا لیتے ہیں۔عدلیہ کی کمزوری تو گزشتہ کئی روز سے دیکھ رہا ہوں۔عدالتی احکامات کو حکومت ہوا میں اڑا دیتی ہے۔اپوزیشن بھی اپنی سیاست چمکانے اور اپنی باری کے لالچ میں عدالت کو مذاق سمجھتی ہے۔حکومت اپنا احتساب ہر حال میں ٹالنا چاہتی ہے کیوں کہ وہ ہے ہی کرپٹ۔اپوزیشن احتساب نہیں بلکہ احتساب کے نام پر اپنی سیاسی دکانداری چمکانا چاہتی ہے کیونکہ انہیں بھی بڑی کرسی پر بیٹھ کر بڑے کھیل کھیلنے کے خواب آتے ہیں۔گزستہ چند دنوں کی ملکی صورتحال سے حکومت اور اپوزیشن کی نیت اور مفاد کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔مگر کوئی ماننے کو تیار ہی نہیں کیونکہ سب اس سسٹم کا حصہ ہیں سب کے ذاتی مفادات اسی میں ہیں۔پاکستانی عوام کو کرپٹ عناصر ہمیشہ سے ہی بے وقوف بناتے رہے اور بنا رہے ہیں۔افسوس چھوٹے تین سال کے بچے کے قاتل حکومت اور اپوزیشن بچے کے قتل پر بھی دکانداری چمکا رہے ہیں۔بچے کے غریب اور بے بس باپ کی آواز کسی نے نہیں سنی جو کہہ رہا تھا یہ سب بڑے لوگ ہیں ہم غریب لوگ انہیں کیا کہہ سکتے ہیں۔کسی نہیں سوچا کے تین دن کے بچے کی ماں تو مفلوج ہی ہو گئی ہوگی۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ عرصہ دراز سے سیاسی لیڈران ہمیں استعمال کر رہے ہیں اور ہم ہو رہے ہیں۔یہ مفاد پرست کرپٹ اور کرسی کے لالچی عوام کو لڑوا کر خود پھر ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔افسوس کہ سرحدوں پر بھارتی اشتعال انگیزی جاری ہے۔کشمیری بے چارے بے بس ہماری راہ تک رہے ہیں۔سی پیک اور گوادر سولیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔بھارتی خفیہ ایجنسی راہ بلوچستان اور کراچی میں سازشوں میں مصرورف ہے۔اور ہماری حکومت اندرورنی معاملات کو نپٹانے کی بجائے مزید بگاڑ رہی ہے۔ہماری اپوزیشن ملکی سلامتی خطرے میں ڈال کر اپنی دکان داری چمکا رہی ہے۔سب اپنے مفادات اپنے دفاع کے لئے مصروف ہیں۔ملکی سلامتی اور ملکی دفاع کی کسی کو پرواہ نہیں۔پاک آرمی ہی اس وقت پاکستان کی خیر خواہ نظر آرہی ہے۔باقی عوام و حکمران اور باقی لیڈران آج کل تماشوںمیں مصروف ہیں۔سب ڈرامے باز ہیں۔ملکی بہتری ان سب کا احتساب مانگتی ہے۔جب ہر عام و خاص احتساب سے گزرے گا تب ہی ملکی بہتری ممکن ہے۔ہمیں موجودہ حالات میں ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں الزام کی زد میں آنے والے کو فوری معطل کیا جائے اور جس پر الزام ثابت ہوجائے اسے ہمیشہ کے لئے بین کیا جائے۔جس پر الزام ثابت نہ ہو اسے فوری بحال کیا جائے۔احتساب کا موسم تو ہے کاش سب کا احتساب ہوجائے۔ کاش سب کرپٹ اور لالچی سلاخوں کے پیچھے ہوں۔

مزید : بلاگ